آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لکھنئو: سولہ سالہ نوجوان نے پب جی کھیلنے سے روکنے پر والدہ کو گولی مار دی
انڈیا میں پولیس کے مطابق آن لائن گیم پب جی کی لت کا شکار ایک 16 سالہ لڑکے نے اپنی ماں کو اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا جب اسے یہ گیم کھیلنے سے روکا گیا۔
یہ واقعہ لکھنؤ کے علاقے یمنا پور کالونی کے پی جی آئی تھانے میں رپورٹ ہوا ہے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ایڈیشنل ڈی سی پی قاسم عابدی نے بتایا ’لکھنؤ کی یمنا پورم کالونی میں ایک خاتون اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتی تھیں۔ خاتون کے شوہر ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر ہیں اور اس وقت مغربی بنگال میں تعینات ہیں۔‘
پولیس کے مطابق ’'یہ 16 سالہ لڑکا آن لائن گیم پب جی کی لت کا شکار ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کی ماں اسے یہ گیم کھیلنے سے منع کرتی تھیں۔ اس لیے اس نے اپنے والد کے لائسنس یافتہ پستول سے اپنی ماں کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ لڑکے نے یہ واردات ہفتہ کی رات اور اتوار کی صبح تین بجے کی ہے۔‘
پولیس کے مطابق قتل میں استعمال ہونے والا پستول برآمد کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ انھوں نے منگل کو خاتون کی مسخ شدہ لاش برآمد کی۔ جسے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ لڑکے کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
لاش دو دن تک کمرے میں رکھی
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے بتایا کہ نابالغ لڑکے نے ماں کو قتل کر کے اس کی لاش گھر کے ایک کمرے میں بند کر کے رکھ دی تھی۔ فائرنگ کے وقت لڑکے کی نو سالہ بہن بھی وہاں موجود تھی۔
پولیس کے مطابق ’لڑکے نے بہن سے کہا کہ اس بارے میں کسی کو نہ بتانا ورنہ نتیجہ برا نکلے گا۔ لڑکے نے لاش سے نکلنے والی بدبو کو دبانے کے لیے روم فریشنر کا استعمال کیا۔‘
ایڈیشنل ڈی سی پی قاسم عابدی کا کہنا ہے کہ ’منگل کو جب لاش سے بدبو آنے لگی تو لڑکے نے والد کو واقعے کی اطلاع دی۔ والد نے اس بارے میں پڑوسیوں کو بتایا۔ اس کے بعد پڑوسیوں نے پولیس کو اطلاع دی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عابدی کے مطابق لڑکے نے پہلے اس واقعے کے بارے میں جھوٹی کہانیاں گھڑنے کی کوشش کی۔ اس نے بتایا کہ یہ کام گھر میں آنے والے الیکٹریشن کا ہے۔ لیکن الیکٹریشن سے معلوم کرنے کے بعد یہ بات جھوٹی نکلی۔ لڑکا زیادہ دیر تک پولیس کو گمراہ نہ کر سکا اور اس نے سچ بول دیا۔
یہ بھی پڑھیے
پب جی کیا ہے؟
دو سال قبل انڈین حکومت نے چین میں تیار کردہ 118 موبائل ایپس پر پابندی لگا دی تھی۔ ان میں گیمنگ ایپ پب جی بھی شامل تھی۔ یہ ایک آن لائن گیم ہے، جس کا پورا نام ’پلے ان نون بیٹل گراؤنڈز‘ ہے۔ اس کے لیے انٹرنیٹ کنکشن درکار ہے۔ فون پر گیم کھیلنے کے لیے اینڈرائیڈ فون کی ضرورت ہے۔
ملک بھی میں والدین نے اس پابندی پر سکھ کا سانس لیا تھا۔
انڈیا میں اس گیم پر پابندی کے بعد سب سے بڑا ریلیف ان والدین کو ملا جن کے بچے اس گیم کی لت کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس دوران ملک بھر سے پب جی کی لت کے شکار افراد سے متعلق حادثات کی خبریں موصول ہوئیں۔
والدین کا مسئلہ یہ تھا کہ 2019 میں جب وزیر اعظم نریندر مودی 'امتحان پر بحث' کر رہے تھے، تو ایک والد نے ان سے پوچھا، ’میرا بیٹا نویں جماعت میں پڑھتا ہے، پہلے وہ پڑھائی میں بہت اچھا تھا، پچھلے کچھ عرصے سے اس کا جھکاؤ اس طرف بڑھ گیا۔ آن لائن گیمز زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔ میں کیا کروں؟‘
سوال مکمل ہونے کے فوراً بعد وزیر اعظم مودی نے کہا ’پب جی والا ہے کیا؟‘ تاہم ڈیڑھ سال بعد بھارت میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔
پابندی کے باوجود بچے کیسے کھیل رہے ہیں؟
ہندوستان میں پب جی پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن اس کے تحت صرف موبائل ورژن پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کا ڈیسک ٹاپ ورژن دستیاب تھا۔
تاہم، موبائل پر پب جی کو ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک یعنی وی پی این کا استعمال کرتے ہوئے کھیلا جا سکتا ہے۔ اس سے لوکیشن جیو بلاکنگ کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔