BBC Verify Logo

ایران کا خفیہ جوہری مرکز جسے صرف ایک امریکی بم نشانہ بنا سکتا ہے

ایران کے فردو جوہری مرکز اور جی بی یو-67 بنکر بسٹر بم کا ڈیجیٹل کولاج

تہران کے جنوب میں ایک پہاڑی علاقے میں زمین کی گہرائیوں میں موجود جوہری افزودگی کا ایک مرکز ایسا ہے جو ایران کے جوہری عزائم کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور اسرائیل کے اہم اہداف میں سے ایک ہے۔

اسرائیل نے ممکنہ طور پر ایران کی فضا پر تسلط حاصل کر لیا ہے لیکن فردو جوہری تنصیب - جو برطانیہ اور فرانس کو ملانے والی چینل سرنگ سے زیادہ گہرائی میں واقع تصور کی جاتی ہے - اسرائیل کے ہتھیاروں کی پہنچ سے دور رہی ہے۔

امریکہ نے اب فردو پر حملہ کیا ہے جس میں بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے ہیں اور یہ ایک ایسا اقدام ہے جو ڈرامائی طور پر مشرق وسطیٰ کی جنگ کو وسیع کر سکتا ہے۔

آئیے اس خفیہ مقام پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جس کے بارے میں ایران کا اصرار ہے کہ وہاں جاری سرگرمیاں صرف پرامن مقاصد کے لیے ہیں لیکن اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ اس کی بقا کے لیے خطرہ ہیں۔

ایران کا نقشہ جس میں تہران کو ملک کے شمال میں اور فردو کو دارالحکومت کے جنوب میں دکھایا گیا ہے

فردو میں موجود جوہری مرکز کیا ہے؟

دارالحکومت تہران سے تقریباً 60 میل (96 کلومیٹر) جنوب میں فردو کے مقام پر یورینیم کی افزودگی کا مرکز قم شہر کے قریب ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔

فردو نیوکلیئر پلانٹ شمالی ایران کے ناہموار، دور دراز پہاڑوں کے اندر گہرائی میں بنایا گیا ہے۔

اسے فضائی حملوں کو برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا جبکہ اس کا زیر زمین ہونا اسے روایتی بموں سے بچاتا ہے۔

فردو کا عمارتی کمپلیکس اصل میں سرنگوں کا ایک سلسلہ تھا جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے زیر استعمال تھا، لیکن ایران نے 2009 میں یورینیم کی افزودگی کے کارخانے کے وجود کو مغربی خفیہ اداروں کے انکشاف کے بعد تسلیم کیا۔

ایران حکام آئی اے ای آئی کے ارکان کے ہمراہ گذشتہ برس نومبر میں فردو کے دورے کے موقع پر
روئٹرز
ایران حکام آئی اے ای آئی کے ارکان کے ہمراہ گذشتہ برس نومبر میں فردو کے دورے کے موقع پر

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ عمارت دو اہم سرنگوں پر مشتمل ہے جس میں یورینیم کی افزودگی کے لیے استعمال ہونے والے سینٹری فیوجز موجود ہیں جبکہ ان سرنگوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی سرنگوں کا ایک جال بھی موجود ہے۔

فردو کی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصویر جس میں حفاظتی حصار اور شناختی چوکی دیکھی جا سکتی ہے
Planet Labs

اس سارے علاقے کو ایک باڑ کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے اور اس میں داخلے کا ایک ہی راستہ ہے جس پر شناختی چوکی بنائی گئی ہے۔

فردو کی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصویر جس میں داخلی سرنگیں دیکھی جا سکتی ہیں
Planet Labs

خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں چھ داخلی سرنگیں بھی ہیں جو زیر زمین کمپلیکس تک جاتی ہیں۔

فردو کی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصویر جس میں سپورٹ بلڈنگ اور قریبی عمارت تک جانے والی سڑک دیکھی جا سکتی ہے
Planet Labs

زمین کے اوپر، ایک بڑی عمارت بھی موجود ہے جس تک سڑک کے ذریعے رسائی ممکن ہے۔

فردو کی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصویر جس میں سپورٹ بلڈنگ اور قریبی عمارت تک جانے والی سڑک دیکھی جا سکتی ہے
Planet Labs

کیا فردو تباہ نہیں کیا جا سکتا؟

زمین کے نیچے کافی گہرائی میں ہونے کی وجہ سے فردو کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا اسرائیلی فوج کے لیے ایک منفرد چیلنج ہے۔

اس کارخانے کو کوئی معنی خیز نقصان پہنچانے کے لیے اسے ایسے ’بنکر بسٹر‘ بم سے نشانہ بنانے کی ضرورت ہوگی جو سطح کے نیچے گہرائی تک گھسنے کے قابل ہو۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کے پاس ایسے ہتھیار ہیں لیکن وہ صرف 10 میٹر (33 فٹ) سے کم گہرائی تک کارگر ہو سکتے ہیں۔ تاہم امریکہ کے پاس ایک ایسا بم ہے جو یہ کام کر سکتا ہے۔ یہ 13 ہزار کلوگرام وزنی جی بی یو-57 اے/بی میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر (ایم او پی) بم ہے۔

دفاعی انٹیلی جنس کمپنی جینز کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس بم کا وزن اور بھاری دھاتی خول اسے دھماکے سے قبل زمین کے اندر 61 میٹر تک گھسنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اگر زمین میں کنکریٹ بھرا گیا ہو تب بھی یہ 18 میٹر تک کی گہرائی تک جا سکتا ہے۔

تصویر جس میں دکھایا گیا ہے کہ انتہائی بلندی سے گرایا گیا بنکر بسٹر بم کیسے کام کرتا ہے

لیکن ایسے ایک بم کا استعمال بھی فردو کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی ضمانت نہیں تھا کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں کی سرنگیں سطحِ زمین سے 80 سے 90 میٹر نیچے ہیں اور تباہی کے لیے ایک سے زیادہ بموں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

فردو نطنز میں واقع ایران کے زیر زمین یورینیم افزودگی کے دوسرے کارخانے سے کہیں زیادہ گہرا ہے، جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ سطح زمین سے تقریباً 20 میٹر (65 فٹ) نیچے واقع ہے۔

آئرش ڈیفنس فورسز کے سابق سربراہ وائس ایڈمرل مارک میلٹ نے بی بی سی ویریفائی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان ’بنکر بسٹرز‘ کے فردو جیسے مقام کو تباہ کرنے کے امکانات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ زیر زمین سرنگیں کتنی مضبوط ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ایران کو اس قسم کے اسلحے کی تفصیلات معلوم ہوں گی۔ وہ جانتے ہوں گے کہ انھیں اس سے بچاؤ اور اس کا اثر برداشت کرنے کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا (فردو کی تنصیبات) اس اسلحے کی پہنچ سے باہر ہیں؟‘

جی بی یو-57 بم جو 2023 میں میزوری کے وائٹ مین ایئربیس پر موجود تھا
US Air Force via AP
جی بی یو-57 بم جو 2023 میں میزوری کے وائٹ مین ایئربیس پر موجود تھا

امریکہ ایران میں اہداف پر یہ بنکر بسٹر بم استعمال کرتا ہے تو اس کی ایک نشانی اس کے بی 2 سٹیلتھ بمبار طیاروں کی ڈیاگو گارسیا کے اڈے پر تعیناتی ہو گی۔ یہ اڈہ ایرانی تنصیب سے 2300 میل دور تو واقع ہے لیکن بی 2 بمبار کی رینج کے اندر ہے۔

بی 2 وہ واحد امریکی بمبار طیارہ ہے جو اس ساڑھے 20 فٹ لمبے اور 13 ہزار کلوگرام وزنی بم کو لے کر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اپریل کے اوائل میں ڈیاگو گارسیا کے اڈے پر چھ بی 2 بمبار طیاروں کی تصویر لی گئی تھی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس وقت وہاں ایسا کوئی طیارہ موجود ہے یا نہیں کیونکہ وہ حالیہ سیٹلائٹ تصویروں میں انھیں نہیں دیکھا گیا۔

 2 اپریل 2025 کو ڈیگو گارسیا کے اڈے پر موجود چھ بی 2 بمبار طیاروں کی تصویر
Planet Labs

برطانیہ کی رائل ایئرفورس کے سابق نائب آپریشنز چیف ایئر مارشل گریگ بیگویل نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ امریکہ کے لیے ڈیگو گارسیا سے بی 2 بمبار طیاروں کی پروازیں چلانا ملک کے اندر سے ایسی پروازیں چلانے سے زیادہ کارگر ہو گا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا ’ہم یہاں جو بات کر رہے ہیں وہ بنکرز کے خلاف ایک مستقل آپریشن نہیں ہے۔ اس کام کے لیے صرف ایک یا دو بموں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘

امریکہ اب اس لڑائی میں کیسے شامل ہو چکا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے کیے جن میں فردو کی تنصیبات بھی شامل ہیں۔ یہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعے میں ایک بڑے اضافے کی علامت ہے۔

ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ان حملوں کو 'ان سب میں سے اب تک کا سب سے مشکل حملہ' قرار دیا اور متنبہ کیا کہ اگر امن کی کوششیں ناکام ہوئیں تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ مزید اہداف کو درست، تیز رفتاری اور مہارت کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ واشنگٹن نے حملوں سے قبل سفارتی ذرائع سے تہران سے رابطہ کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ مزید حملوں کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی اور حکومت کی تبدیلی اس کا مقصد نہیں تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حملے سے قبل امریکہ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا تھا۔ ایران نے خبردار کیا تھا کہ کسی بھی امریکی مداخلت سے جنگ میں توسیع کا خطرہ ہے اور اس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اب خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

تحریر و پیشکش: مائیک ہلز، میٹ مرفی اور پال سارجنٹ ایڈیٹنگ: ٹام فن، بیانکا برٹن اور ڈین آئزک ڈیزائن: مسعود ارسوز، میٹ فراسی، میٹ مچل کیمپ، کیٹ گینور، لوئیز ہنٹر، فرانسوا ڈی مونٹریمی اور ڈیوڈ بلڈ