انڈیا میں تیز رفتار بلٹ ٹرین کے پہلے منصوبے کی بنیاد رکھ دی گئی

جاپان کے وزیراعظم شینزو آبے نے انڈيا میں پہلے بلٹ ٹرین نیٹ ورک کے ایک منصوبے کی بنیاد رکھی ہے جو ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد سے ممبئی کے درمیان چلے گی۔

جاپان نے انڈیا کو 17 ارب ڈالر یعنی تقریباً گیارہ سو ارب روپے کا قرض دیا ہے اور اس بلٹ ٹرین منصوبے کی تکمیل میں اسی رقم کو صرف کیا جائے گا۔

توقع یہ ہے کہ اس بلٹ ٹرین کے چلنے سے ممبئی اور احمدآباد کے درمیان 500 کلو میٹر کا سفر تین گھنٹے میں طے ہو سکے گا۔ فی الوقت عام ریل سے اس مسافت طے کرنے میں آٹھ گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔

اس ٹرین میں 750 نشستیں ہوں گی اور اس پروجیکٹ کو اگست 2022 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

احمد آباد سے ممبئی کے درمیان 500 کلومیٹر کے راستے میں 12 سٹیشن ہوں گے۔ بیشتر راستہ زمین سے اوپر یعنی ایلیویٹیڈ ہوگا۔

اس ٹرین کا سات کلومیٹر کا ٹریک سمندر کے اندر ایک سرنگ سے بھی گزرے گا۔ اس میں ساڑھے سات سو مسافر سفر کر سکیں گے۔

بلٹ ٹرین کی زیادہ سے زیادہ رفتار 350 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوگی، جو انڈیا کی موجودہ تیز ترین رفتار ٹرینوں سے کہیں زیادہ ہو گی۔

انڈیا کی حکومت چاہتی ہے کہ ملک کے بڑے شہروں کو ہائی سپیڈ ٹرینوں سے منسلک کیا جائے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ مسافروں کی بہتری اسی میں ہے کہ موجودہ ریل نیٹ ورک کو محفوظ بنانے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جائے۔

انڈین ریل سروس روزانہ تقریباً دو لاکھ مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچاتی ہے۔ لیکن اس کا بیشتر ساز و سامان اور مشینری پرانی ہوچکی ہے جس کی وجہ سے اکثر ٹرینیں حادثات کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔

بلٹ ٹرین منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایسی ریل سروس سے سفر کرنے میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔ اس سے بڑے شہروں میں بھیڑ کم ہوجائے گی، کاروبار میں اضافہ ہوگا اور بنیادی ڈھانچے میں ترقی ہوگی۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے وزیر برائے ریلویز پییوش گوئیل کے حوالے سے لکھا ہے کہ 'یہ ٹیکنالوجی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلاب اور اہم تبدیلی کا سبب بنے گی۔'

یاد رہے کہ انڈیا میں مسلسل ٹرین حادثوں کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ریلوے کے وزیر کو تبدیل کر دیا تھا۔