اگر کوئی ثبوت ہے تو سامنے لایا جائے، ایم کیو ایم کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہAFP
متحدہ قومی موومنٹ ’ایم کیو ایم‘ کے ترجمان سینیٹر سیف نے کہا ہے کہ بی بی سی ’ڈاکومنٹری‘ ایم کیو ایم پر ماضی لگائے جانے والے پرانے الزامات کا مجموعہ ہے اور یہ الزامات نہ تو ماضی میں ثابت ہو ئے ہیں اور نہ اب ہوں گے۔
انھوں نے کہا: ہم سمجھتے ہیں ان الزامات میں کچھ نیا نہیں۔ ’ماضی میں بھی میڈیا میں ایسے الزامات لگائے جاتے رہے اور پھر الزام لگانے والے اہلکاروں نے ان الزامات کی صحت سے انکار کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ نوے کی دہائی سے ایم کیو ایم پر الزام بھی لگایا گیا کہ ایم کیو ایم کے قبضے سے جناح پور کا کوئی نقشہ ملا ہے لیکن بعد میں انھیں اداروں کے اہلکاروں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ الزامات غلط تھے۔
ایم کیو ایم کے ترجمان نے تردید کی کہ ایم کیو ایم کے کسی رہنما نے برطانوی حکام کو بتایا کہ انھیں انڈیا سے امداد ملتی رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر بی بی سی کے پاس کوئی ایسی شہادت موجود ہے تو سامنے لائی جائے۔ انھوں نے کہا ایم کیو ایم پاکستان کی سیاسی جماعت ہے اور پاکستان میں انڈیا سے امداد لینا زہر قاتل ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ الزامات اس پراپیگنڈے کا حصہ ہے جو کچھ عرصے سے ایم کیو ایم کے خلاف جاری ہے اور ماضی قریب میں اس میں تیزی آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت ایم کیو ایم کے خلاف مہم چلا رہی ہے جس میں اس کے ادارے ملوث ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم بی بی سی کی ڈاکومنٹری کا تمام قانونی پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہمارے حقوق پامال ہوئے ہیں تو ہم انھیں عدالت میں لے جائیں گے۔



