آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین نے انڈیا کے ساتھ سرحد پر متنازع علاقوں کے نام تبدیل کر دیے
چین نے اپنی جنوبی سرحد پر انڈیا کے ساتھ چند متنازع علاقوں کے ناموں کو تبدیل کر دیا ہے۔ منگل کے روز کیے گیا یہ اعلان بظاہر تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما کے ان علاقوں میں دورہ کرنے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔
رواں ماہ 81 سالہ دلائی لاما نے انڈیا کے شمال مشرقی دور افتادہ علاقے اروناچل پردیش کا دورہ کیا تھا۔
چین کا کہنا ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر منفی اثر پڑا ہے اور انھوں نے انڈیا کو چینی مقادات کو نقصان پہنچانے سے خبردار کیا۔
چین کے اس اقدام کے بعد انڈیا نے ابھی تک ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
تاہم انڈیا کا موقف ہے کہ دلائی لاما کا دورہ صرف مذہبی وجوہات کے لیے منعقد کیا گیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ دلائی لاما نے ریاست اروناچل پردیش کا دورہ کیا ہو۔ انھوں نے اس ریاست کے 1983، 1997، 2003 میں دو مرتبہ، اور 2009 میں سرکاری دورے کیے ہیں۔
چینی ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین نے جنوبت تبت میں چھ مقامات کے نام کو سٹینڈرڈ بنا دیا ہے جو کہ چینی علاقے ہیں مگر ان میں سے کچھ کو ابھی انڈیا کنٹرول کر رہا ہے۔‘
چین نے یہ اعلان دلائی لاما کا ایک ہفتہ طویل دورہ ختم ہونے کے ایک روز بعد کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ پہلی بار ہے کہ چین نے متنازع علاقے میں کسی مقام کا نام تبدیل کیا ہو۔
یاد رہے کہ حال ہی میں انڈیا نے تائید کی تھی اس کا یہ موقف برقرار ہے کہ تبت چین کا حصہ ہے۔