بھارت میں لاہور کے کبوتروں کا کاروبار

،تصویر کا ذریعہRAVINDER SINGH
پاکستان اور انڈیا کی سرحد سے متصل دوکے گاؤں کے نوجوان دونوں ملکوں کے کبوتر پال کر روزی کما رہے ہیں۔
دوکے گاؤں میں گھروں کی چھتوں پر کبوتروں کے ڈربے عام سی بات ہیں۔
انڈیا یا پاکستان سے اپنے گھروں سے آئے بھوکے کبوتروں کو سرحد کے دونوں اطراف کے نوجوان دانہ پانی دے کر اپنے پاس پال لیتے ہیں اور پھر کبوتروں کے شوقینوں کو اچھے داموں میں فروخت کر دیتے ہیں۔
دوکے گاؤں سرحد سے محض آدھا کلومیٹر دور ہے۔ لاہور سے اڑ کر کئی نسلوں کے کبوتر اس گاؤں میں آ کر پناہ لیتے ہیں اور گاؤں والوں کے بقول انڈیا کے کبوتر ادھر چلے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRAVINDER SINGH
ہرپریت سنگھ بتاتے ہیں: ’گاؤں میں کبوتر پالنے والے لوگ جگہ جگہ ان کے لیے دانہ پانی رکھ دیتے ہیں اور جب بھوکے پیاسے کبوتر نیچے اترتے ہیں تو ہم انھیں پکڑ لیتے ہیں۔‘ ایک بار پکڑنے کے بعد ان کے پیروں میں مختلف قسم کی پازیبیں ڈال دی جاتی ہیں۔
دوکے کے کبوتروں نے ان ’سفید دارندازوں‘ کے مختلف نام بھی رکھ رکھے ہیں جیسے جلدار، شینا، بھورا، باگا وغیرہ وغیرہ۔ 1500 سے زیادہ آبادی والے دوکے گاؤں کے لوگوں کی لیے کھیتی اور مویشیوں کو پالنا روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہے لیکن اب یہاں کے نوجوانوں نے کبوتروں کے پالنے کے شوق کو روزی کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRAVINDER SINGH
لاہور میں آج بھی لوگ کبوتروں کی بازی کا شوق رکھتے ہیں اور ان مقابلوں میں کبوتر زیادہ سے زیادہ دور تک پرواز بھر سکیں اس کے لیے انھیں خاص ادویات دی جاتی ہیں۔
پرواز کرتے کرتے کئی بار کبوتر سرحد پار کرکے انڈین گاؤں میں آ جاتے ہیں۔ ایک مقامی شخص سکھ چین کاکہنا ہے کہ ’پھر وہ اپنے پسندیدہ گاؤں میں اتر جاتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان سے آنے والے کبوتر کے پروں کو مختلف رنگوں میں رنگا جاتا ہے اور ان کی قیمت انڈین کبوتروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔
کرنبیر بتاتے ہیں کہ جہاں ایک انڈین کبوتر کی قیمت ایک ہزار روپے ہوتی ہے وہیں ایک پاکستانی کبوتر چار ہزار میں بکتا ہے۔
دوکے کے قریبی گاؤں گاندیونڈ، نوشہرہ ڈھلہ، بھینی، اور بھاروپولہ کے نوجوان بھی اس کاروبار میں شامل ہو رہے ہیں۔







