آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں ایک نوجوان کی 20 سینٹی میٹر لمبی ’دُم‘ الگ کر دی گئی
انڈیا کے شہر ناگپور میں ایک نوجوان کی ریڑھ کی ہڈی کے نیچے سے ابھرنے والی 20 سینٹی میٹر لمبی ’دُم‘ کو سرجری کے ذریعے جسم سے الگ کر دیا گیا ہے۔
اٹھارہ سالہ نوجوان کی پشت پر یہ ’دُم‘ اس کی 14ویں سالگراہ کے بعد سے ظاہر ہونا شروع ہوئی تھی۔
انڈیا کے شہر ناگپور کے رہنی والے اس نوجوان اور اس کے گھر والوں نے شروع شروع میں اس بات کو چھپا کر رکھا کیونکہ انھیں ڈر تھا کہ لوگ یہ جاننے کے بعد ان کے بچے کا مذاق اڑائیں گے۔
تاہم آخر کار جب یہ ’دُم‘ حد سے زیادہ بڑھنے لگی اور اس میں ہڈی بننا شروع ہوئی تو انھوں نے ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔
اس طرح کے واقعات انتہائی غیر معمولی ہونے کے باوجود یہ کسی بھی انسان کے جسم سے ظاہر ہونے والی سب سے لمبی ’دُم‘ ہے۔
اس بچے کی والدہ نے اپنا نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ ایک مسئلہ بن گیا تھا جب دُم جسم سے باہر نکلنا شروع ہوگئی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ہر بار کپڑے تبدیل کرتے وقت اسے دم کو اٹھا کر رکھنا پڑتا تھا۔‘
’میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ میرے بچے کے لیے بہت تکلیف دہ اور پریشان کن ہے اس لیے میں اسے ہسپتال لے گئی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر رحم مادر کے اندر ہی اس نوجوان کی ریڑھ کی ہڈی کے پھیلنے کے نتیجے میں یہ ’دُم‘ بن گئی ہو لیکن وہ ظاہر اس کے بڑے ہونے کے بعد ہوئی ہے۔
ڈاکٹر پرامود گری نے بتایا کہ ’جب اس دُم کی لمبائی بڑھنے لگی تو وہ اس بچے کی کمر پر دباؤ ڈالنے لگی۔‘
ان کے مطابق ’یہ ظاہری اور نفسیاتی طور پر اس بچے کے لیے پریشان کن تھا۔‘
تاہم آپریشن کے ذریعے ’دُم‘ کو الگ کرنا زیادہ مشکل مرحلہ نہیں ہے۔ بعض اوقات ایسی ’دُم‘ اس صورت میں بننا شروع ہو جاتی ہے جب ریڑھ کی ہڈی ہموار ہو جائے۔
اس آپریشن کے بعد اس بچے کو چند دنوں کے لیے ہسپتال میں ہی رکھا جائے گا جس کے بعد وہ گھر جا سکیں گے۔