آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سری لنکا: مسلمانوں پر حملوں کے الزام میں سخت گیر بودھ مذہبی رہنما گرفتار
سری لنکا میں پولیس نے مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں ملوث ایک بودھ مذہبی رہنما کو گرفتار کیا ہے۔
گرفتار کیے جانے والے 32 سالہ شخص کا تعلق سخت گیر بودھ تنظیم ’بودو بالا سینا‘ سے ہے۔
ان پر مسلمانوں کے خلاف حملے اور آتش زنی کرنے جیسے متعدد الزامات ہیں جس سے ملک میں مذہبی منافرت اور کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
پولیس کے ترجمان پریاناتھا جے کوڈی کا کہنا ہے کہ گذشتہ اپریل سے مسلمانوں کے مکانات، ان کے کاروبار، مساجد اور قبرستانوں میں آگ زنی کے اب تک کے 16 واقعات سے متعلق تفتیش کا عمل جاری ہے۔
انھوں نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ’ہم ایسے جرائم کے خلاف سخت موقف اختیار کر رہے ہیں۔‘
پولیس کا کہنا ہے جس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے ان کا کولمبو کے مضافات میں ہونے والی آتشزدگی سے براہ راست تعلق ہے۔ گرفتار کیے گئے مذکورہ شخص کو پوچھ گچھ کے لیے پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے۔
سری لنکا میں مسلم اقلیتوں کو پیٹرول بموں سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور پولیس پر اس سلسلے میں فرار ہونے والے ایک سرغنہ گلاگودتی گنناساران کو نہ پکڑنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے وہ گنناسارن کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک ہیں۔ گنن سارن سخت گیر بودھ مذہبی رہنما ہیں جو گذشتہ مئی سے اس وقت سے لاپتہ ہیں جب سے پولیس نے انھیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دوران بود بالا سینا کے ایک ترجمان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کی تنظیم مسلمانوں کے خلاف ہونے والے حملوں میں ملوث نہیں ہے تاہم تنظیم نے حکومت پر یہ کہہ کر نکتہ چینی بھی کی ہے کہ وہ بودھوں کی اکثریت والے ملک میں اسلامی شدت پسندی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک دو عشرے میں ہی سری لنکا میں بدھ مت کے ماننے والوں کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔
اس سخت گیر تنظیم پر اس سے پہلے بھی 2014 میں مذہبی فسادات بھڑکانے کے الزامت عائد ہو چکے ہیں، اس دوران چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔