آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان اور انڈیا میں فوجی سطح پر رابطے جاری رہنا ضروری: امریکہ
امریکہ نے انڈیا کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے بعد دونوں ممالک پر کشیدگی کو کم کرنے اور بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
ادھر انڈیا میں خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن کے اکھنور سیکٹر میں پاکستان کی جانب سے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی نے جموں کے ڈپٹی کمشنر سمرنديپ سنگھ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’پاکستان کی فارورڈ پوسٹ سے چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی ہے۔ یہ فائرنگ جموں ضلع میں کنٹرول لائن پر آباد پللنوالا، چپريال اور سمنام علاقوں میں رات کے دوران کی گئی.‘
انھوں نے کہا کہ یہ فائرنگ جمعرات کی رات ساڑھے 12 بجے سے ڈیڑھ بجے کے درمیان ہوئی تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے.
اس سے قبل جمعرات کو امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران پاکستان اور انڈیا کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی افواج رابطے میں رہی ہیں، اور ہمارے خیال میں حالیہ کشیدگی میں کمی کے لیے ان رابطوں کا جاری رہنا بہت ضروری ہے۔‘
گذشتہ روز جمعرات کو انڈیا نے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف 'سرجیکل سٹرائیکس' کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جسے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرحد پار فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیکس کا رنگ دینا حقیقت کو مسخ کرنے کے برابر ہے۔
انڈین وزارت دفاع نے کہا تھا کہ بدھ کی شب کی جانے والی اس کارروائی میں متعدد شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ پاکستان کی فوج کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر انڈین فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے دو پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اور انڈیا کے درمیان اس مبینہ سرجیکل سٹرائیک سے قبل کوئی بات چیت ہوئی تھی؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پر جان کربی کا کہنا تھا کہ ’میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ جان کیری کی انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج کے ساتھ 27 ستمبر کو بات چیت ہوئی تھی جس میں انھوں نے 18 ستمبر کو ہونے والے اوڑی حملے کی مذمت کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ جان کیری نے ہر طرح کی دہشت گردی کی بھی مذمت کی تھی اور تناؤ میں اضافے کی صورت میں محتاط رہنے کا کہا تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ’دونوں ممالک کو ہمارا پیغام یہی ہوگا کہ وہ خطرات سے نمٹنے اور ایسے اقدام سے بچنے کے لیے جن سے کشیدگی میں اضافہ ہو، بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھے اور دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکہ اس خطے کو دہشت گردی سے لاحق خطرات پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔
جان کربی نے کہا کہ ’دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے۔ ہم لشکر طیبہ، حقانی گروپ اور جیش محمد جیسے شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیتے رہیں گے۔‘
واضح رہے کہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں' انڈین فائرنگ' جسے انڈیا نے'سرجیکل سٹرائک' قرار دیا ہے اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد وزیر اعظم پاکستان نے وفاقی کابینہ اور قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس پہلے ہی بلایا جا چکا ہے۔