’ذہنی مریض‘ امداد علی کو پھانسی نہ دینے کا مطالبہ

پاکستان کے مختلف طبی اداروں سے وابستہ 14 بڑے ماہرین نفسیات نے قتل کے جرم میں سزائے موت کے قیدی امداد علی کو ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے اس کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
صحافی ناصر خان کے مطابق یہ مطالبہ ماہرین نفسیات نے سنیچر کو ایک کھلے خط کے ذریعے کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امداد علی جیسے ذہنی مریض کو پھاسنی کی سزا طبی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔
امداد علی صوبہ پنجاب کے ضلع وہاڑی کی ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہیں اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وہاڑی نے ان کے بلیک وارنٹ جاری کرتے ہوئے 20 ستمبر کو انہیں پھانسی دینے کا حکم جاری کیا ہے۔
امداد علی نے 21 جنوری 2001 کو بورے والا میں ایک مدرس حافظ عبداللہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ 2002 میں انھیں سیشن کورٹ نے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ یہ سزا ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھی۔ تاہم امداد علی کی اہلیہ صبیحہ بانو کا کہنا ہے کہ امداد قتل سے بہت پہلے ذہنی مریض بن چکا تھا۔
امداد کے بھتیجے صلاح الدین نے بتایا کہ اس کے چچا مقتول حافظ عبداللہ سے روحانی علاج کراتے تھے۔ ’ان کا خیال تھا کہ ان پر جنوں کا سایہ ہے حافظ عبداللہ نے انہیں جن بھگانے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن ان کا مرض بڑھتا گیا اور انھوں نے اسی قسم غیرحالت میں حافظ عبداللہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔‘
ایف آئی آر میں قتل کی وجہ بھی روحانی معاملات لکھی گئی ہے۔
امداد علی کا کئی مرتبہ طبی معائنہ کرنے والے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی و میو اسپتال لاہور کے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر عثمان آمین ہوتیانہ کے مطابق امداد علی کی ذہنی حالت ایسی نہیں کہ اسے پھانسی دی جاسکے اور لاہور میں اس قسم کے قیدیوں کو ہر تین ماہ بعد معائنہ کرنے والا میڈیکل بورڈ بھی اس کی تصدیق کرچکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہwebsite
پروفیسرڈاکٹر عثمان آمین ہوتیانہ ان 14 ماہرین نفسیات میں شامل ہیں جنہوں نے امداد علی کے بلیک وارنٹ جاری کیے جانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکام کو کھلا خط لکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خط میں ماہر ڈاکٹروں نے لکھا ہے کہ ’پنجاب کی جیلوں میں قید ذہنی مریض قیدیوں کے بلیک وارنٹ جاری کیے جانے پر انہیں تشویش لاحق ہوگئی ہے، جن میں ایک وہاڑی ڈسٹرکٹ جیل کا امداد علی، سنٹرل جیل لاہور میں قید خضر حیات اور کنیزاں بی بی شامل ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم نہ صرف اپنے قومی اقدار اور بین الاقوامی قوانین سے بہت پیچھے ہیں بلکہ ہم نے ماضی کی غلطیوں سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔‘
خط میں لکھا گیا ہے کہ حکام پاکستان کی جانب سے تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے امداد علی کی پھانسی کو روکنے کے لیےاقدامات کریں۔







