BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 September, 2006, 18:09 GMT 23:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکواش: شیرون وی کا اعزاز

شیرون وی نے گزشتہ سال بھی پاکستان میں کھیلے جانے والےپہلے بین الاقوامی سکواش ٹورنامنٹ میں شرکت کی تھی
جہانگیر سکواش کمپلیکس واہ میں یکم سے پانچ ستمبر تک ہونے والا دوسرا ویسپا ویمن سکواش انٹرنیشنل ٹورنامنٹ ملائشیا کی خاتون شیرون وی نے جیت لیا ہے۔

منگل کو کھیلے گئے فائنل میں شیرون وی نے ہم وطن ڈیلا آرنلڈ کو صرف 25 منٹ میں تین سٹریٹ گیمز میں مات دی اور پانچ ہزار امریکی ڈالر کی انعامی رقم والے اس ٹورنامنٹ کی فاتح رہیں۔

شیرون وی نے گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والے پہلے بین الاقوامی سکواش ٹورنامنٹ میں بھی شرکت کی تھی اور فائنل تک پہنچیں تھیں لیکن فائنل میں انگلینڈ میں مقیم پاکستانی خاتون کھلاڑی کارلا خان سے شکست کھا گئیں تھیں۔

اس بارکارلا خان اس بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شریک نہیں ہو سکیں کیونکہ وہ حال ہی میں کولمبو میں ہونے والی ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ان فٹ ہو گئیں تھیں۔

شیرون وی نے کہا کہ اگرچہ انہیں یہ ٹورنامنٹ جیت کر بہت خوشی ہوئی ہے لیکن اس بات کا کچھ افسوس بھی ہے کہ کارلا خان ان فٹ ہونے کے سبب یہ ٹورنامنٹ نہیں کھیل سکیں کیونکہ اگر وہ مد مقابل ہوتیں تو کھیل زیادہ دلچسپ ہوتا۔

کارلا خان ان فٹ ہونے کی وجہ سے اس ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر سکیں

شیرون وی ویمن سکواش کی عالمی درجہ بندی میں 22ویں نمبر پر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ملائشین خواتین کا سکواش کے کھیل میں معیار پاکستانی خواتین سے کافی بہتر ہے کیونکہ پاکستان میں خواتین کو سکواش کھلتے ہوئے صرف تین چار سال ہی ہوئے ہیں ۔

شیرون نے مزید کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال پاکستانی کھلاڑیوں کے کھیل میں بہتری آئی ہے۔شیرون وی کے مطابق اس وقت ویمن سکواش کی عالمی رینکنگ میں نمبر ایک بھی ملائشین خاتون نکول ڈیوڈ ہیں۔

پاکستان میں ہونے والے اس بین الاقوامی ویمن سکواش ٹورنامنٹ کا مین ڈرا سولہ کھلاڑیوں پر مشتمل تھا جس میں گیارہ پاکستانی اور پانچ غیر ملکی خواتین تھیں۔

پاکستان کی نمبر دو کھلاڑی ماریہ طور نے تجربہ کار غیر ملکی خواتین کی موجودگی کے باوجود ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی جو پاکستانی خواتین کے لیے کافی حوصلہ افزا بات ہے۔

اسی بارے میں
کارلا پاک دستے سے باہر
25.07.2002 | صفحۂ اول
بشریٰ: مسلسل چیمپیئن
02.07.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد