انڈیا کا ایک مرتبہ پھر کبوتر پر پاکستان کے لیے جاسوسی کا الزام، سوشل میڈیا پر حکام کا مذاق

انڈیا اور پاکستان میں سرحد پر کشیدگی رہنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، آئے روز ہم خبروں میں دونوں جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کی خبریں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر اس جنگ کے جنون میں معصوم پرندوں کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جائے تو تعجب کی بات لگتی ہے۔
اور انڈین حکام نے پیر کو ایک مرتبہ پھر اپنے عوام کو تعجب میں ڈالا اور ادھر پاکستان میں Pigeon ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
ہوا کچھ یوں کہ انڈیا کی سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انڈین حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کٹھوا کے سرحدی علاقے میں ایک کبوتر پکڑا ہے جس پر شبہ ہے کہ اسے پاکستان نے جاسوسی کے لیے تربیت دی ہے۔
مگر یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انڈین حکام نے ایسا دعویٰ کیا ہو اور اس سے پہلے ریاست پنجاب اور راجستھان کے سکیورٹی حکام بھی پاکستان کی طرف سے آنے والے کبوتروں کو مبینہ جاسوس کہہ کر پکڑ چکے ہیں۔
پیر کو انڈیا کی نیوز ایجنسی کی جانب سے اس خبر کو سوشل میڈیا پر جاری کرنا تھا کہ دونوں ممالک کے صارفین نے اس خبر کے متعلق بے لاگ تبصروں اور میمز کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس خبر پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نامی ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ انڈین خفیہ ایجسنی را کے جاسوس بھی آجکل بہت زیادہ ارطغل غازی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
دیویکا نامی صارف کا کہنا تھا ’دوسرے ممالک کے پاس جاسوسی کے لیے ڈرونز ہیں لیکن پاکستان کے پاس جاسوس کبوتر، جب پاکستان کی فوج کے بات کی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ٹائم ٹریول بھی کر سکتی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
جبکہ آکاش بینرجی نامی صارف نے سکیورٹی حکام کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ ’مزید تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ اس اعلیٰ تربیت یافتہ پرندے کو انڈیا میں ’پیجن جہاد‘ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے، اور اس کے قبضے سے چند نازیبا تصاویر بھی برآمد کی گئیں ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
جس کے جواب میں ٹویٹس کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور جیاتی نامی ایک صارف نے خبر پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ ’کیا آپ ہمیں الو بنا رہے ہیں، یا ہمارے ساتھ کوئی مذاق کر رہے ہیں، مجھے اس پر یقین نہیں ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
جس کا جواب دیتے ہوئے آکاش کا کہنا تھا کہ ’میں تو ہر وقت مذاق کرتا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں مجھ سے اچھا کام کر رہی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
جبکہ ڈکٹیٹر نامی ٹوئٹر صارف نے اپنے جذبات کی عکاسی اس میم کے ذریعے کی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 7
پولیٹکل سنیاسی نامی صارف نے انڈین فضائیہ کے پائلٹ ابھینندن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ایک کپ چائے پلا کر اس کبوتر کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 8
سونیا نامی صارف نے تو اسے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا حمایتی ہی قرار دے دیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 9
ایک صارف سمیرا خان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کچھ شرم کرو دوستوں، اتنی صبح مجھے مت ہنساؤ، انڈیا ایک میم ملک ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 10
جبکہ اسی طرح ایک ٹوئٹر صارف نے اس خبر پر ایک میم کے ساتھ کچھ ایسا ردعمل دیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 11
کچھ صارفین تو بالی وڈ کی فلموں کے رنگ میں ڈھل گئے اور کچھ اس انداز سے جذبات کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 12
ایک صارف نے انڈین حکام کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ ’کیا کبوتر ہر لفظ کے ساتھ جناب کا لفظ بھی ادا کر رہا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 13
بابا ٹوکا نامی صارف نے تو بیچارے کبوتر کو اعزازی میجر جنرل تک بنا دیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 14








