روہنگیا پناہ گزین انڈیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں: انڈین حکومت کا حلفیہ بیان

انڈیا کی مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے حلفی بیان میں کہا ہے کہ میانمار کے روہنگیا پناہ گزین انڈیا کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور انہیں ملک بدر کرنے کا فیصلہ حکومت کے اوپر چھوڑ دیا جانا چاہیے۔

حکومت نے یہ بیان روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے اپنے فیصلے کے دفاع میں دیا ہے۔

میانمار میں روہنگیا باشندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران انڈیا کی حکومت نے چند ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کر رہی ہے لیکن حکومت کے اس فیصلے کو دو پناہ گزینوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اسے خفیہ ایجینسیوں سے معلوم ہوا ہے کہ بعض روہنگیا پناہ گزین پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں ‏اور وہاں کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے رابطے میں ہیں 'جس کے سبب وہ ملک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔'

حکومت نے مزید کہا ہے کہ شدت پسند روہنگیا دہلی، حیدرآباد، میوات اور جموں میں سرگرم ہیں۔

حکومت کے مطابق 'ان شدت پسند روہنگیا مسلمانوں سے ملک کے بودھ شہریوں پر حملے کیے جانے کا قوی اندیشہ ہے۔'

حکومت نے اپنے بیان حلفی میں مزید کہا کہ روہنگیا باشندوں کو غیر قانونی طریقے سے ملک میں لانے کے لیے برما، بنگال اور تریپورہ میں منظم گروہ کام کر رہے ہیں۔

پناہ گزینوں کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل پرشانت بھوشن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت نے قومی سلامتی کے خطرے کا ذکر کیا ہے لیکن عدالت میں کوئی ثبوت نہیں پیش کیا مگر حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تین اکتوبر کو آئندہ سماعت کے دوران تفصیلات پیش کرے گی۔

پناہ گزینوں نے سپریم کورٹ میں کہا ہے وہ برما میں بے پناہ مظالم، تشدد اور تفریق سے جان بچا کر کسی طرح یہاں پہنچے ہیں اور انہیں ملک بدر کیے جانے سے حقوق انسانی کے بین الاقوامی ضابطوں کی خلاف ورزی ہوگی۔

عدالت عظمیٰ میں روہنگیا پناہ گزینوں کی نمائندگی فالی ناریمن، کپل سیبل، راجیو دھون، پرشانت بھوشن، اشونی کمار اور کولن گونزالز جیسے چوٹی کے وکلا کر رہے ہیں۔

بیشتر روہنگیا پناہ گزین میانمار میں 2012 کی شورش کے بعد انڈیا آئے تھے۔ حکومت نے اگست کے اوائل میں پارلیمنٹ میں بتایا تھا کہ ملک میں کم از کم چودہ ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کے نام اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے میں درج ہیں۔

حکومت نے عدالت عظمیٰ میں جو بیان حلفی داخل کیا ہے اس میں ان پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً چالیس ہزار بتائی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سبھی غیر قانونی تارکین وطن ہیں اور انہیں ملک سے نکالا جائے گا۔

قانونی طور پر وہ دنیا کے کسی ملک کے شہری نہیں ہیں کیونکہ میانمار بھی انہیں اپنا شہری تسلیم نہیں کرتا۔

حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان پناہ گزینوں کو جبراً ملک بدر نہیں کیا جا سکتا۔

گذشتہ ہفتے جینیوا میں اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل میں ادارے کے سربراہ نے برما کی صورتحال پر بحث کے دوران روہنگیا کو ملک بدر کرنے کی انڈیا کے فیصلے کی سخت مذمت کی تھی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انڈیا اپنی انسانی ذمے داریوں سے انحراف نہیں کر سکتا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے نکتہ چینی کیے جانے کے بعد گزشتہ دنوں انڈیا میں حکومت کی سرپرستی والے حقوق انسانی کے قومی کمیشن نے روہنگیا پناہ گزینوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ حکومت کے ملک بدری کے فیصلے کی محالفت کرے گا۔

روہنگیا پناہ گزینوں کو انڈیا میں کسی ادارے کی جانب سے کوئی مالی اعانت نہیں ملتی۔ بیشتر لوگ محنت مزدوری اور چھوٹے موٹے کام کر کے اپنا پیٹ پال رہے ہیں اور ان کیمپوں میں وہ انتہائی بدحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔