’بھارتی اور افغان ایجنسیاں بلوچستان میں تخریب کاری میں ملوث ہیں‘

یہ اسلحہ گلستان، پشین اور مستونگ سے برآمد کیا گیا: فرنٹئیر کور

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ اسلحہ گلستان، پشین اور مستونگ سے برآمد کیا گیا: فرنٹئیر کور
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں۔

یہ بات انھوں نے جمعرات کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔ اس موقعے پر وہ اسلحہ پیش کیا گیا جو فرنٹیئر کور نے تین مختلف علاقوں سے برآمد کیا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلحہ اور گولہ بارود کی بڑی مقدار افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ عبد اللہ کے علاقے گلستان سے بر آمد ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اسلحہ اور گولہ بارود افغانستان سے تخریب کاری کے لیے لایا گیا تھا۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا کوئی وجود نہیں ہے۔

قبل ازیں ڈپٹی انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بریگیڈیئر طاہر محمود نے اسلحے کی بر آمدگی کے بارے میں بتایا کہ اسلحہ و گولہ بارود تین مختلف علاقوں سے بر آمد کیا گیا۔

ان علاقوں میں گلستان کے علاوہ مستونگ کا علاقہ کانک اور پشین کا علاقہ یارو بھی شامل ہے۔

بر آمد کیے جانے والے اسلحہ و گولہ بارود میں چار ہزار کلوگرام دھماکہ خیز مواد، 101 چھوٹے میزائل، 18 عدد تیار خود کش جیکٹیں، 107 ایم ایم کے 110 عدد راکٹ ، 31 کلاشنکوفیں، 35 عدد رائفلیں، 13عدد واکی ٹاکی سیٹ، دستی بم اور فیوز وغیرہ شامل ہیں۔ طاہر محمود کا کہنا تھا کہ اسلحہ و گولہ بارود بلوچستان بالخصوص کوئٹہ اور گرد و نواح کے علاقوں میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہونا تھا۔

ادھر گلستان میں چھاپے کے دوران ایک مشتبہ افغان باشندے کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن سے تحقیقات جاری ہیں۔