ٹرمپ کے آنے سے اسقاطِ حمل کے حامیوں کی پریشانی

امریکہ کی ’پلینڈ پیرنٹ ہڈ تنظیم‘ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدارتی انتخاب میں جیتنے کے بعد سے ان کو ملنے والے عطیات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اسقاط حمل کے مخالفین کو امید ہے کہ وہ تنظیم کو ملنے والے سرکاری فنڈ میں کمی کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

پلینڈ پیرنٹ ہڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ تنظیم کے سرپرست نومنتخب ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ میں سقاط حمل اور برتھ کنٹرول پر اثرات سے خوفزدہ ہیں۔

تنظیم چونکہ اسقاط حمل کی سہولیات فراہم کرتی ہے اس لیے اسے کئی رپبلکنز کے غصے کی وجہ سے اپنی سو سالہ تاریخ میں سخت جنگ کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پلینڈ پیرنٹ ہڈ کے ملک بھر میں کوئی 650 طبی مراکز ہیں اور اس کی آمدن کا نصف سرکاری فندڈنگ سے آتا ہے، جس میں زیادہ حصہ میڈک ایڈ ہیلتھ انشورنس پراوگرام سے آتا ہے۔

منگل کو ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی انتخاب جیتنے اور رپبلکنز کے کانگرس پر زیادہ کنٹرول ہونے سے قانون بنانے والوں کے لیے اب یہ زیادہ آسان ہوگیا ہے کہ وہ پلینڈ پیرنڈ ہڈ کو ملنے والے فنڈ میں کمی کریں اور ساتھ میں صدر براک اوباما کے افورڈایبل کیئر ایکٹ جو کہ اوباماکیئر کے نام سے مشہور ہے، کو ختم کر دیں۔

نیشنل رائٹ ٹو لائف کمیٹی کے صدر اور اسقاط حمل کے مخالف کیرول ٹوبیئس کا کہنا ہے کہ ’میں بہت پر امید ہوں، کیونکہ فنڈ میں کمی کے لیے گذشتہ دو سالوں سے کوششیں کی جا رہی ہیں اور ہم فنڈ میں کمی کے لیے کچھ بھی کریں گے۔‘

پلینڈ پیرنٹ ہڈ فیڈریشن امریکہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کے بعد سے انھیں ملک بھر سے تقریباً 80 ہزار نئے عطیات ملے ہیں، تاہم انھوں نے عطیات کی رقم نہیں بتائی۔

پلینڈ پیرنٹ ہڈ آف گریٹر ٹیکساس کی ترجمان سارہ وہیٹ کا کہنا ہے کہ ’یہاں پر ہمارا خیرمقدم کیا گیا ہے، ہمیں عطیات دیے گئے ہیں اور رضاکارانہ طور پر کام کرنے کے اور مدد فراہم کرنے کے لیے ہم سے رابطے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب رپبلکن کے عہدیدار تنظیم کا فنڈ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ٹیکساس میں گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں بدھ کے روز آن لائن عطیات میں تین گنا اضافہ ہوا، جبکہ 125 کے قریب افراد نے رضاکارانہ طور پر کام کرنے کے لیے رابطہ کیا۔‘

مذہبی بنیادوں پر اسقاط حمل کی مخالفت کرنے والے گروپوں کے نشانے پر رہنے کے باوجود تنظیم نے خواتین اور مردوں کے لیے اپنی طبی سہولیات میں اضافہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ اسقاط حملے کے حوالے سے نو منتخب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ماضی میں ملے جلے اشارے سامنے آتے رہے ہیں۔ مارچ میں انھوں نے کہا تھا کہ جو خواتین حمل ضائع کر دیتی ہیں انھیں انھیں سزا ملنی چاہیے، لیکن بعد میں وہ اپنے اس بیان سے پیچھ ہٹ گئے تھے۔

بدھ کے روز ان کی ٹیم کا کہنا تھا کہ ’نو منتخب ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ حمل سے قدرتی موت تک بلا تفریق ہر معصوم انسان کو تحفظ فرام کرے گی۔‘