آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: چوروں نے نظام دکن کے قیمتی طلائی ٹفن کو چوری کرنے کے بعد اس میں کھانا کھایا
انڈیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ سابق حکمران نظام دکن کے ہیرا جڑے طلائی ٹفن کو چرانے والے چور اس ٹفن کو اپنے کھانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ پولیس نے گذشتہ ہفتے چوری ہونے والے اس طلائی ٹفن کو برآمد کر لیا تھا۔ پولیس نے چوروں سے یاقوت اور سونے کی بنی ایک چائے کی پیالی، طشتری اور چمچہ بھی برآمد کیا ہے۔
پولیس نے انڈیا کے جنوبی شہر حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے ان دو چوروں کو گرفتار کر لیا ہے۔
تین کلو وزنی ان اشیا کی قیمت تقریباً 70 لاکھ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ یہ اشیا آخری نظام بادشاہ میر قاسم علی خان کی ملکیت تھیں۔ ایک زمانے میں وہ دنیا کے امیر ترین شخص تھے۔
یہ بھی پڑھیے
واضح رہے کہ اسی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک تلوار ایک اور میوزیم سے دس سال قبل چوری ہو گئی تھی۔
پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں افراد چوری شدہ سامان کے خریدار کو تلاش کرنے کی امید پر مغربی شہر ممبئی بھاگ گئے تھے جہاں وہ چند دنوں سے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ’تصوراتی زندگی‘ گزار رہے تھے۔
ممبئی میں چوری کے سامان کا کوئی خریدار نہ ملنے کے بعد وہ واپس حیدر آباد آ گئے جہاں انھیں ایک بڑی تلاش کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کو ابتدائی طور پر انھیں پہچاننے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انھوں نے نظام دکن کے محل میں لگے تمام 32 سی سی ٹی وی کیمروں کو بند کر دیا تھا تاہم وہ محل کے قریب لگے ہوئے ایک دوسرے کیمرے کی زد میں آ گئے جہاں وہ ایک موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوئے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے وہ موٹر سائیکل تلاش کر لیا جس نے انھیں ان چوروں کو پہنچانے میں مدد کی۔
برآمد کی جانے والی اشیا نظام میوزیم کے حوالے کی جائیں گی جسے سنہ 2000 میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔
یہ چیزیں نظام میوزیم میں تھیں جس کا افتتاح سنہ 2000 میں کیا گیا تھا۔ اس کے نوادرات میں میر عثمان علی خان کو سنہ 1937 میں دیے گئے بیش قیمتی تحائف شامل ہیں۔
عثمان علی خان انڈیا کی سب سے بڑی ریاست حیدرآباد کے حکمران تھے۔ ان کا انتقال سنہ 1967 میں ہوا تھا۔
ان کے مشہور زمانہ خزانے میں یعقوبی یعنی سفید ہیرا بھی شامل تھا جو ایک انڈے کے برابر تھا اور اسے دنیا میں موجود پانچواں سب سے بڑا ہیرا کہا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ دوسرے جواہرات بھی ان کے خزانے میں شامل تھے۔