آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنگلہ دیش میں موجود روہنگیا پناہ گزین زبردستی دورافتادہ ’غیر محفوظ ‘ جزیرے پر منتقل
- مصنف, اکبر حسین
- عہدہ, بی بی سی بنگالی
انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں نے بنگلہ دیش کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کے تحت بنگلہ دیشی حکام نے ہزاروں روہنگیا پناہ گزینوں کو ان کی مرضی کے بغیر درو دراز ایک غیر محفوظ جزیرے میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
اس جزیرے کے بارے میں یہ تحفظات پائے جاتے ہیں کہ وہ محفوظ نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعے کے دن تقریباً 1600 پناہ گزینوں کو بھیسن چر جزیرے کی طرف لے جایا گیا۔ اس جزیرے پر سیلاب کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں۔
تاہم بنگلہ دیش نے واضح کیا ہے کہ جن پناہ گزینوں کو اس جزیرے پر منتقل کیا گیا ہے ان سے پہلے کی اس کی پیشگی اجازت لی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں نے اکتوبر میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ اس جزیرے پر منتقل نہیں ہونا چاہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ جمعے کے دن بھی ان پناہ گزینوں کو اس 'غیر محفوظ‘ جزیرے پر ان کی مرضی کے بغیر لے جایا گیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق انھوں نے بنگلہ دیش میں مقیم 12 روہنگیا پناہ گزینوں کے خاندانوں سے بات کی ہے، جن کا نام جانے والوں کی فہرست میں شامل ہے تاہم ان کا مؤقف تھا کہ وہ اس جزیرے پر منتقل ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی منتقلی کے بارے میں اس کے ساتھ محدود اطلاعات شئیر کی گئی ہیں۔
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ عبدالمومن نے جمعرات کو وضاحت دی ہے کہ ان کی حکومت نے کسی کو بھی بھیسن چر جزیرے پر زبردستی منتقل نہیں کیا ہے اور ہمارے عزم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ میانمار سے بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں کی اقلیت اس وقت ملک چھوڑ کر چلی گئی جب میانمار کی فوج نے تین سال قبل بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا تھا، جس کے بارے میں اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان فوجی کارروائیوں میں دس ہزار لوگوں کا قتل کیا گیا جبکہ 730,000 لوگوں کو زبردستی ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔
بڑے پیمانے پر کی جانے والی ان فوجی کارروائیوں کے بعد سے اب تک روہنگیا پناہ گزینوں کی بڑی تعداد ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کے کاکس بازار کے کیمپس میں رہنے پر مجبور ہے۔
ان پناہ گزینوں میں سے 55 سال کی راشدہ خاتون نے بی بی سی کو اکتوبر میں بتایا تھا کہ بھیسن چر کو بھیجے جانے والے 300 پناہ گزینوں میں ان کے بچے بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس سال کے آغاز میں انھوں نے بنگلہ دیش جانے کی کوشش میں کئی ماہ سمندر کے اندر ہی گزارے مگر اب انھیں ان کی مرضی کے بغیر اس جزیرے کی طرف بھیجا گیا ہے۔
جب بی بی سی کے نمائندے نے اکتوبر میں اس جزیرے کا دورہ کیا تھا تو بنگلہ دیشی حکام نے یہاں بسنے والے پناہ گزینوں تک رسائی دینے سے انکار کر دیا تھا۔
جمعرات کو ایک 31 برس کے شخص نے فون پر روئٹرز کو بتایا کہ اسے کاکس کے بازار سے ایک بس پر سوار کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق حکام انھیں یہاں سے زبردستی لے جا رہے ہیں۔ تین دن قبل جب میں نے سنا کہ میرا خاندان بھی اس فہرست میں شامل ہے تو میں اس علاقے سے بھاگ گیا تھا مگر گذشتہ روز میں پکڑا گیا اور حکام اب مجھے جزیرے کی طرف بھیجنے کے لیے یہاں لے آئے ہیں۔
محمد شمسود دوزا بنگلہ دیش کے ایک سرکاری افسر ہیں جو ان پناہ گزینوں کے نگران بھی ہیں کا کہنا ہے کہ یہ منتقلی رضاکارانہ طور پر کی جا رہی ہے۔
وہ (پناہ گزین) وہاں خوشی خوشی سے جا رہے ہیں۔ کسی پر کوئی زور زبردستی نہیں کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق حکومت کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے بشمول اس جزیرے کے رہائشی پناہ گزینوں کی آرام دہ رہائش اور ضروریات کے لیے بھی تمام ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
بنگلہ دیشی حکام اس جزیرے پر تین سال سے 350 ملین ڈالر کی لاگت سے ان پناہ گزینوں کے لیے رہائش کا بندوبست کر رہے ہیں۔ ان حکام کا مقصد بنگلہ دیش کے اندر پناہ گزینوں کے کیمپس پر بوجھ کم کرنا ہے۔
اس سال کے آغاز میں پناہ گزینوں کو درپیش مسائل کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشل نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق 306 روہنگیا خاندان پہلے سے ہی اس جزیرے پر رہ رہے ہیں۔
اس رپورٹ میں اس جزیرے پر بسنے والوں کے لیے غیر مناسب اور غیر صحت مندانہ حالات کے بارے میں الزامات عائد کیے گئے تھے۔ رپورٹ میں ان پناہ گزینوں کو محدود خوراک اور صحت کی سہولیات کا ذکر شامل ہے۔
ایمنسٹی نے لکھا ہے کہ ان خاندانوں کو اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کرنے کے لیے فون تک کی بھی مناسب سہولت دستیاب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس جزیرے پر نیوی اور مقامی مزدوروں کی طرف سے ان پناہ گزینوں کو یہاں پر جنسی ہراسانی کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیوی کے اہلکار اور مقامی مزدور ان پناہ گزینوں سے بھتہ بھی وصول کرتے ہیں۔
نیوی کے ترجمان کموڈور عبداللہ المعموم چوہدری نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم ان پناہ گزینوں کا اپنے مہمانوں کی طرح خیال رکھ رہے ہیں اور انھیں معیاری کھانے سمیت تمام سہولیات تک رسائی دی گئی ہے۔‘