آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
القاعدہ کے سینیئر رہنما افغانستان میں ڈرون کا نشانہ بن گئے
امریکی حکام نے گذشتہ ماہ شمال مشرقی افغانستان میں ایک ڈرون حملے میں القاعدہ کے ایک سینیئر رہنما کو ہلاک کرنے تصدیق کی ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ علاقے میں تنظیم کے امیر فاروق القحطانی کو دو ہفتے قبل ایک حملے میں ہلاک کیا گیا۔
یاد رہے کہ دو ہفتے قبل حکومتی ذرائع سے اس حملے کی اطلاعات تو موصول ہوئی تھیں تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی کہ یہ حملہ کامیاب ہوا تھا کہ نہیں۔
اس حملے میں فاروق القحطانی کے نائب بلال المتعبی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حکام کئی سالوں سے قحطانی کی تلاش میں تھے۔ فوجی حکام نے 2012 میں ان کا سراغ لگا لیا تھا اور ان پر حملہ کرنے والے ہی تھے مگر یہ کارروائی آخری وقت پر شہریوں کی ہلاکت کے خطرے کے پیشِ نظر ملتوی کر دی گئی۔
قحطانی اور ان کے نائب پر جب حملہ کیا گیا اس وقت وہ کنڑ کے ضلع غازی آباد کے ہلگل گاؤں میں تھے۔ یہ دونوں دو الگ الگ عمارتوں میں تھے جو ایک دوسرے سے کئی سو میٹر دور تھیں۔ ان عمارتوں پر متعدد میزائل داغے گئے۔
سعودی عرب میں پیدا ہونے والے فاروق القحطانی کو فروری میں امریکہ میں مطلوب ترین مجرموں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ کے اہم منصوبہ سازوں میں سے ایک تھے۔
فاروق القحطانی قطری شہریت رکھتے تھے اور ان کے خلاف یورپ میں حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی تھے۔
افغان حکومت کے ترجمان عبد الغنی مصمم نے بتایا کہ 23 اکتوبر کو ہونے والے اس حملے میں کنڑ صوبے میں 15 جنگجو مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو عرب اور ایک پاکستانی بھی شامل تھے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعے کو پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے وفادار جنگجوؤں نے افغانستان کی حالیہ مہم کے دوران طالبان سے زیادہ فعال رول ادا کیا ہے۔