لکھوی کی حراست: سیکریٹری داخلہ کو پیش ہونے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی ذکی الرحمن لکھوی کی نظربندی کے اقدام کو کالعدم قرار دے چکی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی ذکی الرحمن لکھوی کی نظربندی کے اقدام کو کالعدم قرار دے چکی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مرکزی ملزم ذکی الرحمن لکھوی کو عدالت کو بتائے بغیر حراست میں رکھنے کے معاملے پر سیکریٹری داخلہ اور صوبہ پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے ضلعی رابطہ افسر کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نور الحق قریشی نے ملزم ذکی الرحمن لکھوی کے وکیل کی طرف سے مذکورہ افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر کی گئی درخواست پر دیا۔

درخواست گزار کا موقف تھا کہ عدالت نے اُن کے موکل کی نظر بندی کو کالعدم قرار دیا تھا تو اس کے بعد اوکاڑہ کے ڈی سی او نے ذکی الرحمن لکھوی کی نظر بندی میں ایک ماہ کی توسیع کر دی جس کی معیاد 13 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عدالت کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ ملزم ذکی الرحمن لکھوی کے خلاف مستقبل میں کوئی نیا مقدمہ درج کرنے یا اُنھیں خدشہ نقض امن کے تحت حراست میں لینے سے متعلق عدالت عالیہ کو آگاہ کیا جائے گا لیکن اُنھوں نے ایسا نہیں کیا۔

ذکی الرحمن لکھوی کے وکیل رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے مطابق اُن کے موکل کے خلاف دو مقدمات درج تھے جن میں اُن کی ضمانت ہو چکی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ محض مفروضوں کی بنیاد پر کسی شخص کی آزادی کو سلب نہیں کیا جا سکتا اور وفاقی حکومت کا یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان افراد کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

جسٹس نور الحق قریشی نے اس بات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے نوٹس میں لائے بغیر ذکی الرحمن لکھوی کی حراست کی مدت میں توسیع کیسے کر دی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت اس تمام معاملے کا جائزہ لے گی اور جو بھی غیر قانونی اقدام میں ملوث پایا گیا اُس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ ملزم ذکی الرحمن لکھوی کا تعلق پنجاب کے وسطی شہر اوکاڑہ ہے اور اس شہر کے ضلعی ربطہ افسر نے خدشہ نقض امن کے تحت اُن کی نظر بندی کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کردی تھی جو تیرہ اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔

اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ ذکی الرحمن لکھوی کی نظربندی کے اقدام کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔

دوسری جانب ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ 26 مارچ کو کرے گا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس مقدمے میں ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی تھی۔