آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے عام انتخابات میں شکست: راہل گاندھی نے کانگریس کی سربراہی سے استعفی دے دیا
انڈیا میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس کے سربراہ راہل گاندھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
ان کے استعفی کے ساتھ ہی کئی ہفتوں سے سیاسی اور عوامی حلقوں میں جاری چہ میگوئیاں بھی اپنے اختتام کو پہنچ گئیں۔
اپنے استعفی میں راہل گاندھی نے حالیہ عام انتخابات میں اپنی پارٹی کی شکست کی ذمہ داری قبول کی۔ انھوں نے بدھ کے روز اپنا استعفی سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر بھی شیئر کیا۔
یہ بھی پڑھیے
وہ اس سے قبل اپنے مستعفی ہونے کے ارادے کا برملا اظہار کر چکے تھے تاہم پارٹی کے دیگر رہنما پرامید تھے کہ راہل اپنا فیصلہ بدل لیں گے۔
راہل گاندھی کے والد (راجیو گاندھی)، دادی (اندرا گاندھی) اور پرنانا (جواہر لال نہرو) انڈیا کے وزرائے اعظم رہ چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنے استعفی میں انھوں نے لکھا کہ ان کے ذہن میں انڈیا کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف کوئی ’غصہ یا عداوت‘ نہیں ہے مگر ’ان کے جسم کا ہر ہر خلیہ بے اختیاری طور پر انڈیا کے بارے میں ان (بی جے پی) کی سوچ، جو کہ نفرت اور اختلافات پر مبنی ہے، کی نفی کرتا ہے۔‘
راہل گاندھی نے انتخابات کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’ہمارا مقابلہ صرف ایک سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ پوری انڈین ریاستی مشینری سے تھا۔‘
انڈیا کے عام انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کو انتہائی شاندار کامیابی ملی ہے۔
ان انتخابات کے نتائج نے نہ صرف حزب اختلاف بلکہ تجزیہ کاروں کو بھی ششدر کر دیا تھا جو کہ سخت مقابلے کی توقع لگائے بیٹھے تھے۔
سنہ 2014 میں ہوئے عام انتخابات میں بھی راہل گاندھی کانگریس کے سربراہ تھے اور اس الیکشن میں کانگریس نے 543 سیٹوں میں سے صرف 44 نشستیں جیتی تھیں۔ اس برس انتخابات کے نتائج پچھلی مرتبہ سے کچھ بہتر رہے اور کانگریس نے 52 نشستیں جیتیں۔
راہل گاندھی کو اتر پردیش میں اپنی آبائی نشست سے بھی ہاتھ دھونا پڑے تاہم کیرالہ میں دوسری نشست پر جیتنے کی وجہ سے وہ پارلیمان کا رکن منتخب ہونے میں کامیاب رہے۔
جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے اسے اقلیتوں سے نامناسب سلوک کرنے اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ تاہم بی جے پی ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔
راہل گاندھی کے استعفی کی خبر کو پورے انڈین میڈیا نے نمایاں طور پر شائع اور نشر کیا اور ہیش ٹیگ راہل گاندھی ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ رہا۔
ٹویٹر پر چند لوگ ایسے تھے جنھوں نے راہل گاندھی کے اس فیصلے پر اپنی اداسی اور غصے کا اظہار کیا جبکہ کئی افراد نے انھیں تمسخر کا نشانہ بنایا۔
جبکہ کئی افراد محوِ حیرت ہیں کہ راہل گاندھی کے استعفے کے کانگریس پارٹی کے مستقبل پر کیا اثرات ہوں گے۔