دلائی لامہ کا دورۂ لداخ: کیا انڈیا امریکہ کو خوش کرنے کے لیے چین کو تنگ کر رہا ہے؟

دلائی لامہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے سے متعلق تازہ مذاکرات سے تین دن قبل تِبّت کے جلاوطن بودھ رہنما دلائی لامہ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے شمال مشرقی خطہ لداخ پہنچ گئے ہیں۔

اس دورے پر چین کے دفترِ خارجہ نے ناراضی ظاہر کی ہے جبکہ لداخ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحد پر چینی فوجیوں نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے عسکری سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

سابق رکن پارلیمان اور لداخ بودھِسٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ تھپستن ژوانگ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ دلائی لامہ کے استقبال کے لیے لداخ کے لوگ سڑکوں پر جمع تھے۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’سرحدوں پر چینی افواج کی طرف سے ’ہارڈ پوسچرنگ‘ اور چینی جہازوں کی طرف سے انڈین فضائی حدود کی خلاف ورزی کی بھی خبریں ہیں۔‘

تھپستن ژوانگ کہتے ہیں ’دلائی لامہ نے مذاکرات اور دوستی کی بات کی ہے۔ اُنھوں نے تبّت کے لیے بھی آزادی نہیں بلکہ خود مختاری کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ امن کا پیغام لے کر آئے ہیں۔‘

دلائی لامہ کے موٴقف میں لچک؟

واضح رہے کہ دلائی لامہ نے لداخ دورے کے دوران انڈیا اور چین پر زور دیا کہ سرحدی تنازعات کو مفاہمت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

اس سے قبل چینی دفتر خارجہ کے ترجمان ژاو لیجین نے دلائی لامہ کی سرگرمیوں کو ’علیحدگی پسندانہ اور چین مخالف‘ قرار دیا تھا۔ اس کے ردعمل میں بودھ رہنما نے جموں میں لداخ روانہ ہونے سے قبل بتایا کہ ’چین کے لوگ نہیں بلکہ وہاں کے بعض شدّت پسند مجھے علیحدگی پسند سمجھتے ہیں۔‘

اُنھوں نے یہاں تک کہا کہ وہ ’چین سے تِبّت کی آزادی نہیں بلکہ چین کے اندر ہی تِبّت کی خودمختاری‘ چاہتے ہیں۔

بعض مبصرین اُن کے اس بیان کو اُن کے موٴقف میں لچک سے تعبیر کرتے ہیں تاہم اکثر تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ دلائی لامہ طویل عرصے سے اندرونی خود مختاری اور بودھ تمدن کے تحفظ کی باتیں کرتے رہے ہیں۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار ہارون ریشی کہتے ہیں؛ ’یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، دلائی لامہ نے 1988 میں بھی یہی بات کہی تھی، لیکن اس دورے کی اہم بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک دلائی لامہ لداخ میں قیام کریں گے۔ اس بات کو چین ہرگز پسند نہیں کرے گا۔‘

دلائی لامہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن(فائل فوٹو)

مبصرین کہتے ہیں کہ دلائی لامہ کا یہ دورہ چین کو ناراض کر سکتا ہے۔

کشمیر کی اسلامکِ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور چینی امور کے ماہر ڈاکٹر صدیق واحد کے مطابق ’ایک بات تو طے ہے کہ انڈین حکومت کی مرضی کے بنا یہ دورہ نہیں ہو سکتا۔ میرا قیاس ہے کہ انڈیا نے واشنگٹن کو خوش کرنے کے لیے دلائی لامہ کے ذریعہ چین کو چِڑانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین ایسا ملک ہے جو ٹی وی پر شور نہیں کرتا، اب دیکھنا یہ ہے کہ چین کا ردعمل کیا ہو گا کیونکہ ابھی بھی ہم اُن کے ساتھ لداخ میں سرحدی تنازعے میں اُلجھے ہوئے ہیں۔‘

امریکہ اور چین کو ایک ساتھ خوش رکھنے کی کوشش؟

شمالی انڈیا میں دھرم شالہ کے مقام پر دلائی لامہ نے 1959 میں تبّت کی جلا وطن حکومت قائم کی تھی۔ اسی سال چین نے تبّت پر قبضہ کر لیا تھا اور دلائی لامہ ہزاروں حامیوں کے ہمراہ انڈیا میں مقیم ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹر صدیق واحد کہتے ہیں کہ ’تین سال پہلے جب جلاوطن حکومت کی 60 ویں سالگرہ کا جشن ہو رہا تھا تو انڈین حکومت نے سبھی وزرا اور افسروں سے کہا تھا کہ اس جشن کی تقاریب سے دُور رہیں۔ پیغام یہ دینا تھا کہ انڈیا چین کے ساتھ کوئی ٹکراوٴ نہیں چاہتا۔‘

واضح رہے کہ 87 سالہ دلائی لامہ ہر سال لداخ آتے رہے ہیں لیکن چار سال قبل جب وہ لداخ میں تھے تو ان کے سٹاف نے اعلان کیا تھا کہ وہ اب لداخ کا دورہ نہیں کر سکیں گے کیونکہ ’ہم اُن کی صحت سے متعلق کوئی رِسک نہیں لے سکتے۔‘

لداخ کے بودھ رہنما تھپستن ژوانگ کہتے ہیں کہ دو ماہ قبل بعض دیگر مذہبی رہنماؤں کے ہمراہ وہ دھرم شالہ گئے اور اُنھوں نے دلائی لامہ کو مدعو کیا اور وہ فوراً راضی ہو گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’لداخ کے لوگوں کو دلائی لامہ کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔ اب وہ یہاں ایک ماہ تک قیام کریں گے اور آخر میں مذہبی خطاب بھی کریں گے۔‘

دلائی لامہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتبت میں دلائی لامہ کی سرمائی رہائش گاہ جو 1959 تک ان کے زیر استعمال رہی

کیا وجہ ہے کہ نازک صحت اور چینی سرحد پر تناوٴ کے باوجود دلائی لامہ نے لداخ کا دورہ کرنے اور وہاں طویل قیام کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟ ڈاکٹر صدیق واحد کہتے ہیں کہ ’انڈیا چاہتا ہے کہ امریکہ اور چین کے ساتھ یکساں تعلقات بنائے رکھے۔ نہ چین ناراض ہو اور نہ امریکہ۔ لیکن میرا گمان ہے کہ اس بار امریکہ نے انڈیا اور دلائی لامہ دونوں کو مجبور کیا کہ کچھ ایسا کیا جائے جس سے چین چِڑ جائے۔‘

کیا یہ دورہ انڈیا کے لیے مفید ہو گا؟

دفاعی امور کے ماہر اور ’فورس میگزین‘ کے ایڈیٹر پروین سہانی نے اپنی ٹویٹ میں اشارہ دیا ہے کہ یہ دورہ انڈیا کے لیے مفید نہیں ہو گا۔

اُنھوں نے لکھا ہے کہ ’لداخ میں جا کر دلائی لامہ نے کہا کہ انڈیا اور چین مذاکرات کے ذریعے سرحدی تنازع حل کریں کیونکہ فوجی حل اب ممکن نہیں۔ یہ سیاسی بیان ہے اور ایک روحانی پیشوا کے شایانِ شان نہیں ہے۔‘

اُنھوں نے مزید لکھا ہے کہ مودی حکومت دلائی لامہ کا لداخ میں ایک ماہ کا دورہ ٹال سکتی تھی۔ ’مودی حکومت کو چینی فوج کی صلاحیتوں، تیاریوں اور طرزِ جنگ کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔‘

مختلف سطحوں پر چین کے ردعمل کے بعد دلائی لامہ نے جمعے کے روز لداخ میں قیام کے دوران ہی ٹویٹ کی کہ ’بنیادی طور پر سبھی انسان ایک جیسے ہیں۔ تصور کریں کہ کسی ویرانے میں آپ کھو گئے ہیں اور اچانک آسمان سے کوئی آپ کی طرف آ جائے۔ آپ اُس کی نسل، قومیت یا مذہبی عقیدے سے بے پرواہ ہو کر نہایت خوش ہو جائیں گے کہ آپ کا سامنا ایک اور انسان سے ہوا ہے۔‘