آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا واقعی امریکی پابندی سے ایک کروڑ دس لاکھ ایرانی متاثر ہوں گے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا ہے جس کے بعد امکان ہے کہ ایک کروڑ دس لاکھ افراد اس پر عائد معاشی پابندیوں کا شکار ہوں گے۔
اتنی بڑی تعداد میں ایرانیوں کے اس میں شامل ہونے پر لوگوں کی حیرت کی دو وجوہات ہیں۔ ایک امریکہ اتنے زیادہ لوگوں کو نشانہ کیوں بنائے گا اور دوسرا پاسدارانِ انقلاب میں اتنی زیادہ اہلکار کیسے ہیں؟
امریکہ اور ایران میں فورسز کو بڑھا چڑھا کر بتانے کی مختلف وجوہات ہیں۔
اسی بارے مزید پڑھیے
ایک ایلیٹ فورس؟
پاسدارانِ انقلاب 40 سال قبل بنائی گئی تاکہ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران کے اسلامی نظام کا دفاع کیا جا سکے اور اسے عموماً میڈیا میں وہاں کی ’ایلیٹ‘ قرار دیا جاتا ہے۔
یہ ملک کی مسلح افواج کے متوازی کام کرتی ہے اور اس کے ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ قریبی رابطے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاسدارانِ انقلاب کی اپنی بری، بحری اور فضائی فوج ہے۔ یہ ایران کے سٹریٹیجک ہتھیاروں کی نگرانی کرتی ہے اور اس کے کئی اقتصادی شاخیں اور مفادات ہیں۔
ایک بڑی تحریک
یہ تنظیم واضح طور پر کافی بڑی ہے لیکن کیا واقعی یہ اتنی بڑی ہے کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ایک کروڑ دس لاکھ افراد جو کہ ایران کی 13 فیصد آبادی بنتے ہیں کو شامل کر سکے۔
یہ بڑی تعداد خود ایران کی جانب سے دی گئی ہے جس میں ایک لاکھ بچاس ہزار پاسدارانِ انقلاب کے باقاعدہ اہلکار ہیں جبکہ لاکھوں وہ ایرانی ہیں جنھوں نے تنظیم کے ساتھ لازمی فوجی تربیت حاصل کی اور لاکھوں لوگ وہ ہیں جنھوں نے بطور ملازم یا کنریکٹر ان کے ساتھ عسکری اور غیر عسکری منصوبوں میں کام کیا یا پاسدارانِ انقلاب سے منسلک رہے۔
اس مجموعی تعداد میں بسیج ملیشیا کے اہلکار بھر شامل ہیں جو پاسدارانِ انقلاب کے تحت آتے ہیں۔
یہ ملیشیا 1980 میں بنائی گئی اور اس نے ایران عراق جنگ میں حصہ لیا لیکن حال ہی میں یہ اس وقت نمایاں رہی جو حکومت مخالف مظاہرے کیے گئے۔
سنہ2009 میں پاسدارانِ انقلاب کے ہیومن ریسورس کے سربراہ مسعود موسوی نے دعوی کیا کہ بسیج نے ایک کروڑ بارہ لاکھ اہلکار ہیں۔ تاہم یہ تعداد ملیشیا کے اصل حجم کو بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی معلوم ہوتی ہے۔
اسی سال سامنے آنے والی امریکی کانگرس کی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بسیج کے ایک لاکھ اہلکار مستقل طورپر تعینات ہیں جبکہ لاکھوں اضافی ارکان کو جنگی صورتحال میں متحرک کیا جا سکتا ہے۔
ایسے دیگر ارکان جو باقاعدہ تربیتی پروگرامز میں شرکت نہیں کرتے یا کارروائیوں میں شامل نہیں ہوتے ان میں شاید چند لاکھ شہری ہوں تاہم ان کی اصل تعداد معلوم نہیں ہے۔
اگرچہ یہ ایک بڑی فورس ہے لیکن جہاں اتنی بڑی تعداد کے دعوے پر شک کرنے کی بھی وجوہات ہیں اور ایران کے پاس بھی اس حجم اور اپنی فوج کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا جواز موجود ہے۔
اعداد کا کھیل
اگر یہ اعداد ایران کی جانب سے آئے ہیں تو امریکہ انہیں کیوں تسلیم اور استعمال کرے گا۔
جس طرح ایران اپنی مسلح افواج پر پڑنے والے اثرات پر بہت زیادہ زور دینا چاہتا ہے اسی طرح امریکہ بھی اپنی پابندیوں کے اثرات پر زور دینا چاہے گا۔
بی بی سی کے نامہ نگار برائے دفاع جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانے سے ’شاید پاسدارانِ انقلاب کی سرگرمیوں پر زیادہ بڑا اثر نہ پڑے‘۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے پہلے ہی اس کے ایک یونٹ قدس فورس پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
اب اس بات کا انحصار آپ کے نقطہ نظر پر ہے کہ یہ اس کی سپیشل آپریشن فورسز ہیں جو اسلامی انقلاب اور اس کے اتحادیوں کا تحفظ کرتی ہیں یا کوئی دہشت گرد گروہ ہے جو مشرق وسطی میں عدم استحکام پھیلا رہے ہے۔
ایران نے شام کی لڑائی کے دوران قدس فورسز کے کردار کو تسلیم کیا ہے جہاں وہ صدر بشار الاسد اور شیعہ ملیشیا کے ہمراہ برسرِ پیکار ہیں اور عراق میں جہاں انھوں نے شیعہاکثریتی پیرا ملٹری کی حمایت کی جنہوں نے دولت اسلامیہ کوش شکست دی۔
امریکہ کا الزام ہے کہ ایرانی فورس کے 10000 اہلکاروں کا یونٹ دنیا بھر میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔
سنہ 2011 میں امریکہ نے کہا تھا کہ واشنگٹن کے ریستوران میں بم حملے کے میں سعودی سفیر کے قتل کا منصوبہ قدس کا تھا اور گذشتہ برس جرمنی کی ایک عدالت نے قدس فورس کے ایک رکن کو جرمن اسرائیلی گروپ کی جاسوسی کرنے پر سزا سنائی تھی۔
محدود اثر
امریکہ نے قدس فورس کو 10 سال پہلے دہشت گردی کی حامی قرار دیا تھا اور ناقدین کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔
واشنگٹن انسٹیٹیوٹ تھنک ٹیینک کے ڈائریکٹر مائیکل سنگھ نے بی بی سی نیوز ڈے کو بتایا کہ ’یہ واضح نہیں ہے کہ پہلے سے موجود پابندیوں کے ہوتے ہوئے پھر سے پابندی در پابندی چاہے وہ اقتصادی ہو یا جرمانے اس سے کوئی فائدہ بھی ہوگا یا نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں یہ اقدام صرف علامتی ہے جس کا مقصد پاسدارانِ انقلاب کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا موقف واضح کرنا ہے۔`
اسی طرح کی تنقید سے بچنے کے لیے امریکی حکام بظاہر نیویارک ٹائمز سمیت میڈیا میں آنے والی شہ سرخیوں کے عدد ایک کروڑ دس لاکھ پر زور دے رہے ہیں۔
جیسا کہ یہ لگ رہا ہے کہ ایران پاسدارانِ انقلاب کے حجم کے حوالے مبالغہ آرائی سے کام لے رہا ہے اسی طرح امریکہ بھی اپنے اقدامات کا اثر جاتنے کے لیے اس پر زور دے رہا ہے۔