بھارت: ’ڈائن‘ ہونے کے شبے میں خاتون قتل

بھارت میں جادو ٹونے کے الزام میں خواتین کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات عام ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت میں جادو ٹونے کے الزام میں خواتین کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات عام ہیں

بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک خاتون کے رشتے داروں نے اس خاتون کو جادو ٹونا کرنے کے شبے میں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دوکلہین بائی کی موت اس کے رشتے دار نکل پٹیل کی گھنٹوں مار پیٹ کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس خاتون کو برہنہ کر کے مارا پیٹا گیا تھا۔

نکل پٹیل کا الزام ہے کہ وہ خاتون جادو ٹونے کے ذریعے اس کے بیٹے کو بیمار کر رہی تھی۔

واضح رہے کہ بھارت میں جادو ٹونے کے الزام میں خواتین کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات عام ہیں۔

تازہ واقعہ چھتیس گڑھ کے بیمیترا ضلعے میں پیش آیا ہے۔

پولیس نے خاتون کے قتل معاملے میں نکل پٹیل سمیت دس لوگوں کو گرفتار کیا ہے جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ابھی تک نکل کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

مقامی صحافی آلوک پرکاش پتل نے بتایا کہ ہلاک ہونے والی خاتون کو برہنہ کر کے اس کے اعضا میں مرچوں کے پاؤڈر ڈالے گئے اور اس تشدد کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔

دوکلہین بائی کے بیٹے اشوک پٹیل نے بی بی سی کو بتایا: ’میری ماں کو بہت بری طرح سے مارا گیا۔ وہ چیختی چلاتی رہی اور پورا گاؤں دیکھتا رہا۔ میں اکیلا تھا۔ میں نے مخالفت بھی کی لیکن اپنی ماں کو نہیں بچا پایا۔‘

بھارت کے قبائلی علاقوں میں خواتین کو ڈائن یا جادوگرنی قرار دیے جانے کا چلن عام ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے حملوں کے پیچھے توہم پرستی اور جہالت کار فرما ہے لیکن بعض اوقات بیواؤں کی جائیداد ہتھیانے کے لیے بھی انھیں اس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس سے قبل نیزہ پھینکنے میں کئی طلائی تمغے جیتنے والی دیب جانی بورا نے اسی ماہ بی بی سی کو بتایا کہ کس طرح بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ان کے گاؤں میں انھیں ڈائن قرار دیا گیا تھا اور پیڑ سے باندھ کر مارا پیٹا تھا۔