انڈین سیاستدان کی وائرل ویڈیو: ’ایک شراب کی بوتل اور مرغی میں بکتی ہے جمہوریت‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/Grab
انڈیا کی وسطی ریاست تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ چندرشیکھر راؤ ہندوؤں کے تہوار ’دسہرہ‘ کے موقع پر اپنی نئی سیاسی پارٹی کے قیام کا اعلان کرنے والے ہیں لیکن اس سے قبل اُن کی مجوزہ پارٹی کے ایک رہنما کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ لوگوں میں شراب کی بوتلیں اور مرغیاں تقسیم کر رہے ہیں۔
اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹی آر ایس کے رہنما راجنالا سریہر اپنی اور چندرشیکھر راؤ کی قد آدم تصاویر کے سامنے بظاہر مزدور نظر آنے والے افراد کو مرغیاں اور شراب کی چھوٹی بوتل تقسیم کر رہے ہیں۔
چندرشیکھر کے سیاسی مخالف اس ویڈیو کی بنیاد پر انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ انڈیا میں ووٹروں کو لبھانے کے لیے طرح طرح کے وعدے کیے جاتے ہیں اور ووٹرز میں بنیادی ضرورت کی اشیا بھی مفت تقسیم کی جاتی ہیں لیکن سیاسی مصبرین کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلی بار ایسا دیکھا ہے کہ ووٹرز میں کُھلے عام شراب اور مرغیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔
ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر نے تلنگانہ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’مرغے اور ایک کوارٹر (شراب کی پونی بوتل) میں بکتی ہے انڈیا کی جمہوریت۔‘ اُن کے اس ٹویٹ کو 57 ہزار سے زیادہ بار لائیک کیا گیا ہے جبکہ 15 ہزار سے زیادہ بار ری ٹویٹ کیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
صحافی کے پی آشیش نے ٹویٹ کیا کہ ’ٹی آر ایس پارٹی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ شراب/ چکن کی تقسیم نئی پارٹی کی خوشی میں نہیں ہے بلکہ اسے مقامی رہنما نے دسہرے کا جشن منانے کے لیے منعقد کیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو سے بی جے پی رہنما ونوج پی سیلوم نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’تمل ناڈو میں ہمارا دڑاوڈ ماڈل ہے جہاں لوگوں کو راغب کرنے کے لیے شراب کے ساتھ بریانی دی جاتی ہے۔ اب ہمارے سامنے تلنگانہ ماڈل ہے جہاں شراب کے ساتھ زندہ مرغ دیے جا رہے ہیں۔ یکسانیت یہ ہے کہ دونوں ماڈلز صرف ان ریاستوں کے عوام کا نقصان ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
اس کے جواب میں ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ بی جے پی کے ووٹرز کو لبھانے کے کلچر سے تو بہتر ہے‘ جبکہ ایک صارف نے آگاہ کیا کہ ابھی حال ہی میں ریاست گجرات میں بی جے پی نے خواتین میں ساڑھیاں تقسیم کی ہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’جہاں مفت کی چیزیں تقسیم ہوتی ہیں وہاں بھیڑ لگ جاتی ہے لیکن لوگ ووٹ اپنی سمجھ اور اپنے میلان کی بنیاد پر ہی دیتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منوج سریواستو نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’آپ (عام لوگ) چکن شوق سے کھاتے ہیں، شراب بھی پیتے ہیں۔ گھر آئے مہمانوں کا بھی گوشت اور شراب سے استقبال کرتے ہیں۔ کسی لیڈر نے اپنے کارکنوں کو اگر ایک بوتل اور مرغا تحفے کے طور پر دے دیا تو کوئی ظلم نہیں کیا۔ مخالفت کرنے والے غیرسماجی لوگ ہیں۔ ہر چھوٹی بڑی بات پر سیاست ٹھیک نہیں۔‘
بی اے ٹاپ پریڈیٹر نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ہر سیاست دان ایسا کرتا ہے لیکن ابھی تک کسی نے کیمرے کے سامنے ایسا نہیں کیا ہے۔ یہ جیتنے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے لیکن اس کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ وقت ہی بتائے گا۔'‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
انڈین خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق کانگریس رہنما مدھو یاشکی نے گذشتہ روز وزیر اعلی کو 'شراب کا برانڈ لیڈر کہا اور یہ بھی کہا کہ وہ اپنی شراب نوشی کے لیے جانے جاتے ہیں۔‘
اے این آئی کے مطابق سریہری نے 200 چکن اور اتنی ہی شراب کی بوتلیں تقسیم کی ہیں۔ مدھو یاشکی نے کے سی آر پر الزام لگایا کہ وہ ریاست کے عوام اور نوجوانوں کو ’شراب اور ڈرگز کا عادی‘ بنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
واضح رہے کہ کچھ دنوں پہلے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو سیاست دانوں کے 'خطرناک' رجحان سے خبردار کیا تھا کہ وہ مفت میں تقسیم کر کے ’لوگوں کو خریدنے‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے اسے ’ریوڑی کلچر‘ کا نام دیا تھا۔
بہر حال شراب اور مرغ کی تقسیم کو واقعے پر بہت سے صارف نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی لکھ رہے ہیں کہ اس قسم کی چیزیں ان کے یہاں کیوں نہیں تقسیم کی جا رہی ہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے کہ مفت ریوڑیوں کی تقسیم کے لیے پیسہ کہاں سے آیا اس کا سورس بتایا جائے۔‘۔
انڈین سیاستدانوں نے ووٹرز سے دنیا بھر کے وعدے کر رکھے ہیں جن میں نقد رقم کی منتقلی سے لے کر ہیلتھ انشورنس اور کھانے پینے کی چیزوں سے لے کر رنگین ٹی وی، لیپ ٹاپ، سائیکل اور سونے تک دینے جیسی چیزیں شامل ہیں۔
گذشتہ سال انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے ایک سیاست دان نے چاند کے 100 دن کے سفر اور موسم گرما کے دوران لوگوں کو گرمی کو شکست دینے میں مدد کے لیے ایک بہت بڑے برف کے تودے کا وعدہ کیا تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے یہ وعدے سیاست دانوں کے لمبے لمبے وعدوں کے بارے میں ’بیداری پیدا کرنے‘ کے لیے کیے تھے۔ (یہ الگ بات ہے کہ یہ سیاستدان انتخابات ہار گئے تھے)۔










