انڈیا: کیا امراوتی کے امیش کو بھی نوپور شرما کی حمایت میں پوسٹ لگانے پر قتل کیا گیا؟

،تصویر کا ذریعہBBC
12 روز قبل انڈیا کی شمال مغربی ریاست راجستھان سے دور مہاراشٹر میں دوائیوں کی دکان چلانے والے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق چند روز قبل اودے پور میں درزی کا قتل بھی اسی کیس سے جڑا ہے۔
بی جے پی کے کچھ لیڈروں نے الزام لگایا ہے کہ قتل کا سرا نوپور شرما کیس سے ملتا ہے۔
انڈیا کی مرکزی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اب قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) امراوتی میں ایک طبی پیشہ ور کے قتل کی بھی تحقیقات کرے گی۔
اس لیے این آئی اے اب اس بات کی جانچ کرے گی کہ آیا امراوتی اور اودے پور کے معاملات کے درمیان کوئی براہ راست تعلق ہے یا نہیں۔ پولیس نے اب تک امیش کولھے قتل کیس میں چھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔
امراوتی کے ڈی سی پی وکرم نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے لوگوں کے خلاف آئی پی سی (تعزیرات ہند) کی دفعہ 302، 120 بی اور 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ یہ واقعہ اس وجہ سے ہوا ہے جو اس (امیش کولھے) نے نوپور شرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔‘
قتل کیسے ہوا؟

امراوتی تحصیل دفتر کے قریب رچنا شری مال میں امیش کولھے کی امیت ویٹنری کے نام سے میڈیکل کی دکان ہے۔
21 جون کی رات وہ اپنی دکان بند کرکے گھر کے لیے نکلے۔ 51 سالہ امیش کولھے ایک گاڑی میں سوار تھے جبکہ ان کا بیٹا سنکیت اور بیوی ویشنوی دوسری گاڑی میں سوار تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رات تقریباً ساڑھے 10 بجے، چار پانچ حملہ آوروں نے انھیں پکڑ لیا اور چاقو سے امیش کا گلا کاٹ کر فرار ہو گئے۔
امیش کے بیٹے سنکیت نے انھیں قریبی پرائیویٹ ہسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دیا۔
حملے کے وقت امیش کی جیب میں 35000 روپے نقد تھے۔ لیکن حملہ آوروں نے اسے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ لہٰذا یہ نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ قتل پیسے کے لیے نہیں کیا گیا۔
ابتدائی تفتیش میں بھی یہ بات واضح ہو گئی ہے۔
امیش کے بھائی نے کیا کہا؟

،تصویر کا ذریعہANI
امیش کولھے کے بھائی مہیش کولھے نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا ہے کہ 'بھیا نے کچھ گروپس میں نوپور شرما کے بارے میں کچھ پیغامات فارورڈ کیے تھے۔ لیکن ہم اس جان لیوا حملے کو سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔ اس کی کوئی اور وجہ نظر نہیں آتی۔'
مہیش کولھے نے کہا کہ 'امیش نے کبھی کسی سے دشمنی نہیں کی۔ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ قتل کے پیچھے کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ 12 دن ہو گئے ہیں لیکن پولیس نے ہمیں کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔ ہم نے پولیس سے رابطہ کیا ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ڈکیتی کا معاملہ ہے تو پولیس نے کہا کہ ڈکیتی میں گردن پر نہیں جسم پر زخم بنتے ہیں۔
اب امراوتی پولیس نے ایک پرچہ نکالا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امیش نے نوپور شرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔ واقعے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعے کی نو عیت ایک ہی قسم کی ہے اور اب تفتیش اسی سمت میں کی جارہی ہے۔
پوسٹ وائرل ہو گئی

امیش جو دوائیوں کی دکان چلاتے ہیں، 'بلیک فریڈم' نامی ایک واٹس ایپ گروپ کے سرگرم رکن تھے۔
اس گروپ میں ہندو نواز پوسٹیں شیئر کی جاتی تھیں۔ کچھ دن پہلے امیش نے بھی نوپور شرما کے متنازع بیان کی حمایت میں اس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کی تھی۔
امراوتی پولیس کو شبہ ہے کہ گروپ کے باہر بھی یہ پوسٹ وائرل ہوئی ہے۔ امیش پر اس لیے حملہ کیا گیا کیونکہ اس نے اسے 'غلطی سے' ایک مسلم گروپ کو بھیج دیا تھا۔
مقامی پولیس نے اس کیس میں سات افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں سے ایک عرفان نامی شخص کو اس واردات کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جا رہا ہے۔
امراوتی کے پولیس کمشنر آرتی سنگھ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عرفان پر الزام ہے کہ وہ اس قتل کے ماسٹر مائنڈ تھے اور ان کے بینک اکاوئنٹ کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔











