’جب انسٹاگرام نے مجھے سہارا دیا‘

ایشلے پونڈر اور کے سکا

،تصویر کا ذریعہAshleigh Ponder/Kay Ska

،تصویر کا کیپشنایشلے اور کے کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام چمیونیٹی نے ان کی زندگی کے بے حد مشکل دور میں مدد کی ہے۔
    • مصنف, بیکی مورٹن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

پانچ برس قبل ایشلے انسٹاگرام پر اپنی سیلفی شیئر کرنے کے بارے میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ چودہ برس کی عمر میں انہیں پتہ چلا کہ انہیں اینوریکزیا (بھوک کم لگنے کی بیماری) ہے۔ ان میں خود اعتمادی کی کمی تھی۔

اسی دوران انہیں ایک ایسی انسٹاگرام کمیونٹی کے بارے میں پتہ چلا جہاں ان کی طرح کھانے پینے کی عادات سے متاثر افراد اپنی مشکلات کے بارے میں پوسٹ شیئر کررہے تھے۔

ایشلے نے بھی اپنا ایسا ہی ایک اکاؤںٹ بنانے کا فیصلہ کیا جہاں پوسٹ کی جانے والی تصاویر سے انھیں ہر دن کھانے پینے کی مقدار کا اندازہ ہو سکے۔

انھوں نے بتایا کہ ‘میری انسٹاگرام فیڈ مجھے اس بات کی یاد دلاتی تھی کہ میں نے دن بھر میں کتنا کھایا اور مجھے احساس ہونے لگا کہ اتنا کھانا واقعی کافی نہیں ہے۔ مجھے لگنے لگا کہ اس بارے میں کچھ کرنا پڑے گا۔‘

ہیش ٹیگز کے استعمال سے انھوں نے اپنے فالوورز کا گروپ بنا لیا جو ان کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے تھے۔ ان تبصروں میں وہ ان کی ہمت بندھاتے اور اس طرح مشکل وقت سے نمٹنے میں مدد کرتے۔

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں, 1
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام, 1

Presentational white space

گذشتہ برس ہونے والے ایک سروے میں انسٹاگرام کو نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے بدترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم قرار دیا گیا تھا۔

اس سروے میں اس بات کا جائزہ لیا گیا تھا کہ تصاویر شیئر کرنے پر مبنی یہ ایپ نوجوانوں میں مختلف اقسام کی محرومی کے احساس اور بے چینی میں اضافہ کر رہی ہے۔

لیکن ایشلے کے معاملے میں اس ایپ نے ان کی صحتیابی میں مدد کی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس ایپ نے مجھے احساس دلایا کہ میں اکیلی نہیں ہوں، کیوں کہ اور لوگ بھی میری ہی جیسی پریشانی سے گزر رہے تھے۔‘

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں, 2
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام, 2

Presentational white space

کے سکا کا خیال ہے کہ انسٹاگرام کی مدد سے ذہنی صحت کے بارے میں منفی خیالات کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

تئیس سالہ کے سکا نے عمر کا ایک بڑا حصہ بے چینی اور ڈیپریشن میں گزارا، لیکن وہ اپنی تکلیف کے بارے میں اپنے رشتہ داروں یا دوستوں سے بات نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے اپنا تجربہ انسٹاگرام پر شیئر کرنا شروع کر دیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’ابتدائی دنوں میں انسٹاگرام میرے لیے صرف اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی جگہ تھا۔ پھر لوگوں نے میری پوسٹ پر تبصرہ کرنا شروع کر دیا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ بہت سے لوگ میرے احساسات کو سمجھ پا رہے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میرا کوئی دوست مجھے اتنا سہارا نہیں دے سکتا تھا جتنا مجھے یہاں ملا، میرے لیے یہ سب عجیب تھا کہ لوگ واقعی آپ کے ساتھ ہیں۔‘

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں, 3
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام, 3

Presentational white space

کچھ اسی طرح ایما فورستھ نے محسوس کیا جب وہ تمام کوششوں کے بعد بھی حاملہ نہیں ہو پا رہی تھیں۔

وہ دو برس سے حاملہ ہونے کے لیے آئی وی ایف کے طریقہ کار سے کوشش کر رہی ہیں۔ وہ بانجھ پن کے بارے میں جاری پوڈکاسٹ ’بگ فیٹ نیگیٹیو‘ کی شریک میزبان بھی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس سے زیادہ اکیلا پن آپ کو کبھی اور محسوس نہیں ہو سکتا، اور اس احساس کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس سے خود متاثر ہوں۔ آپ کے والدین، آپ کے دوست اور بیشتر معاملوں میں تو آپ کا شوہر بھی یہ سمجھ نہیں پاتا۔‘

لیکن دو ماہ قبل انھوں نے خود اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ انفرٹیلیٹی اونلی کے نام سے بنایا۔ اور جلد ہی بے شمار ہمت بندھانے والے پیغامات حاصل کیے۔

آن لائن ملنے والی متعدد خواتین سے ان کی دوستی ہو گئی اور اب وہ ان کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں, 4
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام, 4

Presentational white space

ان تینوں ہی خواتین کا خیال ہے کہ انسٹاگرام کے چند عیب بھی ہیں۔ کھانے پینے کی عادات سے متاثر افراد کے لیے انسٹاگرام پر موجود تصاویر میں جسم کی خوبصورتی پر مرکزی توجہ تکلیف کا باعث ہو سکتا ہیں۔

ایشلے کا خیال ہے کہ کسی کی خوبصورت تصویر دیکھ کر آپ بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ میں بھی اس کی طرح دکھنا چاہتی ہوں۔

کے سکا کہتی ہیں کہ اس بات پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ ہم انسٹاگرام پر کسے فالو کر رہے ہیں اور وہ ہمیں کس طرح متاثر کر رہا ہے۔

کے سکا

،تصویر کا ذریعہKay Ska

،تصویر کا کیپشنکے ذہنی صحت کے بارے میں بلاگنگ کرتی ہیں

تاہم ایما کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام نے ان کی زندگی کی اس خلا کو پر کیا ہے جسے ڈاکٹر بھی نہیں پر کر پا رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’بانجھ پن کا علاج کرنے والے کلینک آپ کا اس طرح علاج کرتے ہیں جیسے آپ کوئی مشین ہوں جس کی مرمت کی جانی ہے۔ لیکن آپ کے ذہن میں جو کچھ چل رہا ہوتا ہے وہ اس بارے میں غور نہیں کرتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ انسٹاگرام پر ملنے والے لوگوں نے انہیں ذہنی تکلیف سے لڑنے میں مدد کی ہے۔