عدالتی نظام پر تنقید: تین سعودی وکلا قید

سعودی ججوں نے رواں سال حکومت مخالف مظاہروں کی پاداش میں ملک کی شیعہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو سزائے موت دے دی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسعودی ججوں نے رواں سال حکومت مخالف مظاہروں کی پاداش میں ملک کی شیعہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو سزائے موت دے دی تھی

سعودی عدالت نے ٹوئٹر پر ملک کے عدالتی نظام کو تنقید کا نشانہ بنانے پر تین وکلا کو قید کی سزا سنائی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کا کہنا ہے کہ وکلا کو ’حکمران کی نافرمانی‘ اور ’عدالتی نظام کو تنقید کا نشانہ بنانے پر‘ پانچ اور آٹھ سال کے درمیان سزا دی گئی ہے۔

رپورٹوں کے مطابق ان وکلا نے عدالتوں پر ملزمان کو دفاع کا موقع نہ ملنے، ان پر غلط طریقے سے جرم ثابت کرنے، اور بدعنوان افراد کو رہا کرنے کے الزامات لگائے تھے۔

حکام نے سعودی عرب میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو متنبہ کیا ہے کہ ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور انھیں بھی ان وکلا کی طرح سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عرب سوشل میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عرب دنیاکے 40 فیصد ٹوئٹر صارفین کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق سزا پانے والے تینوں وکلا نے انھیں دی جانے والی سزا کو ظالمانہ قرار دیا ہے۔

عرب سوشل میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عرب دنیا کے 40 فیصد ٹوئٹر صارفین کا تعلق سعودی عرب سے ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعرب سوشل میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عرب دنیا کے 40 فیصد ٹوئٹر صارفین کا تعلق سعودی عرب سے ہے

واضح رہے کہ سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے گذشتہ ہفتے ٹوئٹر کو تمام خرابیوں اور تباہیوں کی جڑ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر کو لوگ جھوٹ کے فروغ اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

سعودی ججوں نے رواں سال حکومت مخلف مظاہروں کی پاداش میں ملک کی شیعہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو سزائے موت دے دی تھی۔

رواں مہینے کے اوائل میں بھی سعودی عدالت نے ملک کے معروف شیعہ عالم آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔