آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پائلٹس کو اڑن طشتریاں دکھائی دیں یا ٹوٹا تارا؟
آئرش ایوی ایشن اتھارٹی ان اطلاعات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں پائلٹس نے کہا کہ انھیں آئرلینڈ کے جنوب مغربی ساحل پر آسمان میں تیز روشنی نظر آئی اور اڑن طشتریاں دکھائی دیں۔
اس کا آغاز نو نومبر کو مقامی وقت صبح چھ بج کر 47 منٹ پر اس وقت ہوا جب برٹش ایئر ویز کی پائلٹ نے شینن ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔
انھوں نے دریافت کیا کہ کیا اس علاقے میں فوجی مشقیں ہو رہی ہیں کیونکہ کچھ بہت تیزی سے حرکت میں ہے۔
ایئر ٹریفک کنٹرولر نے انھیں مطلع کیا کہ کسی قسم کی مشقیں نہیں ہو رہیں۔
برٹش ایئر ویز کی یہ پرواز کینیڈا کے شہر مونٹریال سے ہیتھرو جا رہی تھی۔ پائلٹ نے کہا کہ ’بہت تیز روشنی‘ ہے اور ایک شے ان کے جہاز کے ’بائیں جانب آئی اور پھر تیزی سے شمال کی جانب تیزی سے مڑ گئی‘۔
پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو بتایا کہ وہ یہ سوچ رہی ہیں کہ یہ کیا شے ہو سکتی ہے تاہم یہ شے جہاز کے ساتھ ٹکراؤ کی پوزیشن میں نہیں آئی۔
ورجن فلائٹ کے ایک اور پائلٹ نے بھی اس گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ شہاب ثاقب ہو۔
اس پائلٹ نے بتایا کہ کئی اشیا ایک ہی جیسی حرکت میں ہیں اور ان سے بہت تیز روشنی نکل رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ورجن فلائٹ کے پائلٹ نے مزید کہا کہ انھوں نے دائیں جانب دو تیز روشنیاں دیکھیں جو تیزی سے اوپر کی جانب گئیں۔
ایک پائلٹ نے کہا کہ ان اشیا کی رفتار بہت تیز تھی شاید میک 2 یعنی آواز کی رفتار سے دگنی۔
یہ آخر کیا ہو سکتا ہے؟
ارمغ آبزرویٹری اینڈ پلینیٹیریئم کے ماہر فلکیات اپوسٹولس کرسٹو کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ پائلٹس نے جو دیکھا وہ دھول ہو جو بہت تیز رفتاری سے سفر کر رہی ہو۔
انھوں نے کہا ’زیادہ امکان ہے کہ یہ شوٹنگ سٹار ہوں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ بہت چمکدار تھا تو عین ممکن ہے کہ یہ کسی شے کا ایک بہت بڑا ٹکڑا ہو۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پائلٹس کی وضاحت سے ان کو اندازہ نہیں ہو رہا لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ شے اخروٹ یا سیب کے سائز کا ہو۔
ماہر فلکیات اپوسٹولس کرسٹو نے کہا کہ نومبر میں عام طور پر اس قسم کی اشیا بہت نظر آتی ہیں۔
’کہا جا رہا ہے کہ ان اشیا پر سے کچھ اتر رہا تھا اور جہاز کے قریب سے گزرے۔ ایسا ہی اس بڑے پتھر کے ساتھ ہوتا ہے جو خلا سے زمین کی فضا میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔‘
آئرش ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’نومبر نو کو چند طیاروں نے غیر معمولی فضائی حرکات و سکنات پر رپورٹ کی۔ ان رپورٹس کی تحقیقات کی جائیں گی۔‘
امریکی فائٹر پائلٹ نے کیا دیکھا؟
گذشتہ سال نیو یارک ٹائمز نے امریکی فضائیہ کے ایک پائلٹ کی ویڈیو کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ پائلٹ نے اڑن طشتریاں دیکھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ان اڑن طشتریوں کی ویڈیو ایک پروگرام کے تحت 2004 میں بنائی گئی تھی اور امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کو 2012 میں بند کر دیا گیا تھا۔
اس ویڈیو میں پائلٹ اڑن طشتریوں کو دیکھ کر کیا کہتا ہے؟
پائلٹ: یہ ڈرون ہے
پائلٹ: یہ تو بڑی تعداد میں ہیں، اوہ!
پائلٹ: یہ ہوا مخالف پرواز کر رہے ہیں اور ہوا کی رفتار 120 ناٹس مغرب کی جانب ہے
پائلٹ: اس کو دیکھو
پائلٹ: اس شے کو دیکھو یہ گھوم رہی ہے۔