کیسینی زحل کے کرہ ہوائی سے گزرنے کے قریب

خلائی جہاز کیسینی زحل تک پہنچنے کے اپنے دو دہائیوں پر محیط مشن کی تکمیل کا آخری مرحلہ شروع کر چکا ہے جس کے لیے وہ زحل کے نہایت قریب سے پانچ دفعہ گزرنے کے بعد سیارے کے کرہ ہوائی سے گزرے گا۔

کیسینی مشن زحل کے ہوائی کرہ کے مرکب کا تجزیہ کر رہا ہے اور مزید نیچے جانے سے وہ اس کی سطح کے کیمیائی مرکب اور زحل کے اندرونی ڈھانچے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر سکتا ہے۔

سائنسدانوں کو امید ہے کہ اگلے ماہ تک کیسینی 124000 کلومیٹر کی رفتار سے زحل کے کرہ ہوائی کو عبور کر کے سیارے کی سطح سے ٹکرا کر تباہ ہو جائے گا لیکن اس سے پہلے حاصل شدہ معلومات زمین تک بھیج دے گا۔

یورپی خلائی ایجنسی کے کیسینی منصوبے سے تعلق رکھنے والے نکولس الٹوبیلی نے بتایا کہ سیارہ زحل کا 75 فیصد ہائیڈروجن گیس ہے جبکہ بقیہ 25 فیصد ہیلیئم گیس ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الٹوبیلی نے کہا کہ 'توقع ہے کہ ہیلیم گیس بھاری ہونے کی وجہ سے مزید نیچے جا رہی ہے۔ کیونکہ زحل سورج سے توانائی حاصل کرنے سے زیادہ توانائی کا اخراج کرتا ہے جس کی وجہ سے سیارے کی ثقلی توانائی کم ہوتی جا رہی ہے۔'

زحل کے کرہ ہوائی پر اترتے ہوئے کیسینی پر دباؤ پڑے گا اور بہت ممکن ہے کہ اسے اپنے تھرسٹر یعنی طیارہ کو متوازن رکھنے والے آلات استعمال کرنے پڑیں تاکہ وہ گر نہ جائے لیکن سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ اسے قابو رکھنے میں کامیاب رہیں گے اور 15 ستمبر کو تباہ ہونے سے پہلے کیسینی اپنے بقیہ چار چکر مکمل کرنے میں کامیاب رہے گا۔

سائنسدانوں کے مطابق کیسینی مشن کو زحل کے بارے میں کئی اہم سوالات کے جواب درکار ہیں۔ ایک ضروری سوال وہ یہ جاننا چاہتے ہیں زحل پر دن کا دورانیہ کتنا ہوتا ہے۔

کیسینی امریکی، یورپی اور اطالوی سپیس اداروں کی مشترکہ کاوش ہے۔

اس خودکش مشن کی وجہ یہ ہے کہ کیسینی کا ایندھن ختم ہو رہا ہے۔ سائنس دانوں کی کوشش ہے کہ بلاایندھن کیسینی مستقبل میں زحل کے کسی چاند، خاص طور پر اینسیلیڈس اور ٹائٹن سے نہ ٹکرا جائے۔