آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کا ڈھوکو رواج: برسوں تک لِو اِن تعلق کے بعد سرپنچوں کی اجازت سے شادیاں
- مصنف, روی پرکاش
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے رانچی سے
انڈیا کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے کھنٹی ضلع میں واقع ڈومردگا گاؤں کی پھولمنی ٹوٹی کی عمر 46 سال ہے۔ سنہ 1998 میں جب ان کی پہلی شادی ہوئی تو ان کی عمر صرف 22 سال تھی۔
اس کے سات سال بعد ہی ان کے شوہر کی موت ہو گئی۔ اس وقت تک ان کے دو بچے ہو چکے تھے اور تیسرا پیٹ میں تھا کیونکہ وہ حاملہ تھیں۔
شوہر کی موت کے بعد وہ بالکل تنہا ہو گئیں۔ گھر میں تین تین بچے اور کوئی جوان مرد نہیں، جو کچھ کما کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
ان کے سسر بہت بوڑھے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ کہیں کام کرنے کی حالت میں نہیں تھے۔ ساس پہلے ہی فوت ہو چکی تھیں۔ ان کی زندگی کے مصائب اس وقت پہاڑ کی طرح تھے اور اس سے نکلنے کی انھیں کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔
وہ اپنے دو بیٹوں، ایک بیٹی اور سسر برسا لوہرا کے ساتھ اپنے گھر میں رہتی تھیں۔ ایسی صورت حال میں ان کے سسر نے اپنی بہن کے بیٹے مہاویر کو گود لے لیا۔
پھولمنی ٹوٹی کی مہاویر کے ساتھ قربت بڑھی اور وہ لِو ان رشتے میں رہنے لگے۔ اس رشتے کو ان کے سسر کی حمایت حاصل تھی۔
وہ خوش تھے کیونکہ ان کی بہو کو اس کا جیون ساتھی اور گھر کو کمانے والا مل گیا تھا۔ اب اس رشتے کو سماجی حیثیت دلانے کے لیے انھیں گاؤں کے پنچوں کے پاس جانا پڑا۔ ان کے مطابق اس جوڑے کو ٹھیک سے تمام تر رسموں کی ادائیگی کے ساتھ شادی کرانی تھی۔ لیکن اس سے پہلے ہی ان کی وفات ہوگئی۔
اب گھر میں پھولمای ٹوٹی کے بچے اور ان کا لِو اِن ساتھی مہاویر لوہرا رہ گئے تھے۔ مہاویر نے تھوڑی سی مزدوری کر کے گھر کے اخراجات پورے کرنے شروع کر دیے اور ان کی زندگی دوبارہ پٹری پر آ گئی۔ وہ میاں بیوی کی طرح رہنے لگے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن ان کی باقاعدہ شادی نہیں ہوئی تھی، اس لیے وہ 'ڈھوکو' کہے جانے لگے کیونکہ وہ معاشرے کی رسمی منظوری کے بغیر اپنے ہی گاؤں کی ایک عورت کے ساتھ لِو اِن رشتے میں رہ رہے تھے۔ اس کی وجہ سے، پھولمنی ٹوٹی کو اپنے سسر کی زمین پر قانونی طور پر حق نہیں مل سکا۔
بہرحال اب ان کی شادی ایک رضاکارانہ تنظیم 'نیمت' کے زیر اہتمام اجتماعی شادی کی تقریب میں ہوگئی ہے۔ پھولمنی اس تنظیم کی گاؤں کی کوآرڈینیٹر بھی ہیں۔
پھولمنی ٹوٹی نے بی بی سی کو بتایا: 'مجھے اپنے سسرال کی جائیداد کی ملکیت مل گئی ہے اور میرے شوہر کو ڈھوکو کہلانے سے نجات مل گئی ہے۔ اب ہم قانونی طور پر میاں بیوی ہیں۔ ہماری یہ شادی 16 سال کے لِو ان‘ کے بعد ہوئی ہے۔ اسی لیے ہم خوش ہیں، ہم پہلے سرنا مذہب کی پیروی کرتے تھے، لیکن اب ہم عیسائی ہیں، اس لیے ہماری شادی چرچ کی روایت کے مطابق ہوئی ہے، اس شادی کی تقریب میں سرنا اور ہندو مذہب کے لوگوں کی بھی شادیاں کرائی گئی ہیں۔ یہ سب لوگ بھی ہماری طرح لِو اِن رشتے میں ہی تھے۔'
متعدد جوڑوں کی شادیاں
پھولمنی ٹوٹی کی طرح کھونٹی میں منعقدہ اجتماعی شادی کی تقریب میں اور بھی بہت سے 'ڈھوکو' جوڑوں کی شادیاں ہوئی ہیں اور ان کے معاشرے کے مطابق اب ہر کسی کے لیو ان ریلیشن شپ کو سماجی اور قانونی شناخت مل گئی ہے۔
سلونتی منڈائن بھی ان میں سے ایک ہیں۔ ان کی عمر 69 سال ہے۔ ان کے پوتے پوتیاں ہیں لیکن ابھی تک ان کی شادی نہیں ہو سکی تھی۔ ان کے بڑے بیٹے کی عمر 40 سال ہے۔ وہ گذشتہ 46 سالوں سے اپنے شوہر پربھو سہائے آئند کے ساتھ لِو اِن رشتے میں رہ رہی تھیں۔
اب ان کی شادی ہو چکی ہے اور جھارکھنڈ کے قبائلی معاشرے کی روایت کے مطابق انھیں اپنے سسرال کی جائیداد پر مالکانہ حقوق مل گئے ہیں۔
سلونتی منڈائن اور پھولمنی ٹوٹی کی طرح پرمیلا ٹوپنو، ڈھیکلا اورائن، پھولو منڈائن، جاؤنی منڈائن، کرپا سوئے، مریم بودرا، شانتی آئند بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کی شادی برسوں کے لیو ان ریلیشن شپ اور بچوں کی پیدائش کے بعد ہوئی۔
جھارکھنڈ میں اس طرح کی شادیوں کی خبریں کسی کو حیران نہیں کرتیں، کیونکہ یہ قبائلیوں کی روایت میں شامل ہے۔
قبائلی معاشرے میں کئی قسم کی شادیاں رائج ہیں۔ اور ڈھوکو کی رسم میں ان میں سے ایک ہے۔
ڈھوکو کا رواج کیا ہے؟
قبائلی معاشرے کو عموماً خواتین کے غلبے والا سماج سمجھا جاتا ہے جہاں ہر فیصلے میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ تاہم جھارکھنڈ کے قبائلی علاقوں میں جائیداد پر قبضے کے لالچ میں کسی خاتون کو ڈائن بتا کر اس پر تشدد اور بعض معاملات میں قتل کے واقعات بھی نظر آتے ہیں اور دستیاب اعداد و شمار اس کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔
یہ بنیادی طور پر قبائلی معاشرے سے جڑا مسئلہ ہے۔ اس کے باوجود یہاں کے قبائلی معاشرے کے رسم و رواج خواتین کو شادی اور جیون ساتھی کے انتخاب کی آزادی کے معاملے میں خصوصی حقوق دیتے ہیں۔
قبائلی مذہبی رہنما بندھن تیگگا کے مطابق ڈھوکو رسم بھی اس آزادی کا اعلان ہے۔
یہ بھی پڑھیے
بندھن تیگگا نے بی بی سی کو بتایا: 'جھارکھنڈ کے دیہاتوں میں اکھاڑے (کشتی یا پہلوانی) کی روایت ہے۔ یہاں ہونے والی دھوم کڑیا کی تقریب کے دوران نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ انتظامات کیے جاتے ہیں۔ شام کو وہ ایک ساتھ ناچتے اور گاتے ہیں۔ اس دوران، اگر کوئی لڑکی یا نوجوان کسی کو پسند کرتا ہے تو وہ اس سے اظہار محبت کرتا ہے، پھر وہ یہ بات اپنے والدین کو بتاتے ہیں، اگر گھر والے اس شادی کے لیے راضی ہو جائیں تو ان کی شادی ہو جاتی ہے۔ لیکن بعض اوقات گھر والے اس سے متفق نہیں بھی ہوتے ہیں۔
'ایسی صورت میں یہ جوڑا لِو اِن میں میاں بیوی کے طور پر رہنے لگتے ہیں۔ جنھیں ڈھوکو کہا جاتا ہے۔ بہت سے معاملات میں ایسے جوڑے گاؤں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور بچے پیدا کرنے کے بعد گاؤں واپس آ جاتے ہیں۔ پھر یہ جوڑے اپنی شادی کی سماجی حیثیت کو قائم کرنے کے لیے گاؤں کے پنچوں کے پاس جاتے ہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں: 'پنچ ان پر جرمانہ عائد کرتا ہے۔ اس کی ادائیگی کے بعد، ان کی باقاعدہ طور پر شادی کر دی جاتی ہے۔ ایک ہی دن ایک ہی منڈپ میں یا چند گھنٹوں کے وقفے پر، والدین اور ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کی شادی بھی دیکھی جاتی ہے۔
اجتماعی شادی کیوں؟
بندھن تیگگا کہتے ہیں: 'عام طور پر ڈھوکو جوڑوں کے لیے معمولی جرمانے کا رواج ہے۔ بعض اوقات یہ 100-200 روپے یا خصی (بکرے) سے لے کر گاؤں بھر کے لوگوں کے لیے ضیافت تک ہوتا ہے۔ جرمانہ لگاتے وقت پنچ اس جوڑے کی مالی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔'
ڈھوکو رواج میں ایک ساتھ رہنے والے جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریبات کا اہتمام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم 'نیمت' کی بانی سکریٹری نکیتا سنہا کا خیال ہے کہ جھارکھنڈ میں اس طرح کی تقریبات کو مسلسل منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کول انڈیا اور کھونٹی ضلع انتظامیہ نے بھی ان کے پروگرام کی حمایت کی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'نیمت کے ذریعے ہم اب تک 1950 جوڑوں کی شادیاں کر چکے ہیں۔ اس کے لیے ایک درجن سے زائد اجتماعی شادیوں کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔ ایسی شادیوں کے انعقاد میں ہم اس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ ان جوڑوں کا مذہب کیا ہے۔ ان کی شادیاں ان کے مذہب کی روایات کے مطابق ہوتی ہیں خواہ وہ سرنا (قبائلی مذہب) سے ہوں یا ہندو، مسیحی یا کسی اور مذہب سے ہوں۔'
اب تک ہونے والی شادیوں کے اعداد و شمار کے مطابق 85 فیصد جوڑوں کی شادی اس وقت ہوئی جب ان کے بچے تھے۔ جبکہ 85 فیصد شادی شدہ جوڑے قبائل (درج ذیل فہرست ذات) ہیں۔