چین انڈیا کشیدگی: چینی اخبار گلوبل ٹائمز میں 15 جون کی رات وادی گلوان میں چینی ہلاکتوں کا ذکر

چین میں حکومت کے زیر اثر اخبار گلوبل ٹائمز کے ایڈیٹر نے جون میں ہونے والی جھڑپ میں چین کو ہونے والے جانی نقصان کا ذکر کیا ہے جسے انڈیا میں چین کی جانب اپنے فوجیوں کے ہلاکتوں کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 15 جون کی رات وادی گلوان میں چین اور انڈیا کے فوجیوں کے درمیان پر تشدد جھڑپ ہوئی تھی جس کے بعد انڈیا نے تسلیم کیا تھا کہ اس کے 20 فوجی ہلاک ہوئے ہیں تاہم چین نے کسی قسم کے جانی نقصان کو تسلیم نہیں کیا تھا اور اس معاملے میں چینی حکام کی جانب سے خاموشی رہی ہے۔

اس جھڑپ میں ہلاک ہونے والے چینی فوجیون کی تعددا کے بارے میں ابھی تک کچھ واضح نہیں ہے۔ گلوبل ٹائمز جیسے اخبار بھی اب تک چینی فوجیوں کی ہلاکت کی بات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ اب پہلی بار اسی اخبار کے ایڈیٹر نے چین کو پہنچنے والے نقصان کی بات کی ہے۔

اخبار کے ایڈیٹر ہو شی جن نے جمعرات کو اپنے ٹویٹ میں کہا 'جتنا میں جانتا ہوں اس کے مطابق وادی گلوان میں 15 جون کو انڈیا کے 20 فوجیوں کی ہلاکت کے مقابلے چین کے بہت کم فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ کسی بھی چینی فوجی کو انڈین فوجیوں نے نہیں پکڑا تھا جبکہ پی ایل اے (چین کی پیپلز لبریشن آرمی) کے کئی جوانوں نے انڈین فوجیوں کو پکڑا تھا۔'

چین اور انڈیا سے متعلق مزید پڑھیے

ان کی ٹویٹ اور گلوبل ٹائمز کا آرٹیکل انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے کہاں تھا کہ اس رات چین کو سرحد پر بھاری جانی نقصان پہنچا تھا۔

راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ 'اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چین نے 15 جون کو گلوان میں پُرتشدد حالات پیدا کر دیے۔ ہمارے جوان ہلاک ہوئے اور چین کو بھی بہت نقصان پہنچا اور ہم اپنی سرحد کی حفاظت میں کامیاب ہو گئے۔ اس پورے عرصے کے دوران ہمارے بہادر فوجیوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور جہاں بہادری کی ضرورت تھی وہاں بہادری کا مظاہرہ بھی کیا۔'

گلوبل ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہو شی جن نے لکھا ہے کہ 'انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ 15 جون کو وادی گلوان میں چینی فوجیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس طرح کے بیان کا مقصد انڈیا کے قوم پرست طبقے کو خوش کرنا ہے اور میں آج اس جھوٹ کو بے نقاب کروں گا‘۔

انھوں نے کہا کہ ’چین کی جانب صورتحال سے باخبر افراد کے مطابق‘ وادی گلوان میں 15 جون کو ’چینی فوج کو انڈین فوج کے مقابلے بہت کم جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا، جبکہ انڈیا کے 20 فوجی ہلاک اور متعدد بری طرح زخمی ہو گئے تھے‘۔

ساتھ ہی انھوں نے لکھا ’لیکن صرف ایک چینی فوجی کی ہلاکت کو بھی بڑے نقصان کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے‘۔

انھوں لکھا ہے کہ 'سرحد پر تعینات پی ایل اے کے اہلکار اور فوجی بہادر ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر 1990 یا 2000 کی دہائی میں پیدا ہوئے ہیں۔ اچانک سامنے آنے والی مشکلات سے وہ خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں۔ انڈین فوج اپنے وعدے نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ چینی فوج کے کچھ اہلکار اور فوجی سرحد پر گئے تھے تبھی انڈین فوجی زبردستی بات چیت کرنے پر اسرار کرنے لگے۔ اسی درمیان انڈین فوجیوں نے بغیر بتائے حملہ کر دیا اور اس طرح ٹکراوٴ شروع ہوا۔ '

چین اور انڈیا سے متعلق مزید پڑھیے

کئی دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر ہونے والا یہ اپنی قسم کا پہلا واقعہ تھا۔ چین نے اب تک سرکاری طور پر نہیں بتایا ہے کہ اس کا کوئی فوجی ہلاک ہوا تھا یا نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر اب بھی کشیدگی برقرار ہے۔

جمعرات کو انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ انڈیا چین کے سامنے جھکے گا نہیں اور ہر قسم کے چیلینج کے لیے تیار ہے۔