’جے این یو میں بائیں بازو کی جیت مرکزی حکومت کو جواب ہے‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/Kavita
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
انڈیا کے معروف تعلیمی ادارے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں سٹوڈنٹ یونین کے انتخابات میں ایک بار پھر چاروں سیٹوں پر بائیں بازو کی جیت ہوئی ہے۔
اس بار اے آئی ایس اے، ایس ایف آئی اور ڈی ایس ایف کے اتحاد نے صدر، نائب صدر، سیکریٹری اور جوائنٹ سیکریٹری کے چاروں عہدوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔
اس بار صدر کے عہدے کے لیے تقریبا تمام طلبہ تنظیموں نے خواتین کو میدان میں اتارا تھا۔
انڈیا میں دائیں بازو کی لہر کے باوجود جے این یو ایک ایسا ادارہ جو اس کو چیلنج کرتا رہا ہے۔ جے این یو کی سابق جوائنٹ سیکریٹری اور بائیں بازو کی سرکردہ رہنما کویتا کرشنن نے بی بی سی کو بتایا کہ 'جے این یو کی جیت مرکزی حکومت کو بھی بڑا جواب ہے۔'
انھوں نے کہا کہ بعض بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حامی سوشل میڈیا میں جھوٹی خریں پھیلا رہے ہیں کہ جے این یو میں ان کی جیت ہوئی ہے۔
ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک بی جے پی کے جنرل سیکریٹری کیلاش وجے ورگیا کا ٹیوٹ ہے جس میں انھوں نے اے بی وی پی کے کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 'بھارت کے ٹکڑے کرنے والوں کی ہار ہوئی اور بھارت ماتا کی جے کرنے والوں کی جیت۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیال رہے کہ جے این یو ایک عرصے سے مودی حکومت کو چیلنج دینے کے لیے سرخیوں میں رہا ہے اور وہاں کی طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کو غداری کے الزام میں جیل بھی بھیجا جا چکا ہے۔
انڈیا کی سرکاری نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق صدر کے عہدے کے لیے یونائیٹڈ لیفٹ کی امیدوار گیتا کماری نے بی جے پی کی طلبہ جماعت اے بی وی پی کی ندھی ترپاٹھی کو 464 ووٹوں سے شکست دی ہے۔
نائب صدر کے عہدے کے لیے یونائیٹڈ لیفٹ کی زویا خان نے آٹھ سو سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
جنرل سکریٹری کے عہدے پر یونائیٹڈ لیفٹ کے دگیرالا کرششن کی جیت ہوئی۔ انھیں 2082 ووٹ ملے جبکہ اے بی وی پی کے نیکنج مکوانا کو 975 ووٹ ملے۔
جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے کے لیے یونائیٹڈ لیفٹ کے سوبھانشو سنگھ کامیاب رہے۔
صدر کے عہدے پر کامیابی کے بعد، یونائیٹڈ لیفٹ کی گیتا کماری نے جے این یو کے طلبہ اپنی کامیابی کا مستحق قرار دیا۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق انھوں نے کہا کہ وہ جے این یو میں ریسرچ کی سیٹوں میں کی جانے والی کٹوتی، نئے ہاسٹل کی تعمیر جیسے مسائل کو اٹھائيں گی۔
جنرل سکریٹری کے عہدے جیتنے والے دگیرالا نے کہا کہ انتخابات کے نتائج دکھاتے ہیں کہ 'جے این یو پہلے سے زیادہ جمہوری ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے ساتھ انھوں نے جی این یو میں اختلاف رائے اور بحث ومباحثہ کے کلچر کو برقرار رکھنے کی بھی بات کی۔
جے این یو طلبہ یونین کے سابق نائب صدر اور صحافی ندیم احمد کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'جے این یو میں یونائیٹڈ لیفٹ کی جیت نے یہ بتا دیا ہے کہ وہ فاششٹ قوتوں کے خلاف کھڑا ہے۔'
خیال رہے کہ جے این یو میں حال میں ہی ریسرچ کی سیٹوں میں خاصی کمی کی گئی ہے جس کے خلاف طلبہ میں ایک طرح کی بے چینی پائی جاتی ہے اور اس کے خلاف انھوں نے مظاہرے بھی کیے ہیں۔







