’انکوائری کمیشن میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کو شامل کریں‘

عمران خان کے بقول جب تک کمیشن اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتا تب تک نہ نواز شریف استعفی دیں اور نہ ہی وہ دھرنا ختم کریں گے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعمران خان کے بقول جب تک کمیشن اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتا تب تک نہ نواز شریف استعفی دیں اور نہ ہی وہ دھرنا ختم کریں گے
    • مصنف, شمائلہ خان، عدیل اکرم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گذشتہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک ایسا غیر جانبدار کمیشن تشکیل دے جس میں ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کے نمائندے بھی شامل ہوں۔

جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے مطالبہ کیا کہ یہ کمیشن 30 نومبر سے قبل بنا دیا جائے اور وہ چار سے چھ ہفتوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے۔

انھوں نے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کمیشن اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتا تب تک نہ نواز شریف استعفیٰ دیں اور نہ ہی وہ دھرنا ختم کریں گے۔

اس سے قبل عمران خان مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے وزیرِ اعظم نواز شریف کے استعفے کو پہلی شرط قرار دیتے رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ کمیشن کے سربراہ کی تعیناتی تحریک انصاف سے مشاروت سے کی جائے۔

انھوں نے میاں نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کمیشن کی رپورٹ میں یہ ثابت ہو گیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے تو اُنھیں مستعفی ہو کر نئے اِنتخابات کروانےہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ الیکشن ہو گا تو نئے الیکشن کمیشن کی موجودگی میں ہونا چاہیے اور چاروں صوبائی الیکشن کمشنروں کو استعفی دینا چاہیے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے نئے چیف الیکشن کمشنر کے لیے جسٹس تصدق حسین جیلانی کو نام سامنے آنے پر کہا کہ اُن کو یہ عہدہ قبول نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ اُن کو تصدق حسین جیلانی کی غیر جانبداری پر اعتماد نہیں ہے۔

ان کے بقول نیا چیف الیکشن کمشنر کسی ایسے شخص کو ہونا چاہیے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد ہو۔

عمران خانے اپنی تقریر میں عدلیہ کی غیر جانبداری پر بھی سوالات اٹھائے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 30 نومبر کے جلسے میں وہ اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعمران خان کا کہنا تھا کہ 30 نومبر کے جلسے میں وہ اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے

عمران خان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے عوام اور وکلا سڑکوں پر آئے، انھوں نے بھی جیل کاٹی، کراچی میں 50 لوگ ہلاک ہوئے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عدلیہ اس جدوجہد میں آزاد ہوگئی لیکن غیر جانبدار نہیں ہو سکی۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے سپریم کورٹ سے سوال کیا کہ اصغر خان کیس میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل درانی نے عدالت میں حلف نامہ جمع کروایا کہ انھوں نے نواز شریف اور دیگر سیاست دانوں میں رقوم بانٹیں تو اِس کیس کا کیا ہوا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے احکامات جاری کیے تھے کہ اِس میں تفتیش ہونی چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ اُن کی جماعت کا دھرنا تین ماہ سے جاری ہے جو کہ پر امن دھرنا ہے اور بقول اُن کے دھرنے سے ملک میں کسی قسم کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ ہر دروازے پر دستک دینے کے بعد اپنے حق اور انصاف کے لیے دھرنا دے رہے ہیں لیکن اگر حکومت نے اُن کی تجویز نہ مانی تو اُس کے بعد حکومت کو نقصان پہنچےگا اور نواز شریف کے لیے حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا۔