طالبان کے زیر قبضہ کابل سے انڈیا پہنچنے والی خاتون کی کہانی

سیف ہاؤس

،تصویر کا ذریعہLATIFA/BBC

،تصویر کا کیپشنلطیفہ نے ایک لفٹ کے شیشے میں اپنی تصویر کھینچی۔ وہ مسلسل اس خوف میں تھیں کہ ان کی ملک سے نکلنے کی تمام کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں
    • مصنف, نیہا شرما
    • عہدہ, بی بی سی، دلی

افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد سے انڈیا اپنی فضائیہ کے طیاروں کے ذریعے افغانستان میں پھنسے اپنے شہریوں کو نکال رہا ہے۔

افغانستان سے بچ نکلنے والی ایک انڈین خاتون نے اپنے پل پل کے تجربات ہمارے ساتھ شیئر کیے ہیں۔

لطیفہ (فرضی نام) نے 19 اگست کو کابل سے دہلی کے لیے ایئر انڈیا کی ٹکٹ بک کرائی تھی۔ لیکن انھیں اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی اتنی تیزی سے ہوگی اور طالبان صرف چند دنوں میں کابل سمیت پورے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔

طالبان کے کنٹرول سنبھالتے ہی تمام کمرشل پروازیں منسوخ کر دی گئیں اور اس کے ساتھ ہی ایئر انڈیا کی وہ پرواز بھی منسوخ ہوگئی جس کے ذریعے لطیفہ کو انڈیا آنا تھا۔

جب میں نے 21 اگست کی شام ان سے بات کی تو لطیفہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ایک منی بس میں تقریباً 20 گھنٹے سے بغیر کچھ کھائے پیے بیٹھی تھیں، وہ اس عرصے میں ٹوائلٹ بھی نہیں جا سکی تھیں۔

وہ کسی بھی طریقے سے انڈین فضائیہ کے طیاروں میں داخل ہونے کی مسلسل کوشش کر رہی تھیں۔

لطیفہ ایک انڈین خاتون ہیں اور ان کی شادی ایک افغان شہری سے ہوئی ہے اور وہ اس سے پہلے بھی وہ اکثر افغانستان آتی جاتی رہتی تھیں۔

مسافر

15 اگست

15 اگست کی صبح لطیفہ کو معلوم ہوا کہ افغانستان میں بیشتر سفارت خانے راتوں رات بند کر دیے گئے ہیں اور سفارت خانے کا عملہ جس طرح ممکن ہو وہاں سے نکل رہا ہے۔

لطیفہ کے شوہر چاہتے تھے کہ وہ جلد از جلد افغانستان چھوڑ دیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لطیفہ ایک انڈین شہری ہیں، اس لیے ان کی زندگی کو زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

لطیفہ اپنا پاسپورٹ اور نیلے رنگ کا برقعہ پہن کر اپنے شوہر کے ساتھ انڈین سفارتخانے گئیں تاکہ ان سے پروازوں، شوہر اور سسرال والوں کے ویزے کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں۔

لطیفہ نے بتایا 'جب ہم انڈین سفارت خانے پہنچے تو یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ سفارت خانہ اس وقت تک بند نہیں ہوا تھا۔ لیکن طالبان کے قبضے سے پیدا ہونے والی صورت حال اور تناؤ کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا۔ وہ تمام دستاویزات ضائع کر رہے تھے اور صفحات کو جلا رہے تھے۔

'دفتر کے عملے نے ہمیں بتایا کہ وہ شام تک کام کریں گے۔ میں اپنے خاندان کے باقی افراد کے لیے ویزا لینے پہنچی تھی۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ شام تک خاندان کے افراد کے پاسپورٹ اور دیگر ضروری دستاویزات لائیں۔ اس کے بعد میں گھر واپس آگئی۔'

انڈین سفارت خانے سے واپسی کے دوران انھوں نے چاروں طرف افراتفری دیکھی اور لوگوں کی بے بسی کو محسوس کیا۔

انھوں نے کہا 'لوگ طالبان کے خوف سے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ میرے شوہر نے میرا ہاتھ تھام لیا اور ہم تیزی سے اپنے گھر کی طرف چل رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ پورا کابل سڑکوں پر نکل آیا ہے اور ہوائی اڈے کی طرف بھاگ رہا ہے۔ یہ سب بہت خوفناک تھا۔

'جب میں گھر پہنچی تو میری عمارت میں سکیورٹی کا عملہ بدل گیا تھا۔ جو عملہ وہاں ہوا کرتا تھا ان کے پاس وردی ہوتی تھی لیکن اب جو افراد کھڑے تھے وہ کرتہ پاجامہ پہنے ہوئے تھے۔ میری عمارت طالبان کے محاصرے میں تھی۔‘

لطیفہ اور ان کے شوہر نے گھر سے پاسپورٹ اٹھایا اور اسی شام واپس سفارت خانے گئے۔ وہ خوش قسمت تھے کہ ان کے خاندان کے باقی افراد کو بھی ویزا مل گیا۔

اس کے بعد انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے فون کال کا انتظار شروع ہوا جس پر سب کچھ منحصر تھا۔ لطیفہ انڈین ہیں اس لیے ان کا نام ترجیحی فہرست میں شامل تھا۔

انڈینز

19 اگست

لطیفہ کہتی ہیں 'مجھے 19 اگست کو انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے ایک پیغام ملا۔ مجھ سے کہا گیا کہ میں کابل میں ایک مخصوص جگہ پر پہنچ جاؤں (سکیورٹی وجوہات کی بنا پر جگہ کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے)۔ جن لوگوں کو افغانستان چھوڑنا تھا انھیں اس جگہ پہنچنا تھا۔

'میں اپنے پورے خاندان کو چھوڑ کر جا رہی تھی، جو کسی بھی طرح آسان نہیں تھا۔ لیکن میرا خاندان میرے بارے میں پریشان تھا اور سب سے اہم بات یہ کہ ہمارے پاس سوچنے کا بھی وقت نہیں تھا۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ صرف ایک چھوٹا ہینڈ بیگ لائیں۔ چنانچہ میں نے اپنا لیپ ٹاپ، ہارڈ ڈرائیو، فون، ایک پاور بینک اٹھایا اور گھر سے نکل گئی۔'

لطیفہ کے علاوہ اس سیف ہاؤس میں تقریباً 220 دیگر مسافر تھے، جو افغانستان سے نکلنے کے لیے بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔ ان میں انڈین مسلمان، ہندو، سکھ اور کچھ افغان خاندان بھی تھے۔

لطیفہ بتاتی ہیں کہ وہ اس وقت سیف ہاؤس میں بھی محفوظ محسوس نہیں کر رہی تھیں۔ اس کے بعد اگلے دو دن بہت پریشانی اور تناؤ میں گزرے۔

لطیفہ بتاتی ہیں 'وہاں کوئی نظام نہیں تھا اور ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہمیں کب نکالا جائے گا۔ سیف ہاؤس کے اندر ہمیں کوئی سکیورٹی نہیں دی گئی تھی۔ بلکہ طالبان وہاں ہمیں باہر سے دیکھنے کے لیے موجود تھے تاکہ کوئی دوسرا فساد برپا کرنے والا گروہ ہم پر حملہ نہ کر سکے۔ ہم بہت غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے۔ خوف اس قدر زیادہ تھا کہ ہم سو بھی نہیں سکتے تھے۔'

مسافر

20 اگست

لطیفہ کا کہنا ہے کہ 20 اگست کو رات تقریباً دس بجے اچانک وہاں سے نکلنے کا حکم آیا۔ اسی رات 10 اور 11:30 کے درمیان تقریباً 150 مسافر سات منی بسوں میں ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ ہر منی بس میں 21 افراد کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔

لطیفہ کہتی ہیں 'طالبان ہمیں سکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔ ان کی ایک گاڑی ہم سے آگے اور دوسری ہمارے پیچھے چل رہی تھی۔ ہم رات کے تقریباً ساڑھے 12 بجے کابل ایئرپورٹ پہنچے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان سے باہر جانے کے لیے ایئرپورٹ کے باہر انتظار کر رہی تھی۔'

ایک طرف طالبان مسلسل فائرنگ کر رہے تھے تو دوسری طرف امریکی فوجی بھیڑ پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغ رہے تھے۔ ہمیں شمالی دروازے پر لے جایا گیا جسے زیادہ تر فوج استعمال کرتی ہے۔

اگرچہ طالبان نے انھیں اپنی نگرانی میں ایئرپورٹ تک پہنچایا تھا لیکن یہیں پر لطیفہ اور باقی مسافروں کی آزمائشوں کا خاتمہ نہیں ہوا تھا۔

امریکی فوجی کابل ایئرپورٹ کی نگرانی کر رہے ہیں اور انھوں نے ان مسافروں کو ایئرپورٹ میں داخل ہونے سے روک دیا۔

اس کی وجہ سے لطیفہ اور دیگر مسافروں نے 20 اور 21 اگست کی رات باہر کھڑی بس کے اندر بیٹھ کر گزاری۔ اس وقت تک ان لوگوں کو اس بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں کہ آخر انھیں کب نکالا جائے گا۔

لطیفہ کہتی ہیں 'ہمارے ساتھ بچے، عورتیں اور بیمار لوگ تھے۔ ہم در حقیقت بیچ سڑک پر پھنسے ہوئے تھے۔ کچھ عورتوں کے ماہواری کے دن تھے لیکن اردگرد بیت الخلا کی کوئی سہولت نہیں تھی۔ ہم ایک کھلی جگہ بیٹھے تھے جہاں کوئی بھی ہمیں دیکھ سکتا تھا، ہم پر حملہ کر سکتا تھا۔'

کابل ائیرپورٹ

،تصویر کا ذریعہBBC/LATIFA

21 اگست

لطیفہ اور ان کے ساتھ دوسرے مسافروں کے لیے یہ ایک مشکل رات تھی۔ لیکن صبح مزید خوفناک ہونے والی تھی۔

وہ کہتی ہیں 'صبح ساڑھے نو بجے کے قریب طالبان جنگجو ہماری بسوں میں گھس آئے اور ہمارے کوآرڈینیٹر سے پوچھ گچھ شروع کی۔ انھوں نے ان کا فون چھین لیا اور تھپڑ مارے۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔'

ان سات بسوں میں موجود تمام مسافروں کو طالبان جنگجو نامعلوم مقام پر لے گئے۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتی ہیں 'ہمیں ایک صنعتی علاقے میں لے جایا گیا۔ اب ہم ان کی تحویل میں تھے۔ وہاں موجود طالبان جنگجو نوجوان تھے۔ ان میں سے کچھ 17-18 سال کے نظر آتے تھے۔

'ہم خوفزدہ تھے اور تقریباً سبھی یہی سوچ رہے تھے کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ ہم سب کے لیے وہ چند گھنٹے زندگی کے خطرناک ترین گھنٹے تھے۔ ہم نے محسوس کیا کہ اب ہم دوبارہ کبھی اپنے خاندان سے نہیں مل سکیں گے۔ کبھی گھر نہیں جا سکیں گے۔'

ایک پارک میں چند مرد اور عورتیں علیحدہ علیحدہ بیٹھے تھے۔ طالبان جنگجو ان کے پاسپورٹ چھین چکے تھے اور ان سے پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ انڈین خواتین جنھوں نے افغانوں سے شادی کی تھی وہ باقی انڈینز سے الگ تھیں۔

لطیفہ کہتی ہیں 'میں نے انھیں بتایا کہ میں ہندوستانی ہوں اور انڈینز کے ساتھ رہنا پسند کروں گی تو انھوں نے کہا کہ مجھے افغانوں کے ساتھ رہنا چاہیے۔ مجھے ڈر تھا کہ وہ میرے انڈین بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ نہ جانے کیا کریں گے۔'

انھوں نے بتایا کہ 'ایک طالبان جنگجو نے مجھ سے پوچھا، آپ یہ ملک کیوں چھوڑنا چاہتی ہیں؟ ہم اسے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ افغانستان واپس آئیں گی؟ میں نے کہا نہیں، ہم آپ سے ڈرتے ہیں۔ اس پر انھوں نے ہمیں یقین دلایا کہ ہم سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘

ایئرپورٹ

،تصویر کا ذریعہBBC/LATIFA

وہ مزید بتاتی ہیں 'انھوں نے ہمیں پینے کے لیے پانی دیا لیکن نظریں نہیں ملائیں۔ بعد میں انھوں نے ہمیں بتایا کہ سکیورٹی کا خطرہ ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہم محفوظ رہیں۔ مجھے انڈین گروپ کے ایک دوست کا یہ پیغام بھی ملا کہ طالبان نے انھیں کھانا کھلایا اور ان کی اچھی دیکھ بھال بھی کی۔'

اس دن کے آخر میں مقامی افغان میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک طالبان ترجمان نے واضح کیا کہ انھوں نے مسافروں کو اس لیے حراست میں لیا تھا کیونکہ انھیں کچھ شبہات تھے اور وہ ہر ایک کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہتے تھے۔ انھوں نے مسافروں کے اغوا کی خبروں کی تردید کی۔

چند گھنٹوں بعد لطیفہ کو افغانوں اور دیگر ہندوستانی خواتین کے ساتھ بس میں بیٹھا دیا گیا۔ دیگر انڈین گروپس بھی ان میں شامل تھے۔ دوپہر دو بجے کے قریب وہ ایک بار پھر کابل ہوائی اڈے کے شمالی گیٹ پر کھڑے تھے اور ایک بار پھر ان کا ہوائی اڈے میں داخل ہونے کا انتظار شروع ہوا۔

لطیفہ کہتی ہیں 'وزارت خارجہ ہمیں ایئرپورٹ کے اندر لانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اسے کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ ہمیں غصہ آ رہا تھا کہ ہم نے انھیں طالبان کی حراست میں رہنے کی بات بتا دی تھی لیکن پھر بھی وہ کوئی کارروائی نہیں کر رہے تھے۔

'ہم نہیں جانتے کہ دروازے کے پیچھے کیا ہورہا ہے لیکن وہاں پھنسے ہر کسی کی طرح میں ناامید اور کمزور محسوس کرنے لگی۔ اگر وہ سفر کے متعلق بہت مطمئن نہیں تھے تو انھیں ہمیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کے لیے نہیں کہنا چاہیے تھا۔ ہم کم از کم اپنے گھروں میں چھپے ہوتے۔ اتنے خطرات کے بیچ تو نہیں ہوتے۔'

شام 5 بجے - لطیفہ والے گروپ کو انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے مطلع کیا گیا کہ انھیں اگلے 15-20 منٹ میں ایئرپورٹ پر لے جایا جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

شام 6 بجے - وزارت کی طرف سے ایک اور فون کال آئی اور اس بار لطیفہ اور اس کے گروپ کو سیف ہاؤس واپس جانے کو کہا گیا۔ اس وقت ایسا لگا کہ ہر کوشش بیکار ہو گئی۔

وہ کہتی ہیں کہ تب وہ سوچ رہی تھیں کہ 'کیا ہماری حکومت کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے؟ کیا وہ ہمیں ایئرپورٹ میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دلا سکتی؟ ہمیں یہاں چھوڑ دیا گیا ہے۔ کوئی تو ہمیں یہاں سے نکالے۔'

راتوں کو جاگتے ہوئے لطیفہ جذباتی طور پر ٹوٹ گئی تھیں۔ باقیوں کی حالت بھی ایسی ہی تھی۔

شام 6:50 - 'عہدیداروں نے ہمیں بتایا کہ ہمیں رات کو نکالا جا سکتا ہے لیکن کیا معلوم۔۔۔ انھوں نے یہ بات کئی بار کہی تھی۔ ہم مایوس ہوچکے تھے اور ہم میں سے بہت سے لوگ تو گھر واپس جانے کے بارے میں سوچنے لگے تھے۔ ہم تین دنوں تک سوئے نہیں تھے۔ جن کے ساتھ چھوٹے بچے تھے ان کے حالات زیادہ مشکل تھے۔'

8 بجے - تھکی ہاری اور مایوس لطیفہ نے یہ سوچ کر گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا کہ وہ اتنی جلدی تو ملک سے باہر نہیں جا سکیں گی، اور وہ چلی گئیں۔ لیکن بعد میں اسی رات انڈین فضائیہ کے سی-17 طیارے نے انڈین اور افغانوں کے ایک گروپ کو کامیابی سے نکال لیا۔ اور لطیفہ جیسے بہت سے لوگ جو گھر واپس چلے گئے تھے وہ پیچھے رہ گئے۔

9:40 بجے - 'مجھے دوسروں نے بتایا کہ یہ سب جلدی جلدی ہوا۔ انھیں سیف ہاؤس پہنچنے کے فوراً بعد ایئرپورٹ واپس لے جایا گیا۔ ان کے پاس مجھے اطلاع دینے کا وقت بھی نہیں تھا۔ میں پیچھے رہ گئی۔ وہ سب ایئرپورٹ کے اندر تھے۔'

لطیفہ کہتی ہیں 'میں سیف ہاؤس چھوڑنے کے فیصلے پر اپنے آپ سے ناراض نہیں ہونا چاہتی تھی۔ ہم ذہنی اور جسمانی طور پر تھکے ہوئے تھے۔ میں اب بھی پر امید تھی کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ مزید لوگوں کو نکالنے کے لیے پروازیں چلائی جائیں گی۔'

طالبان

،تصویر کا ذریعہLATIFA/BBC

22 اگست

وزارت خارجہ کی جانب سے لطیفہ سے دوبارہ رابطہ کیا گیا اور ان کا نام ان لوگوں کی نئی فہرست میں شامل کیا گیا جنھیں افغانستان سے نکالا جانا تھا۔

23 اگست

لطیفہ سے انڈین وزارت نے 2:30 (مقامی وقت) پر رابطہ کیا اور کہا کہ وہ صبح 5:30 بجے تک کسی مخصوص جگہ پر پہنچنے کو کہا۔ بسوں کو صبح 6:30 بجے ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہونا تھا۔

صبح 8 بجے دو منی بسیں 70 سے 80 مسافروں کو لے کر حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے مرکزی دروازے پر پہنچیں۔

'باہر کا منظر پہلے جیسا تھا۔ بہت سے لوگ اب بھی اپنی قسمت آزما رہے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ طالبان جنگجو لوگوں کو کوڑے مار رہے ہیں۔ وہ ہوا میں فائرنگ کر رہے تھے۔ ہمیں کہا گیا کہ تمام کھڑکیاں بند رکھیں اور پردے لگا لیں۔ یہ خوفناک منظر تھا۔'

صبح 8:45 - لطیفہ مین گیٹ سے بحفاظت ایئرپورٹ میں داخل ہوئیں۔

وہ کہتی ہیں 'ہم بمشکل اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔ مین گیٹ پر طالبان کے ارکان تھے۔ کچھ صدر دروازے کے اندر بھی نظر آئے۔ ہم مزید اندر گئے اور یہاں سے ہم امریکی فوجیوں کو دیکھ سکتے تھے۔ کچھ انڈین حکام ہمیں لینے آئے اور ہمارے پاسپورٹ چیک کیے۔'

صبح 10 بجے - تمام خواتین مسافر عارضی خیمے میں بیٹھی ہوئی تھیں اور امریکیوں نے انھیں کھانا دیا۔

دوپہر 11:20 بجے: 'امریکی فوجی آئے اور ہمیں خیمے سے باہر لے گئے اور اس کے بعد ہمیں چمکتے سورج کے نیچے ٹارمیک پر بیٹھا دیا گیا۔ ہم انڈین طیارے کے اترنے کا انتظار کر رہے تھے۔ ہم نے سنا کہ وہ امریکی فوجیوں سے اجازت کے انتظار میں تھا۔'

دوپہر 12:04 بجے: 'میں انڈین فوجی طیارے کو ٹارمیک سے دور کھڑا دیکھ سکتی تھی۔ اس کے بعد ہمیں طیارے میں سوار کرنے کے لیے لے جایا گیا۔'

12:20 بجے: 'ہم انڈین فوجی طیارے کے اندر تھے اور وہ ہمیں تاجکستان لے جا رہے تھے۔'

1 بجے: لطیفہ کا فون بند ہو گیا۔ بی بی سی نے انھیں چیک کرنے کے لیے کال کرنے کی کوشش کی۔ لیکن بات نہ ہو سکی۔ اس کا شاید مطلب یہ ہے کہ یہ پرواز کابل سے تاجکستان گئی۔

24 اگست

بالآخر لطیفہ کی پرواز صبح 9:40 پر دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتری، اس طرح انن کی طویل پریشانی کا اختتام ہوا۔

فلائٹ سے اترنے کے فوراً بعد میں نے انھیں فون کیا اور کہا 'ویلکم ہوم، لطیفہ۔'

یہ سن کر وہ رونے لگیں اور کہنے لگیں کہ ’میں یہاں آئی ہوں لیکن میرے شوہر اور خاندان والے ابھی تک افغانستان میں ہیں‘۔

لطیفہ نے کہا 'کابل میں میرے ساتھ جو ہوا اب مجھے سب کچھ یاد آرہا ہے۔ جب ہم کابل میں تھے تو ہمارے پاس سوچنے کے لیے ایک منٹ بھی نہیں تھا، لیکن جیسے ہی فلائٹ دوشانبے پہنچی سب کچھ یاد آنے لگا۔'

انھوں نے کہا 'میں منجمد سی ہو گئی ہوں۔ اب میں صرف یہ دعا کر رہی ہوں کہ میرے شوہر اور ساس بھی جلد سے جلد باہر نکل آئیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا میں یہ محسوس نہیں کروں گی کہ میں گھر واپس آگئی ہوں۔'