’مودی حکومت کے قیام کے بعد مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوئی‘

سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ باہمی احترام اور وقار کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے
،تصویر کا کیپشنسرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ باہمی احترام اور وقار کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے

وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت کے قیام کے بعد بھارت کے ساتھ مذاکراتی عمل میں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ اب بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات بحالی کے لیے اقدامات کرے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ باہمی احترام اور وقار کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا اب بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے اقدامات کرے کیونکہ بھارت ہی نے خارجہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات منسوخ کیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ کشمیری اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ پاکستان صرف کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے انھیں سیاسی حمایت فراہم کر رہا ہے۔

افغانستان کے بارے میں لندن کانفرنس سے متعلق ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اس سے پہلے غربت، عدم مساوات اور اقتصادی ترقی کے بارے میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خارجہ نے کہا کہ حکومت نے ملک کی پائیدار ترقی کے لیے وژن 2025 وضع کیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کہہ چکے ہیں کہ بھارت نے سیکریٹری سطح کے مذاکرات منسوخ کیے تھے۔

’ہم اپنے موقف پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت سے قبل پاکستان کے بھارت میں ہائی کمشنر کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہیں اور یہ عام بات ہے۔‘

میاں نواز شریف نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے خواہاں ہیں لیکن یہ مذاکرات ’مذاکرات برائے مذاکرات‘ نہیں ہونے چاہییں۔

’مذاکرات کو منسوخ بھارت نے کیا اور اس کی بحالی کے لیے پاکستان کی عزت اور خودمختاری کو داؤ پر نہیں لگایا جائے گا۔‘