سری نگر کی ڈل جھیل کا حسن

وادی کشمیر میں سردی اچانک بڑھ گئی ہے، اور راتیں سرد ہونے لگی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سنیچر کی رات سری نگر کا درجہ حرارت صفر سے 4.4 ڈگری نیچے تھا۔

ڈل جھیل کے کئی حصے کئی دن پہلے سے ہی منجمد ہونے لگے تھے، لیکن ایک دن صبح جب میں وہاں پہنچا اور شكارے پر سوار ہو کر ڈل کی سیر کو نکلا تب بھی ڈل کے خوبصورت مناظر جداگانہ اور مختلف رنگ پیش کر رہے تھے۔

ایک طرف جہاں بیرون ملک سے نقل مکانی کر کے آنے والے پرندے موسم سرما کی صبح دانے دنکے کی تلاش میں نکلے تھے، وہیں دوسری جانب مقامی سبزی فروش شكاروں میں سبزیاں بھر کر اپنی منزل کی جانب رواں تھے۔

کسی نے بتایا کہ چند روز پہلے ہی وہاں کسی فلم کی شوٹنگ ہوئی تھی اور پلاسٹک کے پھولوں کو ایک شكارے میں ڈال کر گرمی کا شاٹ لیا گیا تھا۔
شوٹنگ کے دوران سبزی سے لدے شكارے دکھانے کی بات بھی اسی شخص نے مجھے بتائی۔ لیکن میرے سامنے تو جو ہو رہا تھا وہ حقیقی تھا۔ اسے کوئی ڈائریکٹ نہیں کر رہا تھا۔

اس موسم میں سیاحوں کا آنا موسم گرما کے مقابلے میں کم ہو جاتا ہے۔
سیاحت کے شعبے سے منسلک لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بار اتنے سیاح نہیں آئے جتنے گذشتہ برسوں کے دوران آتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ان کا کہنا ہے کہ سیلاب میں ڈل جھیل برباد ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق سیلاب سے اس جھیل کے کنارے سے گزرنے والی سڑک غرقاب ہو گئی تھی اور بعض ہاؤس بوٹس کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

تاہم یہ جھیل ایک بار پھر سے اپنے پرانے حسن کی جانب لوٹ رہی ہے۔
(تصاویر و تحریر: دیواشیش کمار، بی بی سی ہندی)







