ضمنی انتخاب: جاوید ہاشمی نے شکست تسلیم کر لی

مسلم لیگ کا بھی شکرگزار ہوں جس کے ہر کارکن اور لیڈر نے مجھ سے زیادہ محنت کی:جاوید ہاشمی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمسلم لیگ کا بھی شکرگزار ہوں جس کے ہر کارکن اور لیڈر نے مجھ سے زیادہ محنت کی:جاوید ہاشمی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں قومی اسمبلی کے حلقہ 149 میں ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عامر ڈوگر نے جماعت کے سابق صدر جاوید ہاشمی کو شکست دے دی ہے۔

یہ نشست جاوید ہاشمی کے استعفے کے بعد ہی خالی ہوئی تھی اور انھوں نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے جیتنے والے امیدوار کو مبارکباد دی ہے۔

اس حلقے میں کل 17 امیدواروں نے جمعرات کو ہونے والے انتخاب میں حصہ لیا اور مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے سابق رہنما عامر ڈوگر 58142 ووٹ لے کر سب سے پہلے نمبر پر رہے۔

ان کے مقابلے میں جاوید ہاشمی نے 47222 ووٹ لیے۔ پیپلز پارٹی نے بھی اس حلقے سے ڈاکٹر جاوید صدیقی کو ٹکٹ دیا تھا لیکن وہ قابلِ ذکر ووٹ حاصل نہ کر سکے۔

نتائج سامنے آنے کے بعد ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے اپنی شکست تسلیم کی۔

انھوں نے کہا ’مجھے جو نتائج چاہیے تھے وہ سامنے نہیں آرہے تھے۔ میں نے اسی وقت کہہ دیا تھا جو انتخاب جیتے گا میں اسے مبارکباد دوں گا۔‘

عامر ڈوگر کی انتخابی مہم چلانے کے لیے تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی ملتان آئے تھے

،تصویر کا ذریعہASIM TANVEER

،تصویر کا کیپشنعامر ڈوگر کی انتخابی مہم چلانے کے لیے تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی ملتان آئے تھے

جاوید ہاشمی نے کہا کہ ’عامر ڈوگر جیت گئے ہیں اور میں انھیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔‘

سینیئر سیاستدان نے اس موقع پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کیا: ’میں مسلم لیگ کا بھی شکرگزار ہوں جس کے ہر کارکن اور لیڈر نے مجھ سے زیادہ محنت کی۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تطا کہ ’وقت کم تھا۔ 10 سے 12 دن کی مہم تھی، مسلم لیگ کو کھل کر کام کرنے کا موقع نہیں ملا، میں نے مسلم لیگ چھوڑی تھی ظاہر ہے ان کو مجھ سے گلہ بھی تھا۔‘

جاوید ہاشمی نے یہ بھی کہا کہ عامر ڈوگر کی حمایت کے لیے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت میدان میں موجود تھی۔

خیال رہے کہ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے الیکشن سے چند دن قبل ملتان میں بہت بڑا حکومت مخالف جلسہ بھی کیا تھا جس میں عامر ڈوگر بھی شریک ہوئے تھے۔

اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد تین لاکھ 41 ہزار سے زائد تھی اور پولنگ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہی۔

سکیورٹی کے لیے ملتان پولیس اور ایلیٹ فورس کے چار ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے جب کہ پولنگ سٹیشنوں کی سکیورٹی کی ذمےداری رینجرز کے حوالے تھی

،تصویر کا ذریعہASIM TANVEER

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی کے لیے ملتان پولیس اور ایلیٹ فورس کے چار ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے جب کہ پولنگ سٹیشنوں کی سکیورٹی کی ذمےداری رینجرز کے حوالے تھی

اس حلقے کے 286 میں سے 109 پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا تھا۔

سکیورٹی کے لیے ملتان پولیس اور ایلیٹ فورس کے چار ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ پولنگ سٹیشنوں کی سکیورٹی کی ذمےداری رینجرز کے حوالے تھی۔

دفعہ 144 کے تحت حلقے میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی تھی جبکہ ضلع بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔