سنگاپور میں چیونٹیاں پالنے کے شوقین

چیونٹی

،تصویر کا ذریعہFacebook/Singapore Ants

،تصویر کا کیپشنچیونٹیوں کو پکڑنے کے بعد ایک خاص طرح کے کنٹینر میں رکھ دیا جاتا ہے، جہاں وہ انڈے دیتی ہیں
    • مصنف, سدھواسنی ترپاٹھی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

سنگاپور سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ کرس جیسٹر چان ویسے تو ایک اوبر ڈرائیور ہیں لیکن ان کا شوق انھیں دیگر افراد سے ممتاز کرتا ہے۔

چان چیونٹياں پکڑ کر جمع کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں چيونٹياں پکڑنے کا شوق نیا نہیں ہے لیکن لوگ اسے بھولتے جا رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'آج انٹرنیٹ اور سمارٹ فون کے زمانے میں لوگ قدرتی ماحول میں نکلنا تو جیسے بھول ہی گئے ہیں۔ ہم لوگوں کو کمروں سے نکال کر قدرت کے قریب لانا چاہتے ہیں۔'

سنگاپور کے وال کو بھی چيونٹياں پکڑنے کا شوق ہے۔ 33 سالہ وال ٹیٹو آرٹسٹ اور فلمساز ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے 'چیونٹیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے، وہ چیزیں بھی جو سکولوں میں نہیں سکھائی جاتیں۔'

چان اور وال نے مل کر ایک فیس بک گروپ بنایا ہے جس کا نام 'سنگاپور اینٹس' ہے۔ اس کے ارکان کی تعداد 500 سے زیادہ ہے اور اس گروپ میں لوگ چیونٹیاں پکڑنے، جمع کرنے اور ان کی کالونی بنانے سے متعلق باتوں پر بحث کرتے ہیں۔

چیونٹی

،تصویر کا ذریعہFacebook/Singapore Ants

،تصویر کا کیپشنسینکڑوں ایسے لوگ ہیں جو اس فیس بک گروپ سے وابستہ ہو کر اپنے شوق کو برقرار رکھے ہوئے ہیں

30 سالہ سیموئیل ینجی کو اس فیس بک گروپ سے بہت مدد ملی ہے۔ سیموئل آئی ٹی پروفیشنل ہیں۔ انھوں نے 2 سال پہلے چيونٹياں پالنا شروع کی تھیں لیکن اس وقت ان کے بارے میں ان کی معلومات ناقص تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ 'اس گروپ میں آ کر مجھے اپنا شوق پروان چڑھانے میں آسانی ہوئی۔'

اس وقت سیموئل کے پاس 70 ملکہ چيونٹياں ہیں۔ انھیں بچپن سے ہی چیونٹیوں کی دنیا اپنی طرف متوجہ کرتی تھی۔ انھوں نے بتایا، 'وہ جس طرح منظم ہوکر گروپوں میں رہتی ہیں، جس طرح اپنی کالونیوں کی حفاظت کرتی ہیں، یہ سب مجھے بہت پسند ہے۔'

سیموئل کی طرح ہی سینکڑوں ایسے لوگ ہیں جو اس فیس بک گروپ سے وابستہ ہو کر اپنے شوق کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور دیگر افراد کو بھی اس بارے میں بتا رہے ہیں۔

چیونٹی

،تصویر کا ذریعہFacebook/Singapore Ants

،تصویر کا کیپشنچیونٹیوں کو پکڑ کر ابتدائی طور پر ٹیسٹ ٹیوب میں رکھا جاتا ہے

'سنگاپور اینٹس' لوگوں کو چيونٹياں پکڑنے اور پالنے کے بارے میں تجاویز دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے رجسٹرڈ اراکین کو ٹیسٹ ٹیوبز بھی فراہم کرتے ہیں جن میں پکڑی گئی چیونٹیوں کو آغاز میں رکھا جاتا ہے۔

چین کے مطابق ایک ملکہ چیونٹی کو پکڑنے میں تین سے چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ تمام ملکہ چيونٹياں افزائشِ نسل کے قابل نہیں ہوتیں۔

وان بتاتے ہیں کہ بارش کے بعد کا وقت چيونٹياں پکڑنے کے لیے سب سے بہتر ہے۔ سنگاپور میں ستمبر سے جنوری تک برسات کا موسم ہوتا ہے اور چیونٹیاں پکڑنے کے شوقینوں کے لیے یہی وقت معقول ہوتا ہے۔

ملکہ چیونٹی کو اس بڑے سر اور پیٹ والے حصے سے شناخت کیا جا سکتا ہے۔ انھیں پکڑ کر پانی اور روئی سے بھری ٹیسٹ ٹیوب میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ مریں نہیں۔ اس کے بعد انھی ایک خاص طرح کے کنٹینر میں رکھ دیا جاتا ہے، جہاں وہ انڈے دیتی ہیں. انھیں کھانے کے لیے شہد، کیڑے اور دیگر چیزیں دی جاتی ہیں۔

کرس چین

،تصویر کا ذریعہFacebook/Singapore Ants

،تصویر کا کیپشنچین کے مطابق ایک ملکہ چیونٹی کو پکڑنے میں تین سے چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے

چین اور ان کے دوست سکولوں، کالجوں اور عوامی جگہوں پر جاکر اس شوق کو بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چین نے بتایا کہ ان کے گروپ نے کئی اقسام کی چيونٹياں اکٹھی کر کے چڑیاگھر کو بھی دی ہیں۔

وہ اس کام کے لیے کوئی فیس نہیں لیتے کیونکہ ان کے خیال میں یہ ایک طرح کی سماجی خدمت ہے۔

ان کا خاندان اس شوق کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ اس کے جواب میں چین بتاتے ہیں، 'آغاز میں میرے والد کو یہ سب پسند نہیں تھا۔ انھیں لگتا تھا کہ میں اپنا وقت برباد کر رہا ہوں لیکن آہستہ آہستہ وہ مجھے سمجھنے لگے. اب میڈیا میں ہمارے بارے میں بحث ہوتی ہے اور بہت سے لوگ ہم سے وابستہ ہو رہے ہیں۔ اس شوق نے ہمیں نئی شناخت دی ہے۔''

وال چاہتے ہیں کہ مستقبل میں اسے دیگر ممالک تک بھی پہنچایا جائے تاہم انھوں نے کہا کہ 'چيونٹياں پالنا اتنا آسان بھی نہیں ہے جتنا سننے میں لگ سکتا ہے۔ یہ کھیتی باڑی جیسا ہے جس کے لیے محنت اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے۔'