فلکیات کی تصاویر کے مقابلے میں شامل بہترین تصاویر

اس سال کے مقابلے میں فلکیات سے منسلک مختلف نوعیت کی تصاویر ہیں جن میں سے چند کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

ایک ہارتی ہوئی جنگ

ہائی ٹونگ یو کی لی گئی اس تصویر میں ملکی وے کہکشاں کو بیجنگ میں نیشنل آسٹرونومیکل سوسائٹی کی ریڈیو ٹیلی سکوپ کے اوپر دیکھا جا سکتا ہے۔

فوٹوگرافر ہائی ٹونگ یو کے مطابق 'یہ تصویر روشنی سے ہونے والی آلودگی ظاہر کرتی ہے جو برقی مقناطیسیت کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں فلکیات کی مشاہدہ کرنے والی مختلف رصدگاہوں کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے اور انھیں 'اندھا' اور 'بہرا' کر دیتی ہے۔'

آؤرورل کراؤن

یولیا ژولیکووا کی لی گئی اس تصویر میں شمالی قطبی روشنی یعنی آؤرورا بوریالس کو روس کے علاقے مرمانسک میں برف سے ڈھکے درختوں کے اوپر دیکھا جا سکتا ہے۔

کریسنٹ مون اوور نیڈلز

آئنسلی بینیٹ نے انگلینڈ میں آئل آف وائٹ میں واقع نیڈلز لائٹ ہاؤس کے اوپر ابھرتے ہوئے ہلال کی تصویر لی۔ نیا چاند ہونے کے باوجود اسے پیچھے سے آنے والی سورج کی روشنی کی وجہ سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ایسٹرن پرامنینس

سورج کی سطح سے نکلنے والی شعاعوں کے اس منظر کو پال انڈریو نے محفوظ کیا ہے۔ سورج سے نکلنے والی شعاعیں یعنی پرامنینس مختلف شکل و صورت اور مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔

فال ملک

برانڈن یوشی زاوا کی کیلیفورنیا میں خزاں کے موسم میں لی گئی اس تصویر میں ایسٹرن سیرا کے پہاڑی سلسلے کے عقب میں ملکی وے کہکشاں کا دلکش منظر دیکھا جا سکتا ہے۔

ہسٹل اینڈ پیس فل

ہانگ کانگ کے سب سے اونچے پہاڑ وکٹوریا پیک سے پرسکا لا کی اس تصویر میں شہر کی چہل پہل اور افراتفری کا موازنہ پرامن اور ستاروں سے بھرے آسمان سے کیا جا سکتا ہے

تصویر میں موجود پیلے رنگ کی دھند درحقیقت روشی کی آلودگی ہے۔

اگنائٹ دی لائٹس

فوٹوگرافر نکولس الیگزانڈر اوٹو طویل چڑھائی کے بعد ناروے کے لوفوٹن جزیرے کے ساحل پر پہنچے تو اس وقت رات ہو چکی تھی۔ اس چڑھائی میں ان کو شمالی قطبی روشنی کمزور نظر آئی لیکن جب وہ ساحل تک پہنچے تو وہاں ان کو خوبصورت روشنیوں سے چکا چوند آسمان نظر آیا۔

شوٹنگ سٹار اینڈ جوپیٹر

راب بویس کی اس تصویر میں امریکی ریاست پورٹ لینڈ کے آسمان میں ایک جانب شہاب ثاقب نظر آ رہا ہے جبکہ دوسری جانب سیارہ مشتری چمکتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

ڈے لائٹ ٹرانزٹ

ڈانی کاگزیٹ کی دن کے وقت لی گئی اس تصویر میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن (آئی ایس ایس) کو چاند کی سطح کے سامنے دیکھا جا سکتا ہے۔ آئی ایس ایس کی اتنی واضح نظر آنے کی وجہ سورج کی روشنی ہے جو اس پر نو ڈگری کی اونچائی سے پڑ رہی ہے۔ اس تصویر کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کی رد و بدل یا کیمرا ٹرک کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔

دی روڈ بیک ہوم

روزلان مرزلیاکوو نے سویڈن میں اپنے گھر جاتے ہوئے یہ تصویر لی جس میں زمین کے کرہ ارض میں سب سے زیادہ اونچائی پر بننے والے بادل نظر آ رہے ہیں۔ ناکٹی لوسنٹ کلاؤڈز کے نام سے جانے والے یہ بادل سطح زمین سے 61 کلومیٹر (تقریباً دو لاکھ فیٹ) کی اونچائی پر بنتے ہیں۔

نئیر ارتھ آبجکیٹ

پچھلے سال اکتوبر میں 2003 وائی ٹی ون نامی سیارچہ زمین سے صرف تین ملین میل کے فاصلے سے گزرا جو کہ فلکیاتی علم کے حساب سے نہایت قریب ہے۔ ڈیرک رابنسن نے یہ تصویر لی ہے۔

جیلی فش نبیولا

ستاروں کا جھرمٹ جیمینی میں آئی سی 443 نامی سپر نووا جو جیلی فش سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ تصویر کرس ہیپی نے بنائی ہے۔