پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کا انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ’شکریہ‘ کا جوابی خط

    • مصنف, بلال کریم مغل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے چند روز قبل انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے یومِ پاکستان کے تہنیتی خط کا جواب دیا ہے جس میں اُنھوں نے تنازع کشمیر کے حل کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

حکومتِ پاکستان کے ذرائع نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس خط کی تصدیق کر دی ہے۔

انتیس مارچ کو لکھے گئے اس خط میں عمران خان نے انڈین وزیرِ اعظم کے خط کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستانی عوام بھی انڈیا سمیت تمام پڑوسیوں کے ساتھ پرامن اور باہمی تعاون پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔

پاکستان کے سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے تو دونوں ممالک کے درمیان بات بھی نہیں ہو رہی تھی، تاہم اب بات چیت ہو رہی ہے جو نہایت محتاط اور سفارتی آداب کے مطابق ہے جس میں دونوں اطراف سے اپنے اپنے پیغام دیے گئے ہیں۔

سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بھی خطوط کے اس تبادلے کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی مذاکرات میں پیش رفت صرف تب ہوتی ہے جب دونوں فریق ایک دوسرے کے بنیادی خدشات پر توجہ دیں۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان نے مزید لکھا کہ ہمیں یقین ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام انڈیا اور پاکستان کے درمیان تمام زیرِ التوا تنازعات کے حل سے ہی ممکن ہے جس میں خصوصی طور پر جموں و کشمیر کا تنازع شامل ہے۔

اُنھوں نے اس خط میں کووڈ 19 کی عالمی وبا کے خلاف انڈیا کے لوگوں کی کوششوں کے لیے بھی نیک تمنّاؤں کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ 23 مارچ کو انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کو یومِ پاکستان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک پڑوسی ملک کے طور پر انڈیا پاکستان کے عوام کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے۔

اسی طرح انڈیا کے صدر رام ناتھ کووند نے بھی پاکستان کے صدر عارف علوی کے نام ایک خط میں اُنھیں یوم پاکستان کے موقعے کے حساب سے مبارکباد پیش کی تھی۔

’علاقائی بحران نریندر مودی کے خط کی وجہ‘

عمران خان اور نریندر مودی کے درمیان خطوط کے اس تبادلے پر پاکستان کے سابق وفاقی وزیر اور موجودہ سینیٹر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان برف تو ضرور پگھلی ہے تاہم اسے 'بریک تھرو' نہیں کہا جا سکتا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پہلے تو دونوں ممالک کے درمیان بات بھی نہیں ہو رہی تھی، تاہم اب بات چیت ہو رہی ہے جو نہایت محتاط اور سفارتی آداب کے مطابق ہے جس میں دونوں اطراف سے اپنے اپنے پیغام دیے گئے ہیں۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ وہ نریندر مودی کی جانب سے خط بھیجنے میں پہل کو کیسے دیکھتے ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک مثبت قدم ہے اور انڈیا علاقائی بحرانوں کی وجہ سے یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال سے لے کر اب تک انڈیا کی چین کے ساتھ لداخ میں جھڑپیں ہو چکی ہیں جبکہ نیپال کے ساتھ بھی اس کے تعلقات خراب ہیں۔

مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ باوجود اس کے کہ یہ ایک مثبت قدم ہے، اُنھوں نے دہشتگردی کے حوالے سے انڈیا کا روایتی مؤقف پیش کیا ہے اور پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی اپنے خط میں جواباً یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنے کے انڈین اقدام کو تسلیم نہیں کرتا اور اُس کے نزدیک سازگار ماحول کسی بھی نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے ضروری ہے۔

تاہم مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ یہ بات نہایت اہم ہے کہ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان گفتگو نہایت مہذب اور شائستہ انداز میں ہو رہی ہے جو خوش آئند بات ہے۔

اُنھوں نے دونوں وزرائے اعظم کے خط کی ایک جیسی آخری سطر کے بارے میں کہا کہ یہ سفارتی آداب ہیں کہ بھلے ہی آپس میں تلخی ہو لیکن رابطے میں شائستگی کا پہلو برقرار رکھا جائے۔

’دونوں ممالک کو امن کی ضرورت ہے‘

پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ، سابق سفیر اور انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے ڈائریکٹر اعزاز احمد چوہدری کہتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے درمیان خطوط کا تبادلہ اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی امن کی خواہش کی علامت ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے کیونکہ دونوں ہی ممالک کو اپنے اپنے لوگوں کی سماجی اور اقتصادی ترقی پر توجہ دینے کے لیے پرامن ماحول کی ضرورت ہے۔

اعزاز چوہدری نے مزید کہا کہ اسی دوران پاکستان نے یہ باور کروا دیا ہے کہ گفتگو کے لیے سازگار ماحول صرف مسئلہ کشمیر کے معنی خیز حل کی صورت میں بن سکتا ہے۔

انڈیا پاکستان کے درمیان غیر معمولی پیش رفت

نریندر مودی اور عمران خان کے درمیان خط و کتابت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر نئے سرے سے سیز فائر ہوا ہے۔

گذشتہ مہینے دونوں ملکوں کے ملٹری آپریشن کے ڈائریکٹرز نے اچانک کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس وقت سے جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ حال ہی میں سندھ طاس معاہدے کی سالانہ بات چیت کے لیے پاکستان کا ایک آٹھ رکنی وفد پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ کی قیادت میں نئی دلی میں اپنے انڈین ہم منصبوں سے مذاکرات کیے ہیں۔ یہ بات چیت دو سال کے بعد ہو رہی ہے۔

حال ہی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کو ماضی بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے۔

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اس میں تیسری طاقتیں بھی کردار ادا کر رہی ہیں۔

سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ عادل الجبیر نے چند دن قبل اعتراف کیا تھا کہ سعودی عرب انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الجبیر نے کہا تھا کہ سعودی عرب پورے خطے میں امن چاہتا ہے اور اس کے لیے متعدد سطح پر کوشش کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حالیہ واقعات کسی پسِ پردہ پیش رفت کا نتیجہ ہیں۔