’مودی ہندو شدت پسند گروپوں کو واضح پیغام دیں‘

،تصویر کا ذریعہdevidas bbc
انڈیا کے مغربی شہر پونہ میں ہندو شدت پسندوں کے ہاتھوں ایک مسلمان نوجوان کے قتل کے بعد سے یہ مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی دو ٹوک الفاظ میں اس واقعے کی مذمت کریں تاکہ شدت پسند عناصر کو یہ غلط فہمی نہ رہے کہ بی جے پی کی حکومت آنے سے’ وہ اقلیتوں کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔‘
محسن صادق شیخ کی عمر 28 سال تھی اور انھیں پونہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران پیر کو مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم ہندو راشٹر سینا کے کارکنوں نے ہلاک کر دیا تھا۔
محسن شیخ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایک کمپنی میں کام کرتے تھے اور رات کا کھانا کھا کر گھر لوٹ رہے تھے کہ انھیں تقریباً 30 حملہ آوروں نے گھیر لیا اور لاٹھیوں سے مار مار کر قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق اس سلسلے میں تنظیم کے کئی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ کسی نے شو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے اور ہندو راجہ شواجی مہاراج کی کچھ تصویروں میں قابل اعتراض تبدیلیاں کرنے کے بعد انھیں فیس بک پر ڈالا تھا۔ ہندو راشٹر سینا کے یہ مبینہ کارکن انھی تصویروں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس نے شہر میں فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کر لی اور اخباری اطلاعات کے مطابق اس دوران کئی مسلمان نوجوانوں کو مارا پیٹا گیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لیکن اخبار ہندوستان ٹائمز کے ایک اداریے کے مطابق محسن شیخ کا اس تنازعے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اخبار لکھتا ہے کہ ’وفاقی حکومت کو فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ملزمان کو سخت سزا ملے۔‘
محسن کو قتل کرنے کے بعد حملہ آوروں نے اپنے ساتھیوں کو ایک ایس ایم ایس پیغام بھیجا جس میں لکھا گیا تھا کہ ’پہلی وکٹ گرگئی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اخبار کے مطابق اس پیغام سے لگتا ہے کہ حملہ آور اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت بن جانے کے بعد ’وہ اقلیتوں کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔۔۔اور ایسے عناصر کی یہ غلط فہمی فوراً دور کی جانی چاہیے۔۔۔ اور اگر پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت ایسا نہیں کرتی تو دوسرے لوگوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔‘
اخبار ٹائمز آف انڈیا کا بھی مطالبہ ہے کہ خود وزیر اعظم نریندر مودی کو محسن شیخ کے قتل کی مذمت کرنی چاہیے۔
اخبار کے مطابق: ’محسن شیخ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ (وہ اپنی داڑھی کی وجہ سے) دیکھنے میں مسلمان نظر آتے تھے۔۔۔ ان کے قاتلوں پر مقدمہ چلانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جانی چاہییں اور قصوروار افراد کو عبرت انگیز سزا دی جانی چاہیے۔۔۔قتل کے اس کیس میں نریندر مودی کو بالکل واضح موقف اختیار کرنا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
یہ واقعہ اگرچہ پیر کا ہے لیکن ابھی تک بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ کانگریس کی مشکل یہ ہے کہ ریاست میں خود اس کی اپنی حکومت ہے اور آئین کے تحت امن و قانون کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے سخت کارروائی کر کے صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے بچا لیا ہے۔
حالیہ پارلیمانی انتخابات کے دوران اور پھر بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد بہت سے لوگ یہ خدشہ ظاہر کر رہے تھےکہ پارٹی کی کامیابی سے شدت پسند عناصر کے حوصلے بلند ہو سکتے ہیں۔
اخباروں میں بھی تجزیہ نگاروں اور اداریوں کے لب و لہجے سے لگتا ہے کہ ان کے خیال میں اگر بی جے پی اس کیس میں سخت موقف اختیار نہیں کرتی تو ترقی کے جس ایجنڈے کا اس نے وعدہ کیا ہے، اس پر عمل درآمد مشکل ہو جائے گا۔
انتخابی مہم کے دوران بھی بی جے پی پر فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کا االزام عائد کیا گیا تھا۔ گذشتہ برس اگست ستمبر میں اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی فرقہ وارانہ تشدد بھڑکا تھا جس میں تقریباً 60 افراد ہلاک اور 50 ہزار سے زیادہ بے گھر ہوگئے تھے۔







