مریض کے سفید خلیوں سے کینسر کے علاج کی منظوری

امریکہ میں حکام نے پہلی مرتبہ ایک ایسے طریقۂ علاج کی منظوری دے دی ہے جس میں مریض کے اپنے مدافعتی نظام کو تبدیل کر کے کینسر کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

امریکہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے اور طب کا شعبہ ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

دوا ساز کمپنی نواٹرس ’لوِنگ ڈرگ تھیراپی‘ نامی اس طریقۂ علاج کے لیے چار لاکھ 75 ہزار ڈالر لے رہی ہے اور اس سے خون کے ایک مخصوص قسم کے سرطان کے تقریباً 83 فیصد مریض شفایاب ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں بھی ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ سرطان کے علاج کے لیے یہ ایک بہترین قدم ہے۔

یہ طریقۂ علاج ہر مریض کے لیے مختلف اور صرف اسی کے لیے مخصوص ہوتا ہے اور اسی وجہ سے یہ روایتی طریقوں جیسے کہ کیموتھراپی سے مختلف ہے۔

اس کا نام کار۔ٹی رکھا گیا ہے اور اسے مریض کے ہی جسم سے خون کے سفید خلیے نکال کر تیار کیا جاتا ہے۔

ان خلیوں کو جینیاتی سطح پر تیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ سرطان کو نشانہ بنائیں۔ اس کے بعد انھیں مریض کے جسم میں واپس ڈال دیا جاتا ہے جہاں وہ خود ہی افزائش پاتے ہیں۔

اس دوا کے انسانی تجربات کے مرحلے کے دوران انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے تھے اور کچھ مریض پانچ سال سے سرطان سے بچے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ انھوں نے اتنی کامیاب دوا پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کار۔ٹی ٹیکنالوجی کی ادویات (یعنی خون کے سفید خلیوں کو پروگرام کر کے استعمال کرنے کا طریقہ) صرف خون کے کینسر ہی نہیں بلکہ دیگر قسم کے کینسر کے علاج میں بھی مددگار ہو سکتی ہیں۔

تاہم اب تک کے نتائج کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹھوس ٹیومرز کا علاج قدرے مشکل ہے۔