ایران نے سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ’دسیوں جاسوس‘ گرفتار کر لیے

ایران کے وزیرِ اطلاعات نے منگل کے روز کہا ہے کہ سرکاری محکموں میں کام کرنے والے 'دسیوں جاسوسوں' کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ خبر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران پر امریکی پابندیوں کے دوبارہ لاگو ہونے کے باعث ایران اور مغرب کے تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ وزارتِ اطلاعات ایران کا مرکزی جاسوس ادارہ ہے جس کا کام ملک کے اندر اور باہر سے انٹیلی جنس رپورٹیں حاصل کرنا ہے۔

محمود علوی نے یہ نہیں بتایا کہ یہ گرفتاریاں کہاں ہوئیں یا یہ جاسوس کن ملکوں کے لیے کام کر رہے تھے۔ تاہم یہ ضرور بتایا کہ بہت سے ملزموں کے پاس دہری شہریت تھی۔

ایران کے نیم سرکاری خبررساں ادارے اِسنا کے مطابق انھوں نے کہا: 'میں نے کئی بار لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ہمیں دہری شہریت والوں کے بارے میں بتائیں۔ وزارتِ اطلاعات کے انسدادِ جاسوسی یونٹ نے مختلف سرکاری اداروں میں کام کرنے والے دسیوں جاسوسوں کو شناخت کر کے گرفتار کیا ہے۔‘

اس سے قبل ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامہ ای نے کہا تھا کہ ایران کے فیصلہ ساز اداروں میں مغربی ایجنٹ داخل ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد سے پکڑ دھکڑ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے 2017 میں بتایا تھا کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ برسوں میں دہری شہریت رکھنے والے کم از کم 30افراد کو گرفتار کیا ہے، جن کی اکثریت پر جاسوسی کا الزام ہے۔

ایران اور مغربی ملکوں کے درمیان اس وقت کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا جب مئی میں امریکی صدر ٹرمپ نے امریکہ کو اس معاہدے سے نکال باہر کر دیا تھا جو 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر طے پایا تھا۔

اس کے نتیجے میں ایران پر ایک بار پھر پابندیاں لاگو ہو گئی تھیں۔

ایران دہری شہریت تسلیم نہیں کرتا، اور نہ ہی وہ دہری شہریت کے حامل افراد کی گرفتاری کی خبر دیتا ہے۔ ویانا کنونشن کے تحت ایسے افراد کو کونسلر سروس تک رسائی کا حق حاصل ہے۔

علوی نے مزید کہا کہ ایران نے اسی ماہ دولتِ اسلامیہ کا ایک کارکن بھی گرفتار کیا ہے جو ملک کے جنوبی حصے میں سرگرم تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک دہشت گرد سیل کے خاتمے کی بھی خبر دی۔

انھوں نے بتایا کہ وزارتِ اطلاعات نے کئی میٹرو سٹیشنوں اور یونیورسٹیوں میں دھماکوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا ہے، لیکن تفصیل نہیں بتائی۔

گذشتہ برس دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے تہران کی پارلیمان اور موجودہ ایرانی حکومت کے بانی آیت اللہ خمینی کے مزار پر حملہ کیا تھا جس سے 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔