برطانیہ میں تین افراد کے مشترکہ بچے کی پیدائش کی اجازت

بچہ

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

برطانیہ میں حکام کی جانب سے دو خواتین اور مرد سے بچے کی پیدائش قانونی قرار دے دی گئی ہے۔

یہ تاریخی اور متنازع اقدام بچوں کے جان لیوا جینیاتی امراض کے ساتھ پیدائش کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

نیوکاسل کے جن ڈاکٹروں نے اس جدید آئی وی ایف کو تشکیل دیا ہے وہ ہی اس نئے طریقہ کار کو پیش کریں گے۔ ان ڈاکٹروں کی جانب سے پہلے ہی بیضوں کے عطیے کی درخواست کی جاچکی ہے۔

اس عمل کے ذریعے پہلا بچے کی پیدائش سنہ 2017 کے اواخر تک ہوسکتی ہے۔

کچھ خاندانوں کے کئی بچے لاعلاج مٹوکونڈیل بیماریوں کی باعث ہلاکت ہوئی ہے۔

یہ بیماریاں صرف ماں کے ذریعے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں اور اس تکنیک میں عطیہ شدہ بیضہ اور ماں کا بیضہ اور باپ کا سپرم ملایا جائے گا۔

اس طرح پیدا ہونے والے بچے کے ڈی این اے میں عطیہ شدہ بہت کم حصہ ہوگا لیکن یہ عمل قانونی، اخلاقی اور سائنسی طور پر قابل عمل ہے۔

ہومین فرٹلائزیشن اینڈ ایمبریولوگی اتھارٹی (ایچ ایف ای اے) کی چیئرپرسن سلی چیشائر کا کہنا ہے کہ 'اس فیصلے کی تاریخی اہمیت ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'مجھے یقین ہے کہ جو فیصلہ آج ہم نے کیا ہے اس سے مریض بہت خوش ہوں گے۔'

تاہم کچھ سائنسدانوں نے اس تکنیک کی اخلاقیات پر سوال اٹھایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے جینیاتی طور پر ردبدل کیے گئے 'ڈیزائنر' بچوں کا راستہ کھل جائے گا۔

اس عمل کے لیے ایچ ایف ای اے کی جانب سے ہر کلینک اور ہر مریض کی منظوری ضروری ہے۔

تحقیق

،تصویر کا ذریعہReuters

تین افراد کے بچے کی اجازت صرف اس صورت میں دی گئی جب بچے میں مٹوکونڈریل مرض منتقل ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہو۔

کلینکس اب ایچ ایف ای اے کو تین افراد کے بچے کی آئی وی ایف ک ذریعے پیدائش کے لائسنس کے لیے درخواست کر سکتے ہیں۔

امید ہے کہ نیوکاسل ہسپتالوں کی این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور نیوکاسل نیورسٹی کی ٹیم کو سب سے پہلے اس کا لائسنس فراہم کیا جائے گا۔

ان کا ارادہ سالانہ 25 جوڑوں کو مدد فراہم کرنا ہے۔