نریندر مودی: اقتدار کا دوسرا دور گذشتہ پانچ برسوں سے کیسے جدا ہے؟

    • مصنف, زبیر احمد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

انڈیا میں گذشتہ برس مئی کے دوران نریندر مودی نے انتخابات کے بعد بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپسی کی تھی۔ ان کے گذشتہ دور کے مقابلے اس مرتبہ اقتدار کا پہلا ایک برس کیسا رہا؟ وہ کون سے سماجی اور سیاسی ایشوز ہیں جن پر مودی کی ستائش یا تنقید ہوئی ہے۔

کووڈ 19 کے بعد کیا انڈیا مودی کے اقتدار کے جو چار برس بچے ہیں ان میں دنیا کے سامنے ایک اہم عالمی طاقت بن کر ابھرے گا جیسے کہ دعوی کیا جارہا تھا؟

کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی میں ایک برس کے اندر کوئی واضح تبدیلی نہیں آتی ہے۔ لیکن ایک برس کے اندر بعض نئے رجحانات پر غور کیا جاسکتا ہے اور ان رجحانات کی بنیاد پر حکومت کی پالیسیوں اور اس کی کارکردگی پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

مودی حکومت کی دوسری باری کے پہلے سال کے اہم رجحانات کچھ اس طرح ہیں:

* خود مختاری پر زور

* وزیر اعظم نریندر مودی کے بیرونی دوروں میں کمی

* کشمیر مسئلے پر پاکستان کے ساتھ رشتے کشیدہ

* شہریت کے متنازع قانون ( سی اے اے) پر تشویش

* دلی فسادات پر عالمی سطح پر تنقید

* امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انڈیا کا دورہ

* انڈیا میں اسلاموفوبیا یا اسلام مخالف رویے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کا سخت رد عمل

* کورونا کی وبا کے دور میں سفارتی رشتے

خودمختاری

نریندر مودی کے دوسرے دور کی حکومت کا ایک سال پورا ہونے سے پہلے وزیر اعظم کی زبان پر ایک نیا لفظ بار بار آنے لگا ہے۔ وہ ہے خودمختاری۔

انھوں نے 12 مئی کو کووڈ 19 کے حوالے عوام سے جو خطاب کیا تھا اس میں انھوں نے 'خود مختار' اور ' خودمختاری' کے الفاظ کو 33 بار دہرایا تھا۔

خود مختاری کو ملک کے ذرائع اور پیداوار سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ یعنی جب وزیر اعظم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں خود مختار ہونے کی ضرورت ہے تو ان کا سیدھا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمیں کسی بھی بیرونی ملک پر انحصار کرنے کے بجائے خود اپنی طاقت پر ترقی کرنی ہے۔

بظاہر یہ حکومت کی بدلتی ہوئی اقتصادی پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے لیکن آج کے دور میں جب دنیا ایک دوسرے سے بری طرح جڑی ہوئی ہے تو کوئی بڑا ملک یا کوئی بھی بڑی معیشت اپنے بل بوتے پر کامیاب نہیں ہوسکتی ہے اور خاص طور سے کورونا وائرس کے بعد جب پہلے ہی ایک 'نیو ورلڈ آرڈر' یعنی دنیا کے ایک نئے روپ کی بات کی جارہی ہے۔

ابھی یہ نہیں معلوم کہ کورونا وائرس کے بعد دنیا کی معیشت کیا روپ اختیار کرے گی؟

خود مختاری کا نعرہ بلند کے بارے میں انڈیا کے سابق جونیئر وزیر خارجہ ایم جے اکبر کا کہنا ہے ایک تاریخی 'شفٹ' ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نئے ورلڈ آرڈر کا مطلب انحصار نہیں ہونا چاہیے۔ جس دن دوسروں پر منحصر ہوگئے اس دن اقتصادی غلامی کا دور آجائے گا۔ ہم پہلے بیرونی ممالک سے گندم، چاول اور آناج مانگتے تھے۔ جب 68-1967 میں بہت سنگین بحران پیدا ہوا تم ہمیں گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ اس کے بعد ہمارے کسانوں نے آناج کی پیداوار کے حوالے سے ہمیں خودمختار بنایا تبھی تو آج ہم اپنا سر اٹھا کرچلتے ہیں۔‘

اس کے بعد وہ ادویات کے شعبے میں انڈیا کی خود مختاری کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں، ’عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔ انھوں نے انڈیا سے ساری درآمدات پر پابندی عائد کی ہوئی تھی لیکن انھوں نے بغیر کسی کو بتائے انڈیا سے ادویات فروخت کیں۔‘

انڈیا کے خارجہ سیکریٹری ہرش وردھن شرنگلا نے حال ہی میں نیشنل ڈیفینس کالج کے افسران کو خطاب کرتے ہوئے کہا، ’ایک جانب ہم دنیا سے جڑے ہوئے ہیں لیکن موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں خودمختار ہونے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ خطاب میں بھی یہی بات کہی ہے۔ خودمختاری کا مطلب یہ نہیں کہ ہم باقی دنیا سے الگ تھلگ ہوجائیں گے۔ ایک خود مختار انڈیا بہتر انٹرنیشنل انڈیا ہوگا۔‘

بیرونی دورے

ایک وزير اعظم نریندر مودی کے گزشتہ دور پر نظر ڈالیں تو انہوں نے متعدد بیرونی دورے کیے تھے۔ اس بار بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں لوٹنے کےبعد ان کے بیرونی دوروں میں واضح کمی آئی ہے۔ ایم جے اکبر کے مطابق گزشتہ ایک برس پالیسیوں میں جو خامیاں تھیں ان کو صحیح کرنے میں لگ گئے۔

ایم جے اکبر کہتے ہیں کہ نیپال اور عرب ممالک میں برسوں سے کسی انڈین وزیر اعظم کا دورہ نہیں ہوا تھا۔ گزشتہ ایک برس میں مودی حکومت نے ان ممالک سے رشتوں کو مضبوط کیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نے بیشتر ان ممالک کا دورہ کیا ہے جن سے بھارت کے روایتی رشتے تھے یا ان ممالک کا جہاں انڈیا کے وزراء اعظم نے دورہ نہیں کیا تھا۔

فرانس میں بیرونی امور کے نامہ نگار مسین اینیمی کے مطابق، '' مودی کے بیرونی دوروں نے انڈیا کو عالمی نقشے پر لا کھڑا کیا ہے۔ انڈیا سے چھوٹے ممالک کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ انڈیا اور فرانس کے رشتے بہتر ہوئے ہیں اور آپسی کاروبار میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے''۔

انڈین صحافی ونیسا واریک انڈیا کے خارجہ پالیسیوں پر ایک لمبے عرصے سے رپورٹنگ اور تجزیہ کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے '' گزشتہ دور حکومت میں وزیر اعظم مودی نے متعدد بیرونی دورے کیے ہیں جس سے ورلڈ سٹیج پر انڈیا کا ذکر ہونے لگا ہے۔ بیرونی ممالک میں رہنے والے انڈین نثاد لوگوں نے جس دھوم دھام سے نریندر مودی کا استقبال کیا وہ قابل تعریف ہے۔ لیکن گزشتہ ایک برس میں ان کے بیرونی دوروں میں کمی آئی ہے اور گزشتہ ایک برس میں انڈیا میں بھی بعض ایسے واقعات ہوئے ہیں جن سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے''۔

یہ بھی پڑھیے:

کشمیر

گزشتہ برس پانچ اگست کو جموں و کشمیر کی قانونی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد سیکورٹی کے خدشے پیش نظر وہاں نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے بعد دنیا بھر میں کشمیر ایک بار پھر زیر بحث رہا۔

پاکستان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا، پاکستان انڈیا کے اس فیصلے کے خلاف اقوام متحد گیا لیکن دنیا کے بڑے اور طاقتور ممالک نے پاکستان کی بات نہیں سنی۔

انٹرنیشنل میڈیا میں اس بارے میں کچھ دنوں تک بحث ہوئی اور بعض عالمی میڈیا نے مودی حکومت کے زبردست تنقید کی۔

انڈیا کے اندر اس قدم کو مودی حکومت کی ایک اہم کامیابی کے طور پر دیکھا گیا۔

شہریت کے قانون سی اے اے پر بیرونی ممالک میں کیا کہا گیا؟

دسمبر میں پارلیمان میں شہریت کا قانونی سی اے اے کو منظوری ملنے کے بعد حزب اختلاف نے اس پر حکومت کی شدید تنقید کی اور کہا کہ یہ قانون مسلمانوں کے خلاف ہے اور آئین کے سیکیولر اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا کہ این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنو) اور این پی آر( نیشنل پاپولیشن رجسٹر) کے ساتھ اس قانون کو استعمال کرکے مسلمان کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اس بارے میں عالمی سطح پر مودی حکومت پر دباؤ پڑنے لگا۔ اقوام متحدہ نے سی اے اے میں واضح طور پر امتیازی شکوں کی غیر روایتی انداز میں تنقید کی۔

انڈیا کے جواب میں کہا کہ یہ اس کا ' اندرونی معاملہ' ہے اور کسی بھی بیرونی حکومت اور تنظیم کو اس کے اندرونی معاملے میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک روسی کونسل کے لیے عالمی معاملات پر لکھنے والے دلی یونیورسٹی کے پروفیسر نریندر ناگروال کہتے ہیں کہ اس قانون سے عالمی سطح پر انڈیا کی شبیہ متاثر ہوئی ہے۔

'' عالمی میڈیا نے سی اے اے کے بعد بھارت کی طے شدہ خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو کیا نقصان ہوا اس کا جائزہ لیا۔ اہم بات یہ ہے کہ انڈیا مسلسل عالمی تنہائی کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کے قریبی دوستوں نے انڈیا کی اقلیتوں کے بارے میں اس کے رویہ پر سوال اٹھائے ہیں''۔

دلی کے فسادات اور اس پر عالمی ردعمل

ملیشیا کے وزیر اعظم محاطر محمد نے سی اے اے کے قانون اور دلی میں ہونے والے فسادات پر بھارت کی کھلے الفاظ میں تنقید کی۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر اپنا بیان دے کر مودی حکومت کو پہلے ہی ناراض کررکھا تھا۔

پاکستان کے وزير اعظم عمران خان نے دلی فسادات کے بارے میں ٹوئیٹ کیا جس سے مودی حکومت کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

لیکن ایران اور ترکی نے دلی فسادات پر حکومت کی سخت تنقید کی اور بنگلہ دیش میں فسادات کے خلاف مظاہرے ہوئے۔

اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ انڈیا میں ان کی مسلم مخالف شبیہ ایک گھریلو سیاسی سازش ہے نریندر مودی نے خلیج ممالک کے ساتھ اپنے بہتر اور مضبوط رشتوں کی بات بار بار دوہرائی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انڈیا کی تاریخ میں خلیج ممالک سے سب سے بہتر رشتے ان کے دور میں قائم ہوئے ہیں اور مالدیپ اور بحرین نے انہیں اپنے اپنے قومی شہری اعزازات سے نوازہ ہے۔

لیکن دلی فسادات اور کورونا وائرس کے دوران مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے خلیج ممالک میں مودی حکومت کی شدید تنقید ہوئی ہے۔ انڈین حکومت نے اسے کتنی سنجیدگی سے لیا ہے اس کو کوئی پختہ اشارے نہیں ملے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا انڈیا کا دورہ

صدر ٹرمپ کا انڈیا کا دورہ صرف ایک دن کا تھا لیکن اس دورے کو مودی حکومت کے دوسرے دورہ اقتدار کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابوں میں ایک قرار دیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں انڈین معاملات کے صحافیوں کے مطابق ٹرمپ کے اس دورے کو انڈیا کی سفارتی جیت کے طور پر دیکھا جاسکتاہے۔ واشنگٹن میں ایک لمبے عرصے سے صحافت کرنے والے چدانند رجگھٹہ نے اپنے کالم میں اس دورے کو مودی کی کامیابی بتایا ہے۔

اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی ہوا جس کا اعلان خود صدر ٹرمپ نے کیا کہ ’آج ہم نے انڈیا کے اپاچے اور ایم ایچ 60 آر ہیلی کاپٹروں سمیت تین ارب ڈالر سے زیادہ امریکہ کے دفاعی سازو سامان کو خریدنے کے لیے معاہدہ کرکے اپنے دفاعی کاپریشن کو وسیع کیا ہے۔‘

انہوں نےمزید کہا تھا کہ یہ دفاعی سودے کہ ’ہمارے دفاعی اتحاد کی طاقت بڑھائیں گے کیونکہ ہمارے شدت پسند ایک ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہیں۔‘

لیکن احمد آباد کے ایک بڑے سٹیڈیم میں جس وقت ہزاروں بھارتیوں نے ان کا استقبال کیا اس وقت ملک میں کورونا وائرس پھیل چکا تھا

اس کے حوالے دونوں لیڈروں کی تنقید بھی ہوئی۔ مودی اور صدر ٹرمپ ایک دوسرے کو اپنا قریبی دوست کہتے ہیں لیکن مودی ٹرمپ کی ناراضگی سے بھی واقف ہیں۔

صدر ٹرمپ انڈیا سے اس وقت کافی ناراض ہوگئے تھے جب انڈیا کے ملیریا کی دوا ہائڈروکلوروکون کی برآمدات پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس وقت ٹرمپ نے بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی۔

اس کے فورا بعد مودی حکومت نے یہ دوائی امریکہ بھیجنے کا اعلان کیا جس کے بعد معاملہ رفعہ دفعہ ہوگیا۔

خلیج ممالک میں ناراضگی

انڈیا میں کوررونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیے تبلیغی جماعت کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد مسلمانوں کے خلاف تفریق کے متعدد معاملات سامنے آنے کے بعد خلیج ممالک نے اپنے تلخ ردعمل کا اظہار کیا۔

سوشل میڈیا پر مسلمانوں اور اسلام مخالف پوسٹ لکھنے پر بعض انڈین مسلمانوں کو ملازمت سے برخاست کردیا گیا۔

وہاں کے ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی شہزادی ہند نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ ان واقعات پر افسوس ہوتا ہے کیونکہ ان کی نظر میں انڈیا کی بڑی جمہوریت ہے اور اس طرح کے واقعات سے ان کے ملک کے عوام کو دھچکا لگا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک کے رشتوں کے درمیان تلخی کے بارے میں تذکرہ نہیں کروں گی مگر یہاں کے نجی کاروباری اور کارپوریٹ سیکٹر باہر سے آنے والے ایسے لوگوں کو ملازمت نہیں دیں گے جن پر مسلمان یا اسلام مخالف ہونے کا الزام ہے۔‘

پڑوسی ممالک کے ساتھ خراب ہوتے رشتے

مودی کے موجودہ دور اقتدار کے پہلے سال کے آخر میں نیپال اور چین کے ساتھ رشتے میں تلخی آئی ہے۔

نیپال نے ایک نیا سیاسی نقشہ جاری کیا ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ کالا پانی، لمپیادھرا، اور اتراکھنڈ کے لپولیکھ علاقے نیپال کا حصہ ہیں۔

بھارت نے اس نقشتہ پر سخت ردعمل کا اہار کرتے ہوئے نیپال سے کہا ہے کہ وہ ان علاقوں کو اپنے نقشے میں شامل کرنے کی گستاخی نہ کرے۔

بھارت نے نیپال سے دوبارہ بات کی پیش کش کی ہے۔

نیپال نے یہ قدم بھارت کے وزیر دفاع کی جانب سے کیے گئے اس سڑک کے افتتاح کے بعد اٹھایا ہے جو بھارت اور چین کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ نیپال کا دعوی ہے کہ جن علاقوں سے یہ سڑک گزرتی ہے وہ نیپال کا حصہ ہے۔ انڈین حکومت نے اس دعوی کو مسترد کردیا ہے۔

انڈیا اور چین کی سرحدوں پر ایک بار پھر کشیدگی شروع ہوگئی ہے جس سے انڈیا میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

مودی حکومت کے لیے حال ہی اچھی خبر یہ آئی ہے کہ مالدیپ نے اسلام ممالک کے اتحاد او آئی سی میں پاکستان کے خلاف انڈیا کا ساتھ دیا ہے۔

لیکن اس حقیقت سے منھ نہیں موڑا جاسکتا ہے کہ مودی کے اس دور اقتدار کو جو باقی کے سال بچے ہیں ان میں نیپال اور چین سے رشتے بہتر کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

کورونا وائرس کی وباء کے دوران مودی حکومت نے جی 20 کے ممالک سمیت پڑوسی ممالک سے بات کی ہے۔ اس کے علاوہ خارجہ سیکریٹری کے بقول انڈیا نے وباء کی روک تھام کے لیے 133 ممالک کو دوائیاں سپلائی کی ہیں۔

آئندہ چار برسوں میں مودی حکومت کی یہی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی خارجہ پالیسیوں میں نرمی کریں۔

ایم جے اکبر کہتے ہیں کہ 21 ویں صدی میں بھارت ان فرنٹ لائن ممالک میں شامل ہوگا جو دنیا کی رہنمائی کریں گے اور شاید آئندہ چار برسوں میں یہی نریندر مودی کی کوشش ہوگی۔