چین کی اویغور برادری: ایک ماڈل کی ویڈیو جس نے چین کے حراستی مراکز کی غیرمعمولی تفصیلات سے آگاہی دی

    • مصنف, جون سڈورتھ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

مردن گھاپر اپنی تصویریں اتارنے کے عادی تھے۔ 31 سالہ چینی ماڈل ایک آن لائن کپڑوں کے سٹور ’تاؤ باؤ‘ کی تشہیر کے لیے اپنی تصاویر اور ویڈیوز بناتے تھے اور ان جاذبِ نظر تصاویر اور ویڈیوز کا انھیں معقول معاوضہ ملتا تھا۔

لیکن گھاپر کی بنائی جانے والی ایک ویڈیو ان کی دیگر ویڈیوز سے کچھ مختلف تھی۔

چمکتے دمکتے سٹوڈیو یا شہر کی کسی معروف شاہراہ کے برعکس ان کی ویڈیو میں نظر آنے والے پسِ منظر میں گرد اور مٹی سے اٹی دیواروں کا ایک خالی کمرہ تھا اور اس کی کھڑکی پر سٹیل کا جال لگا تھا۔ اس ویڈیو میں وہ کوئی پوز بنانے کی بجائے اپنے چہرے پر بے چینی کے تاثرات کے ساتھ خاموشی سے بیٹھے تھے۔

اس ویڈیو میں اپنے دائیں ہاتھ میں کیمرے کی مدد سے انھوں نے اپنے گندے کپڑے، سوجے ہوئے ٹخنے اور اپنے بائیں ہاتھ میں لگی ہتھکڑی دکھائی۔ ہتھکڑی کو کمرے میں موجود لوہے کے بیڈ کے ساتھ بندھا گیا تھا۔

گھاپر کی یہ ویڈیو اور اس کے ساتھ چند ٹیکسٹ میسجز بی بی سی کو بھی بھیجے گئے۔ یہ چین کے انتہائی محفوظ اور خفیہ حراستی مراکز کے اندر سے بھیجی جانے والی پہلی اور نایاب مگر خوفناک ویڈیو تھی۔

یہ بھی پڑھیے

اس مواد نے چین کی جانب سے ملک کے دورافتادہ مغربی سنکیانگ صوبے کے علاقے میں ’تین شیطانی قوتوں‘ یعنی علحیدگی پسندی، دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف جاری لڑائی کے موجود شواہد میں اضافہ کیا ہے۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران مستند تخمینے کے مطابق دس لاکھ سے زائد چینی مسلمان اویغور اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو جبری طور پر چین نے سنکیانگ صوبے کے سرکاری حراستی مراکز میں مقید رکھا گیا ہے۔

چین ان کو انسداد شدت پسندی کی تربیت کے رضاکارانہ سکول قرار دیتا ہے۔

ہزاروں بچوں کو ان کے والدین سے جدا کر دیا گیا ہے جبکہ حالیہ تحقیق سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ان مراکز میں موجود خواتین کو جبری طور پر مانع حمل کے طریقے اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ گھاپر کی ویڈیو سے ان مراکز میں تشدد اور بدسلوکی کے الزامات کے واضح شواہد ملتے ہیں۔ حالانکہ چین نے متعدد بار کہا ہے کہ ان تعلیمی مراکز میں سے بیشتر کو بند کر دیا گیا ہے تاہم شواہد بتاتے ہیں کہ اویغور اب بھی بڑی تعداد میں بنا کسی جرم کے ان مراکز میں قید ہیں۔

گھاپر کی جانب سے بنائی گئی اس ویڈیو میں چین کی اویغور برادری پر بڑے پیمانے پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی نئی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ ان میں ایک دستاویز بھی شامل ہے جس میں 13 سال کے بچوں کو ’توبہ کرنے اور گرفتاری‘ دینے کا کہا گیا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب سنکیانگ میں کورونا کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے گھاپر نے ان حراستی مراکز کے مخدوش، گندے اور گنجان آباد حالات پر ویڈیو بنا کر عالمی وبا کے دور میں ان حراستی مراکز میں کورونا کے ممکنہ پھیلاؤ کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔

بی بی سی نے اس بارے میں سرکاری موقف جاننے کے لیے چین کی وزارت خارجہ اور سنکیانگ حکام سے متعدد بار رابطے کرنے کی کوشش مگر ان میں سے کسی نے جواب نہیں دیا۔

گھاپر کے اہلخانہ کو ان پیغامات کے بند ہونے کے بعد گذشتہ پانچ ماہ سے اُن کے متعلق کچھ علم نہیں ہے۔

انھیں اندازہ ہے کہ گھاپر کی جانب سے اپنے سیل میں بنائی جانے والی اس چار منٹ 38 سیکنڈ کی ویڈیو کے بعد ان پر ممکنہ طور پر مزید دباؤ ڈالا گیا ہو گا اور انھیں مزید سزا کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ خصوصی طور پر ان کے کیس کو اجاگر کرنا اور عمومی طور پر چین میں اویغوروں کے حالات کے متعلق بات کرنا ان کی ’آخری امید‘ ہے۔

مردن گھاپر کے چچا عبدالحکیم گھاپر، جو اب ہالینڈ میں مقیم ہیں، کا خیال ہے کہ یہ ویڈیو بھی ملک میں عوام کی رائے کو اسی طرح متاثر کر سکتی ہے جیسا کہ جارج فلائیڈ کے ساتھ پولیس کے سلوک کی فوٹیج امریکہ میں نسلی امتیاز کی ایک طاقتور علامت بن گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ان دونوں نے اپنی نسل کے وجہ سے بربریت کا سامنا کیا ہے۔ لیکن امریکہ میں لوگ اپنی آواز اٹھا رہے ہیں جبکہ ہمارے کیس میں وہاں مکمل خاموشی ہے۔‘

سنہ 2009 میں مردن گھاپر نے بھی بہتر مستقبل کے لیے دیگر اویغور شہریوں کی طرح سنکیانگ چھوڑ کر ملک کے مشرقی علاقوں کا رخ کیا تھا۔

انھوں نے سنکیانگ آرٹس یونیورسٹی سے ڈانس کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ انھیں پہلے ایک ڈانسر کی نوکری ملی اور پھر چند برسوں بعد انھوں نے جنوبی چین کے شہر فوشان میں ماڈلنگ کے پیشے کو اختیار کر لیا تھا۔ گھاپر کے دوستوں کے مطابق وہ روزانہ ایک ہزار پاؤنڈز تک کما لیتے تھے۔

مردن گھاپر کی کہانی ملک کی متحرک اور بڑھتی ہوئی معیشت اور صدر شی جن پنگ کے ’چین کے خواب‘ کے اشتہار کی طرح لگتی ہے۔

لیکن چینی حکام طویل عرصے سے اویغوروں کو ان کی ترک زبان، اسلامی عقیدے اور وسطی ایشیا کے لوگوں اور ثقافتوں سے تعلق کے باعث شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ انھیں چینی معاشرے میں بھی وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مردن گھاپر کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ مردن کو بتایا گیا تھا کہ ان کے ماڈلنگ کریئر کے لیے یہ بہتر ہو گا اگر وہ اپنی اویغور کی شناخت کو چھپا لیں اور اپنے چہرے کے خدوخال کے متعلق لوگوں سے کہیں کہ وہ ’آدھے یورپی‘ ہیں۔

ان کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ حالانکہ مردن نے اتنا بہت پیسہ کما لیا تھا کہ وہ ایک مناسب اپارٹمنٹ خرید سکتے لیکن وہ اس کو اپنے نام پر نہیں کروا سکتے تھے جبکہ انھوں نے اس کے لیے اپنی ایک چینی دوست ہان کا نام استعمال کیا اور انھیں اپنی دوست کے نام پر فلیٹ خریدنا پڑا۔

لیکن یہ نا انصافیاں ان کے لیے مستقبل کی مشکلات کے سامنے معمولی لگتی ہے۔

سنہ 2013 میں چین کے شہر بیجنگ اور سنہ 2014 میں کنمنگ شہر میں راہ گیروں پر ہونے والے وحشیانہ حملوں کے بعد سے، جن کا الزام چین اویغور علیحدگی پسندوں پرعائد کرتا ہے، ریاست نے ملک میں اویغوروں کو نہ صرف شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کیا ہے بلکہ انھیں غدار بھی سمجھا جانے لگا ہے۔

سنہ 2018 میں جب ریاست چین نے اویغوروں کے متعلق اپنا موقف اپنا لیا تو سنکیانگ میں تیزی سے اور وسیع پیمانے پر کیمپوں اور جیلوں کا ایک نظام تعمیر کیا گیا تھا۔

اس وقت تک گھاپر چین کے شہر فوشان میں مقیم تھے جہاں ان کی زندگی میں اچانک سے بُرے دور کا آغاز ہونے والا تھا۔

اسی برس اگست میں انھیں بھنگ فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور 16 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ الزام ’من گھڑت‘ تھا۔

وہ واقعی مجرم تھے یا نہیں لیکن ان کی بریت کا امکان بہت کم تھا۔ ملک کے اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چین فوجداری عدالتوں کے سامنے لائے جانے والے 99 فیصد افراد کو سزا سنائی گئی ہے۔

لیکن نومبر 2019 میں ان کی رہائی کے وقت ملنے والی خوشی بہت قلیل مدتی تھی اور ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ کے بعد پولیس نے ایک بار پھر ان کے گھر کے دروازے پر دستک دی اور انھیں بتایا گیا کہ انھیں معمول کے رجسٹریشن عمل کے لیے سنکیانگ واپس جانا ہو گا۔

بی بی سی نے ایسے سات ثبوتوں کا مشاہدہ کیا ہے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے کوئی اور جرم نہیں کیا تھا جبکہ حکام کا کہنا تھا کہ ’انھیں اپنی مقامی برادری میں چند دن تعلیم و تربیت حاصل کرنے کی ممکنہ ضرورت ہے۔‘

یہ چینی حکام کی جانب سے حراستی مراکز میں لے جانے کا ایک اچھا انداز میں بنائے جانے والا بہانہ ہے۔

رواں برس 15 جنوری کو گھاپر کو فوشان سے سنکیانگ میں ان کے آبائی شہر کچا لے جائے جانے سے قبل ان کے اہلخانہ اور دوستوں کو ان کے لیے گرم کپڑے اور موبائل فون لانے کی اجازت دی گئی۔ گھاپر کے ساتھ دو پولیس اہلکار بھی آئے تھے۔

یہ شواہد بھی موجود ہیں کہ دیگر اویغوروں کو چین کے دیگر علاقوں یا بیرون ملک سے جبری طور پر واپس ان کے گھر بھیجا گیا۔

مردن گھاپر کے اہلخانہ کو یقین ہے کہ وہ انھی تعلیم کے نام سے بنائے گئے حراستی مراکز میں کہیں کھو گئے ہیں۔

لیکن تقریباً ایک ماہ بعد انھیں ایک بہت ہی حیران کُن خبر سننے کو ملی۔

وہ خبر یہ تھی کہ کسی نہ کسی طرح مردن کو حراستی مرکز کے اندر اپنے موبائل فون تک رسائی مل گئی تھی اور وہ اسے بیرونی دنیا سے رابطے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

مردن گھاپر کے ٹیکسٹ میسجز، جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ اسی کمرے سے بھیجے گئے تھے جہاں انھوں نے اپنی ویڈیو بنائی تھی، سنکیانگ پہنچنے کے بعد ان کے تجربے کی اس سے بھی زیادہ خوفناک تصویر کی عکاسی کر رہے تھے۔

چین کی سوشل میڈیا ایپ وی چیٹ کے ذریعے لکھے جانے والے پیغامات میں انھوں نے بتایا کہ انھیں پہلے کچا میں پولیس جیل میں رکھا گیا۔

انھوں نے لکھا کہ ’میں نے ایک چھوٹے سے کمرے میں جو زیادہ سے زیادہ 50 میٹر کا ہو گا 50 سے 60 افراد کو قید دیکھا جہاں بائیں جانب مردوں اور دائیں جانب خواتین کو رکھا گیا تھا۔‘

سب نے نام نہاد ’چار پیس سوٹ‘ پہنا ہوا تھا جس میں ایک سر کو ڈھانپنے والی بوری، ہتھکڑیاں، بیڑیاں اور ایک لوہے کی چین تھی جو ہتھکڑی اور بیڑیوں کے ساتھ منسلک تھی۔

چین کی جانب سے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کے استعمال پر ماضی میں انسانی حقوق کی تنظیمیں تنقید کرتی رہی ہیں۔

مردن گھاپر کو بھی یہ سب کچھ پہنایا گیا اور انھیں دیگر قیدیوں کے ساتھ بند کر دیا گیا۔ اس سیل میں جہاں دو تہائی حصے پر قیدی تھے گھاپر کو علم ہوا کہ وہاں لیٹنا ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے اپنے ٹیکسٹ میسجز میں سے ایک میں لکھا کہ ’میں نہ اپنے سر کے اوپر سے کپڑا ہٹایا اور پولیس افسر سے کہا کہ میری ہتھکڑیاں بہت سختی سے باندھی گئی ہیں اور اس سے میری کلائیوں میں تکلیف ہو رہی ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’وہ غصہ سے مجھ پر چلایا کہ اگر تم نے دوبارہ اپنے سر سے کپڑا ہٹایا تو وہ مجھے مار مار کر ہلاک کر دے گا۔ اور اس کے بعد مجھے اس سے بات کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔‘

’موت وہ آخری چیز تھی جو میں وہاں چاہتا تھا‘

انھوں نے جیل میں تفتیشی کمروں سے آنے والی مسلسل چیخوں کی آواز کے متعلق بھی لکھا۔

انھوں نے اپنے پیغامات میں ان حراستی مراکز اور جیلوں کے اندر صفائی ستھرائی کے ناقص اور انتہائی بُرے حالات کے متعلق بھی لکھا کہ کیسے قیدیوں کے سروں میں جوئیں پڑی ہوئی تھیں اور وہ تمام مٹھی بھر پلاسٹک کے پیالے اور چمچ آپس میں بانٹ کر استعمال کر رہے تھے۔

انھوں نے لکھا کہ ’کھانے سے قبل پولیس متعدی بیماریوں سے متاثرہ افراد سے اپنے ہاتھ اٹھانے کا کہتی اور وہ سب سے آخر میں ان برتنوں میں کھانا کھاتے۔‘

’لیکن اگر آپ پہلے کھانا چاہتے ہیں تو آپ کو خاموش رہنا ہے، آپ سمجھتے ہیں یہ اخلاقی معاملہ ہے۔‘

پھر 22 جنوری کو جب چین میں کورونا وائرس عروج پر تھا قیدیوں تک بھی اس وبا کے قومی سطح پر پھیلاؤ کے روک تھام کی خبر پہنچ گئی۔

مردن گھاپر کے پیغامات سے یہ پتا چلتا ہے کہ سنکیانگ میں قرنطینہ قوانین کے نفاذ کی صورتحال ملک کے دیگر حصوں سے کہیں زیادہ سخت تھی۔ ایک دفعہ 16 سے 20 برس کی عمر کے چار جوانوں کو سیل میں لایا گیا تھا۔

گھاپر لکھتے ہیں کہ ’انھیں وبا کے دوران باہر بیس بال جیسا کھیل کھیلنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ انھیں تھانے لایا گیا اور تب تک اتنا مارا گیا جب تک وہ بچوں کی طرح بلک بلک کی رونا شروع نہیں ہو گئے۔ ان کی پیٹھ پر سے کھال ادھڑ گئی اور بیٹھ بھی نہیں پا رہے تھے۔‘

پولیس والوں نے تمام قیدیوں کو ماسک پہننانا شروع کر دیے جبکہ انھیں اسی بھرے ہوئے سیل میں ہڈ کے اندر ہی سر اور منھ رکھنے کے لیے کہا گیا۔

وہ لکھتے ہیں ’ایک ہڈ اور پھر ماسک یعنی سانس لینے کے لیے ہوا کی مزید قلت۔‘

جب پولیس اہلکار کچھ دیر بعد تھرمامیٹر لے کر آیا تو گھاپر سمیت متعدد قیدیوں کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ تھا۔

اپنے ’چار پیس سوٹ‘ پہنے ہوئے انھیں اوپر ایک کمرے میں منتقل کر دیا گیا جہاں گارڈز ساری رات کھڑکی کھولے رکھتے تھے اور سردی کے باعث انھیں نیند نہیں آتی تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ وہاں تشدد کی آوازیں اور بھی واضح تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایک دن میں نے ایک شخص کو صبح سے رات تک چیختے سنا۔‘

چند دن بعد قیدیوں کو چھوٹی بسوں میں سوار کر کے کسی نامعلوم مقام پر بھیج دیا گیا۔

گھاپر جنھیں نزلہ زکام تھا اور ان کی ناک بہہ رہی تھی انھیں دوسروں سے الگ کر دیا گیا اور اس مرکز لے جایا گیا جو اس ویڈیو میں دکھائی دے رہا تھا۔ اس جگہ کو وبائی مرض کے روک تھام کا سینٹر کہا جاتا تھا۔

ایک دفعہ جب وہ وہاں پہنچ گئے تو انھیں اس سیل کے بستر کے ساتھ ہتھکڑی لگا کر باندھ دیا گیا۔

’وہ لکھتے ہیں میرے پورے جسم پر جوئیں تھیں، میں روزانہ ان کو اپنے جسم سے پکڑتا، بہت خارش ہوتی تھی۔‘ ’یقیناً یہاں کا ماحول پولیس سٹیشن سے بہتر تھا، یہاں میں اکیلا تھا لیکن یہاں دو افراد میرا پہرہ دے رہے تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہاں قدرے کم سختیاں تھیں جس نے انھیں موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی بات دنیا تک پہنچا سکیں۔ ان کا موبائل فون اب بھی حکام کی نظروں سے اوجھل تھا اور وہ اسے اپنے نئی حفاظتی مرکز بھی میں اپنی روزمرہ کی اشیا میں چھپانے میں کامیاب رہے تھے۔

اٹھارہ روز جیل میں رہنے کے بعد اچانک سے وہ خفیہ طور پر بیرونی دنیا کے ساتھ رابطے میں آ گئے تھے۔ پہلے چند دن انھوں نے اپنے تجربات بیان کیے اور پھر اچانک سے ان کے پیغامات آنا بند ہو گئے۔

تب سے آج تک گھاپر کا کوئی پیغام نہیں آیا۔ حکام نے باضابطہ طور پر کچھ نہیں بتایا کہ وہ کہاں ہیں اور نہ ہی ان کی مسلسل حراست کی کوئی وجہ بتائی ہے۔

ان پیغامات کی صداقت کی آزادانہ جانچ کرنا ناممکن ہے۔ مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ ویڈیو اصل ہے خاص کر اس لیے کہ پیچھے پروپیگنڈا پیغامات سننے جا سکتے ہیں۔

’سنکیانگ کبھی بھی مشرقی ترکستان نہیں تھا‘ ان کی کھڑکی کے باہر اویغور اور چینی زبانوں میں یہی اعلانات سنے جا سکتے ہیں۔

اس اعلان میں مزید کہا جا رہا ہے کہ ’علیحدگی پسندوں نے ملک میں اور ملک سے باہر ان جغرافیائی الفاظ کو سیاسی رنگ دیا ہے اور ترک زبانیں بولنے والوں اور اسلام کے ماننے والوں کو اکھٹا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر اور سنکیانگ میں چینی پالیسیوں کے ماہر جیمز ملوارڈ نے بی بی سی کے لیے گھاپر کے پیغامات کا ترجمہ کیا ہے اور ان کا جائزہ لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ پیغامات وہی حالات بتاتے ہیں جو کہ دیگر واقعات میں شواہد کے ساتھ دیکھے گئے ہیں جب انھیں ابتدائی طور پر انتہائی بھیڑ والے اور غلیظ ماحول میں سنکیانگ لے جایا گیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ بیانیہ پولیس کی کوٹھڑی کی یہ انتہائی تفصیل والی عکس بندی ہے۔

’انھوں نے معیاری چینی زبان استعمال کی ہے اور ان لوگوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جا رہا ہے یہ اس کی کافی خوفناک تفصیلات دیتا ہے۔ یہ معلومات کا ایک انتہائی نایاب ذریعہ ہے۔‘

سنکیانگ پر کام کرنے والے ایک اور محقق ڈاکٹر ایڈریئن مینز کہتے ہیں کہ اس ویڈیو کی اصل اہمیت یہ ہے کہ چینی حکام کا دعویٰ ہے کہ کیمپوں کا نظام ختم کیا جا رہا ہے جبکہ پیغامات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ نظام ابھی بھی مکمل طور پر فعال ہے۔

صداقت کی ایک اور تہہ وہ تصویر بھی ہے جو ذرائع کے مطابق گھاپر نے وبائی کنٹرول سنٹر کے ایک باتھ میں پکڑے دستاویز کی کھینچی۔

اس دستاویز میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری کی اکسو پریفکچر میں دی گئی ایک تقریر ہے جو کہ انھیں اس وقت دی گئی تھی جب مردن گھاپر کو حراست میں لیا گیا تھا۔

اس بات کا امکان کافی زیادہ ہے کہ اس وقت یہ دستاویز حکام کے پاس ہو۔

اس تقریر میں 13 سال تک کے بچوں کی اس بات پر حوصلہ افزائی کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے توبہ کر لیں اور رضاکارانہ طور پر خود کو حکام کے حوالے کر دیں۔ یہ بات چین کی اویغور اور دیگر اقلیتوں کے خیالات کو کنٹرول کرنے کی گہرائی کے خلاف نئے شواہد ہیں۔

یونیورسٹی آف کولوراڈو کے ڈاکٹر ڈیرن بائیلر کہتے ہیں کہ شاید ان کی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے جب انھوں نے بچوں کو مذہبی سرگرمی کے لیے ذمہ دار ٹھہرانے کی کوئی سرکاری دستاویز دیکھی ہو۔

اس بات کے باوجود کہ مردن گھاپر کی ویڈیو اور پیغامات کی اشاعت کے بعد شاید اب وہ زیادہ خطرے میں ہیں تاہم ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے اب اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

ان کے چچا عبدالحکیم گھاپر کا ایمسٹرڈیم میں اپنے گھر سے کہنا ہے کہ ’خاموش رہنے سے بھی اس کی مدد نہیں ہو گی۔‘

عبدالحکیم گھاپر کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے سے قبل وہ اپنے بھتیجے کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔

ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ دیگر کیسز کی طرح ان کا بیرونِ ملک تعلق ہونا ان کی حراست کی وجہ بنی۔

عبدالحکیم گھاپر کہتے ہیں کہ ’مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ اسے حراست میں اس لیے لیا گیا ہے کیونکہ میں بیرونِ ملک بیٹھا ہوں اور میں چین کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مظاہرے کرتا ہوں۔‘

عبدالحکیم گھاپر نے سنہ 2009 میں سنکیانگ میں اوروچی میں بڑے مظاہرے کے لیے فلائر بانٹے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد انھیں ہالینڈ بھاگنا پڑا۔

ارمچی میں ہونے والے مظاہرے پُرتشدد ہو گئے تھے اور چینی حکام کے مطابق ان میں 200 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ ان مظاہروں کو چین کے خطے پر اضافی کنٹرول کی کہانی کے لیے اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔

عبدالحکیم گھاپر کو جب پتا چلا کہ حکام انھیں تلاش کر رہے ہیں انھوں نے پاسپورٹ بنوایا اور ملک سے بھاگ گئے اور پھر کبھی واپس نہیں گئے۔

ان کا اصرار ہے کہ ان کی تمام تر سیاسی سرگرمیاں چاہے چین میں یا چین سے باہر، ہمیشہ پُرامن رہی ہیں اور ان کے بھتیجے نے تو کبھی بھی سیاسی میں دلچسپی نہیں دکھائی۔

بی بی سی نے چینی حکام سے پوچھا ہے کہ کیا مردن گھاپر یا ان کے چچا پر کسی قسم کے جرم کا الزام ہے۔

اس کے علاوہ مردن گھاپر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔ تاہم حکام کی جانب سے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں آیا۔

مردن گھاپر اس وقت جہاں بھی ہیں ایک بات تو واضح ہے، چاہے ان کی ماضی میں منشیات کے حوالے سے قانونی مشکلیں منصفانہ تھیں یا نہیں، ان کی حالیہ حراست اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرے پڑھے لکھے اور امیر اویغور بھی چینی نظام کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔

پروفیسر ملوارڈ کہتے ہیں کہ یہ نوجوان ایک فیشن ماڈل تھا اور اس کا پہلے ہی ایک کامیاب کیریئر تھا۔

’وہ بہترین چینی زبان بولتا ہے، اچھے جملے استعمال کرتا ہے اور بالکل صاف ظاہر ہے کہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جسے زندہ رہنے کے لیے کوئی ہنر سیکھنے کی ضرورت ہو۔‘

ڈاکٹر ایڈریئن زینز کہتے ہیں کہ اس نظام کا مقصد یہی ہے کہ ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا بیک گراؤنڈ کیا ہے۔‘

’اہم بات یہ ہے کہ آپ کی وفاداری ٹیسٹ کی جا رہی ہے۔ ہر کسی کو کسی نہ کسی موقعے پر کسی نہ کسی طرح کے ری ایجوکیشن کیمپ میں جانا پڑے گا۔‘

چینی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اویغور لوگوں کو نشانہ نہیں بنا رہی۔ امریکہ کی جانب سے اس حوالے سے سخت تنقید کے بعد چینی وزارتِ خارجہ نے جارج فلائیڈ کا نام استعمال کیا اور کہا کہ چین میں اویغور امریکہ میں سیاہ فام افراد کے مقابلے میں زیادہ آزاد ہیں۔

مگر مردن گھاپر کی فیملی، جو کہ کسی نامعلوم مقام پر انھیں بستر سے باندھا ہوا دیکھ چکی ہے، کہتی ہے کہ دونوں کیسز میں مماثلت ہے۔

ان کے چچا عبد الحکیم گھاپر کہتے ہیں کہ ’جب میں نے جارج فلائیڈ کی ویڈیو دیکھی تو مجھے اپنا بھتیجا یاد آ گیا۔ اب تمام اویغور جارج فلائیڈ ہیں۔۔۔ ہمیں سانس نہیں آ رہا۔‘