’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دہشت گردوں کا استعمال کرنا چاہیے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کے وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ملک کے وزیرِ دفاع کے اس بیان کی حمایت کی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ بھارت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دہشت گردوں کا استعمال کرنا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ’پوری دنیا کو پتہ ہے کہ دہشت گردی کی پشت پناہی کون کر رہا ہے۔‘
خیال رہے کہ بھارت کے وزیرِ دفاع منوہر پاریکر نے گذشتہ دنوں ایک پروگرام میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کو ختم کرنے کےلیے دہشت گردوں کو ہی استعمال کرنا چاہیے۔
انھوں نےکہا ’یہ ضروری نہیں ہے کہ دہشت گردوں کوختم کرنے کے لیے ہمیشہ ہمارے فوجی ہی لڑیں۔ ہمیں دہشت گردوں کو مارنے کے لیے دہشت گرد استعمال کرنے چاہییں۔‘
پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کے سلامتی امور کے قومی مشیر سرتاج عزیز نے بھارتی وزیرِ دفاع منوہر پاریکر کے بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے پاکستان کےان اندیشوں کی توثیق ہوتی ہے کہ بھارت پاکستان کے بعض علاقوں میں ’دہشت گردانہ‘ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
انھوں نےکہا: ’یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک کی منتخب حکومت کے وزیر نے کھلے بندوں دہشت گردی روکنے کے بہانے دہشت گردی کے استعمال کی بات کی ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان مخلصانہ طریقے سے اپنے ہمسائے سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے مشیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی دونوں ملکوں کا مشترکہ مسئلہ ہے اور دونوں کو مشترکہ طور پر اس کو ختم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے سرتاج عزیز کے ردِ رعمل کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’سب کو معلوم ہے کہ کون دہشت گردی میں ملوث ہے اور میں پاکستان سے توقع کروں گا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مہم میں بھارت کےساتھ مکمل تعاون کرے گا خاص طور پر ان حالات میں جب کہ اب وہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے۔‘
منوہر پاریکر اور راج ناتھ سنگھ کے بیانات ایک ایسے وقت میں آئے جب بھارت پاکستان تعلقات سر مہری کا شکار ہیں۔
حالیہ مہینوں میں کئی بھارتی رہنماؤں نے پاکستان کے خلاف سخت بیانات دیے ہیں۔
کراچی میں حالیہ دنوں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں پاکستانی حکام بھارتی خفیہ ادارے را کے ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔







