کیا چین ایران کو اقتصادی بحران سے نکال سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کے بعد سے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ نرم نہیں ہو رہا ہے۔
امریکی انتظامیہ ایران کو عالمی تجارت سے بالکل الگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور امریکہ کے اس رویے کا اثر ایران اور یورپ کے تعلقات پر بھی پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران بحران کی صورت حال میں چین کو ایک خفیہ ہتھیار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
ایران کو لگتا ہے کہ مغربی ممالک سے ہونے والے نقصان کو وہ ایران میں چینی سرمایا کاری اور اسے تیل فروخت کر کے پورا کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ میں ایران چین کی مدد کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ چین ایران کو پابندیوں میں کچھ رعایتیں تو دے سکتا ہے لیکن اسے پوری طرح بچا نہیں سکتا۔
ایران کے حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں۔ ایرانی کرنسی کی قدر بہت کم ہو چکی ہے۔ بلیک مارکیٹ میں تو ایک ڈالر کے بدلے نوے ہزار ایرانی ریال تک دینے پڑ رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے ایران میں 2012 کے بعد پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں لوگ حکومت کے خلاف تہران کی سڑکوں پر نکلے تھے۔ ایران کے حق میں کچھ بھی مثبت ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے گذشتہ ہفتے تیل کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ کیا تھا اور ٹرمپ نے اوپیک کے اس فیصلے کی حمایت کی تھی۔
اوپیک کا یہ قدم ایران کے لیے مزید مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کا سخت موقف اور ایران کے لڑکھڑاتے بنیادی ڈھانچے کے سبب وہ تیل کی پیداوار میں اضافے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ایران کے پاس غیر ملکی زرِ مبادلہ حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہے گا کیونکہ وہ زیادہ تیل برامد نہیں کر سکے گا۔
امریکہ دنیا میں خام تیل خریدنے والے ممالک پر ایران سے تیل نہ لینے کا دباؤ بڑھا رہا ہے جن میں بھارت بھی شامل ہے۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران سے سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا ملک چین کیا بحران کے اس دور میں ایران کا ساتھ دے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ میں اس سوال پر کافی بحث ہو رہی ہے۔
ایران پر امریکہ کی نئی پابندیوں کے سبب چین کے پرائیویٹ سیکٹر پر اثر نہیں پڑے گا اور ایسا ہی یورپ کے ساتھ بھی ہو گا۔ دوسری جانب ایران کے پاس محدو متبادل ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کو چینی سرمایہ کاری، درآمدات اور تیل کی فروخت سے ہی مدد مل سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے جب جوہری معاہدہ ختم کیا تو ایران نے یورپ کی جانب رخ کیا۔
ایران نے کوشش کی تھی کہ یہ جوہری معاہدہ ختم نہ ہو اور اسی کے تحت یورپی یونین کے حکام نے اپنی کمپنیوں کا حوصلہ بڑھایا کہ وہ ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایا کاری جاری رکھیں۔
یورپی حکومتوں نے ایران کے سامنے کئی رعایتوں کی تجاویز رکھیں اور امریکہ سے بھی کہا کہ وہ ان کی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ کاروبار کرنے دے۔
لیکن اب یورپی کمپنیاں بھی نہیں سن رہیں۔ سرمایہ کاری کے میدان میں پی ایس اے گروپ نے ایرانی آٹو منیوفیکچرز کے ساتھ ایک مشترکہ کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب فرانس کی کمپنی ٹوٹل نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ کی جانب سے کوئی رعایت نہیں ملتی تب تک وہ ایران کے ساتھ مجوزہ اربوں ڈالر کے سمجھوتے کو معطل رکھے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی طرح درجنوں دیگر کمپنیوں نے ایران میں اپنی سرمایہ کاری کا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔
یہ درست ہے کہ ایران اور چین کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں۔
دونوں نے اپنے تعلقات کے دائرے کو بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، اگلے 25سال کے لیے پالیسیوں اور رشتوں کی نئی لکیر کھینچی گئی تھی اور اگلے دس برسوں میں دو طرفہ کاروبار دس گنا زیادہ بڑھانے کی بات ہوئی تھی۔
اب چین بھی چاہے تو ان تمام وعدوں کو رد کرسکتا ہے۔
کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی سرمایہ کاری اس بات پر منحصر نہیں کہ ایران کو یورپ سے کتنا نقصان ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مثال کے طور پر ایران کو تیل نکالنے کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ٹیکنالوجی کی ضرورت ہو گی۔ ایران کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں ہے اور وہ اسے درآمد کر سکتا ہے اور یہ ٹیکنالوجی یورپ اور امریکہ کے پاس ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی چین کے پاس بھی نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین ٹیکنالوجی تیل کی پیداوار کے لیے اچھی نہیں ہے۔ ایسے میں چین ایران کے ساتھ مل بھی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ چینی کمپنیاں امریکہ میں کاروبار کرن میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں اور اگر چینی کمپنیاں ایران کے ساتھ کام کر بھی لیتی ہیں تو ان کمپنیوں کے لیے امریکہ میں مشکلات پیدا ہوں گی۔
ایران پر امریکی پابندیوں کا اطلاق چھ اگست سے ہو گا۔
ایران کی معیشت کے لیے تیل کی برآمدات ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اور تہران کے پاس فی الحال اسکا کوئی متبادل دکھائی نہیں دے رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس وقت ایران یومیہ 27 لاکھ بیرل تیل برآمد کر رہا ہے ۔ فنائینشل ٹربیون کے مطابق اس میں سے 38 فیصدی تیل ایران یورپی کمپنیوں کو فروخت کرتا ہے۔ اب اگر یورپی کمپنیوں نے ایران کا ساتھ نہیں دیا تو وہ انھیں تیل فروخت نہیں کر پائے گا۔
چین کو زیادہ تیل فروخت کر کے ایران کو فائدہ تو ہو گا لیکن یہ بھی اتنا آسان نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین بھی ایران کی اس مجبوری کا فائدہ اٹھانا چاہے گا۔ اس کے علاوہ چین ایران کی خاطر یگر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات خراب نہیں کرنا چاہے گا۔
ایران کے تیل کی برامدات میں کمی آنے سے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کم ہو جائیں گے اور ایسے میں اس کے لیے ادائیگی کے بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے اس بحران کے سبب ہی لوگ اب سڑکوں پر نکل رہے ہیں ایران میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اب چین کی جانب دیکھ رہا ہے تو اسے مایوسی ہی ہاتھ آئے گی۔
ایران کے سابق نائب صدر عشاق کو اصلاح کار سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کہ ایران کو براہ راست امریکہ سے بات کرنی چاہیے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایران سنگین اقتصادی جنگ کی جانب جا رہا ہے اور اس کے نتائج بہت خراب ہو سکتے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ ایران کو اس بحران سے چین اور روس بھی نہیں نکال سکتے۔
ایرانیروزنامہ ارمان نے لکھا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران مزید مشکلات کا شکار ہو گا۔
روز نامے نے اقوامِ متحدہ میں ایران کے سابق سفارت کار علی خرم کے بیان کو شائع کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے 'جس طرح امریکہ نے عراق میں صدام حسین کی حکومت کو اکھاڑ پھینکا تھا اسی طرح ایران کے لیے بھی امریکہ نے منصوبہ بندی کی ہے۔ امریکہ نے عراق میں یہ کام تین مرحلوں میں کیا تھا پہلے پابندیاں عائد کی تھیں پھر تیل اور گیس کی برآمدات پر روک دی تھیں اور اخر میں فوجی کارروائی ہوئی تھی۔‘









