انقلابِ ایران کی وہ شخصیات جو امام خمینی کے ہمراہ تھیں

آیت اللہ خمینی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپندرہ برس کی جلا وطنی کے بعد آیت اللہ خمینی یکم فروری 1979 کو تہران واپس آیے

یہ تاریخی تصویر ایران کے روحانی پیشوا اور انقلاب ایران کے بانی آیت اللہ خمینی کی ہے جب وہ پندرہ برس تک جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ تہران کے ہوائی اڈے پر اترے تھے۔ ان میں سے تقریبا سب ہی لوگ اب اس دنیا میں نہیں رہے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو سنہ 1979 کے انقلاب ایران کے فاتحین میں شامل تھے لیکن ان میں سے بیشتر بعد ازاں ایران کی اندرونی سیاست کا شکار ہو گئے۔ چالیس برس قبل امام خمینی کے ساتھ ایران لوٹنے والوں کے ساتھ کیا ہوا۔

Ayatollah Khomeini and close companions getting off a plane

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمرتضی مطاہری، حسن لاہوتی اشکواری اور احمد خمینی بھی اس طیارے میں آیت اللہ خمینی کے ساتھ موجود تھے۔

1 مرتضی مطہری

مرتضی مطہری نے اسلامی جمہوریہ ایران پر گہرا نظریاتی اثر چھوڑا۔ یکم مئی 1979 کو مرتضیٰ مطہری کو تہران میں ہلاک کر دیا گیا۔ ان کی ہلاکت کی ذمہ داری ایک اسلامی گروہ فرقان نے قبول کی تھی۔ یہ گروہ اسلامی انقلاب کا مخالف تھا کیونکہ وہ زیادہ شدت پسندانہ مذہبی خیالات کے حامل لوگ تھے۔

2 حسن لاہوتی اشکواری

یہ امام خمینی کے انتہائی قریبی ساتھی اور معتمد خاص تھے۔ انقلاب ایران کے بعد وہ ایران کے پہلے صدر بنی صدر کے بھی قریب تھے لیکن انھوں نے ایران کے موجودہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای سے اختلاف کیا۔ انقلاب ایران کے دو برس بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا اور وہیں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی خاندان کو زہر دے کر مار دیا گیا۔

3 احمد خمینی

یہ آیت اللہ خمینی کے صاحبزادے اور دست راست تھے۔ وہ مارچ 1995 میں دل کے عارضے میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خمینی کا گھرانہ اصلاح پسندوں کے قریب ہے۔

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصادق قطب زادے، ابوالحسن بنی صدر اور صادق طباطبائی بھی اسی طیارے میں سوار تھے۔ تصویر میں جس شخص کے چہرے پر دائرہ لگایا گیا ہے ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ داریوش فروھر ہیں۔

4 صادق قطب زادے

یہ انقلاب کے بعد ملک کے پہلے وزیر خارجہ مقرر ہوئے اور اگست 1980 تک اس عہدے پر رہے۔ انھیں سنہ 1982 میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ان پر انقلاب اور آیت اللہ خمینی کے خلاف سازش کرنے اور انھیں اقتدار سے ہٹانے کے الزامات تھے۔

5 ابوالحسن بنی صدر

بنی صدر انقلاب کے بعد پہلے صدر بننے۔ وہ ایران سے چلے گئے اور جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایران کی پارلیمان یا مجلس نے ان کی عدم موجودگی میں 21 جون سنہ 1981 میں ان کا مواخذہ کیا اور ان پر انقلاب مخالف گروہوں کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا۔

6 صادق طباطبائی

یہ احمد خمینی کے برادر نسبتی تھے، انھوں نے انقلاب کے بعد کئی اعلی عہدوں پر خدمات انجام دیں لیکن بعد میں انھوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ وہ فروری سنہ 2015 میں پھیپڑوں کے سرطان میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے۔

7 داریوش فروھر

شاید وہ بھی اس تصویر میں موجود ہیں۔ وہ مذہبی رہنماؤں کے اقتدار میں آنے کے خلاف تھے۔ ان کو اور ان کی بیوی کو سنہ 1998 میں ایرانی خفیہ اداروں کے گمراہ عناصر نے ہلاک کر دیا تھا۔

آیت اللہ خمینی کے ہمراہ یکم فروری سنہ 1979 کو تہران پہچنے والی اکثر شخصیات کو انقلاب کے بعد سیاسی حالات نے نگل لیا۔ ان میں دو کو قتل کیا گیا، ایک کو پھانسی ہوئی، ایک کی پراسرار ہلاکت ہوئی اور ایک کے نصیب میں جلا وطنی آئی۔

وقت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ آیت اللہ خمینی کے سفر کرنے والےتقریباً تمام لوگ حتٰی کہ خمینی کے اپنے خاندان نے بھی ایران کے حکمران طبقے سے دوری اختیار کر لی۔

اب ایران میں اقتدار کے ایوانوں میں وہ لوگ موجود جن میں سے کوئی بھی اسی تصویر میں نظر نہیں آ رہا ہے۔