افغانستان: صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل تصاویر میں

پولنگ مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دینے والے طالبان عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک بھر میں افغان سکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

افغانستان، صدارتی انتخابات

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس ماہ کے آغاز میں طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات ختم ہونے کے بعد دو مرتبہ تاخیر کا شکار ہونے والے انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر افغانستان بھر میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں
افغانستان، صدارتی انتخابات
،تصویر کا کیپشنگذشتہ حکومت میں شریک اقتدار رہنے والے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے
افغانستان، صدارتی انتخابات

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیوں تو افغانستان کے سیاسی اور امن عمل میں خواتین آگے آنا شروع ہوئی ہیں لیکن اس بار صدارتی امیدواروں میں کوئی بھی خاتون شامل نہیں ہے
افغانستان، صدارتی انتخابات
،تصویر کا کیپشناس انتخاب میں مرکزی امیدواروں میں افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ ہیں جبکہ سابق جنگجوؤں، سابق جاسوسوں اور ملک کی سابقہ کمیونسٹ حکومت کے ارکان سمیت اٹھارہ افراد نے ابتدا میں ہی الیکشن لڑنے کے لیے سامنے آئے تھے لیکن بعد میں ان میں سے پانچ افراد دستبردار ہوگئے ہیں
افغانستان، صدارتی انتخابات

،تصویر کا ذریعہHerat Office

،تصویر کا کیپشناس مرتبہ ایک بھی خاتون صدارتی انتخاب کے لیے امیدوار نہیں ہے اور صرف تین خواتین دیگر عہدوں کے لیے انتخاب لڑتی نظر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ پولنگ سٹیشن پر خواتین ووٹرز بڑی تعداد میں حق رائے دہی استعمال کرنے آئی ہیں
افغانستان، صدارتی انتخابات
،تصویر کا کیپشنسنیچر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ووٹنگ کا عمل صبح سات بجے شروع ہوا۔ بی بی سی پشتو کے مطابق صوبے ہرات میں پولنگ سٹیشنز کے باہر ووٹرز کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں
افغانستان، صدارتی انتخابات
،تصویر کا کیپشنووٹرز میں جوش و جذبے کی کمی کا احساس بھی اس وجہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔ اور اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اس مرتبہ بھی ملک کی صدارت کے لیے انھیں دو امیدواروں میں مقابلہ ہے جنھوں نے سنہ 2014 کے انتخاب میں ایک دوسرے کے ساتھ اقتدار کے لیے مقابلہ کیا تھا